تاریخی سفرناموں کے متون کی بازیافت: ڈاکٹر روبینہ پروین کی عمدہ کاوش

اردو ادب میں سفرنامے کی صنف ہمیشہ بے اعتنائی کا شکار رہی ہے۔مگر خوش قسمتی سے اب اس صنف کو چند ایسے ناقدین میسر آ گئے ہیں ۔جو اس صنف کی تخصیص کرتے ہوئے مسلسل تاریخی متون کی بازیافت کے عمل میں مصروف ہیں ان ہی ناقدین میں ایک اہم نام ڈاکٹر روبینہ پروین کا ہے۔روبینہ پروین بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردو میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں ۔ آپ کی دلچسپی کا موضوع سفرنامہ کی صنف ہے ۔ انھوں نے بہ طور خاص خواتین سفرنامہ نگاروں کو موضوع تنقید بنایا اس موضوع پر نہ جانے کیوں مرد حضرات لکھتے ہوئے گھبراتے ہیں ۔ سفرناموں کے حوالے سے ان کی دوسری کتاب ''برطانوی ہند میں مسلم خواتین کے یک روزہ اردو سفرنامے ''(مشمولہ تہذیب النسواں 1898تا 1947)خاصی اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع اور اور مواد کے لحاظ سے تاریخ میں گم شدہ ان متون کی بازیافت کا عمل ہے جو اردو ناقدین کی عدم پذیرائی کی وجہ سے منصئہ شہود پر جلوہ گر نہیں ہو سکے ۔ اس کتاب میں انھوں نے خواتین کے لیے تخصیص کردہ مجلے تہذیب النسواں سے خواتین کے یک روزہ سفرناموں کو ترتیب دیا ہے ۔

عصر حاضر میں نئے تنقیدی مباحث اس بات کے متقاضی ہیں کہ قدیم متون کو نوتاریخی تناظر میں دیکھا اور پرکھتا جائے۔ ڈاکٹر روبینہ پروین کی یہ کاوش اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ انھوں نے اس عہد کے ناقد و قاری کے لیے ان تمام متون کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا ہے ۔ یہ تمام متون برطانوی نوآبادیاتی ہندوستان کے تناظر میں تحریر کیے گئے اس لیے ان سفرناموں میں اس مخصوص عہد کی جھلک نظر آتی ہے ۔

جن سفر نامہ نگاروں کے سفرنامے اس کتاب میں مرتب کیے گئے ہیں ان میں
رابعہ خانم
ب۔م از پانی پت
مسز سید ظہیر الدین
رضویہ خاتون
سلطانہ بنت قاضی کبیر الدین
اہلیہ مشتاق حسین مراد آباد
گیتی آرا بیگم
بیگم صغرا ہمایوں مرزا
بی بی روح افزا
حبیبہ فاطمہ
نفیس دلہن
عزیزہ خاتون
ام الحلیم مریم
ثروت جہاں
ش۔ب بیگم
مسز ایم۔ این انصاری
راحت آرا بیگم
مبارک دلہن
عصمت آرا بیگم
بیگم یار محمد خان
مہر النساء ہمشیرہ دستگیر
رابعہ امجد خان
افضل بیگم
صوفیا بیگم۔دہرہ دوں
جمیلہ بیگم
صفیہ بیگم
آنسہ ایس پروین
مسز برلاس
رضیہ دلشاد بیگم
نذر سجاد حیدر
محمودہ سلطان
تنویر فاطمہ اور مسز بشارت شامل ہیں
نو آبادیاتی ہندوستان میں خواتین کو معاشرے کا فعال رکن بنانے کے لیے متنوع طریقہ ہائے کار اپنائے گئے ۔ جن میں ایک اہم طریقہ رسائل و جرائد کو خواتین کے حوالے سے مخصوص کرنا اور ان کی مدیر بھی خواتین کا ہونا تھا تاکہ خواتین پڑھنے لکھنے کی جانب متوجہ ہو سکیں ۔ ''تہذیب النسواں '' 1898میں محمدی بیگم کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا۔ یہ ہفتہ وار رسالہ تھا جو نو آبادیاتی عہد کی خواتین کی تعلیم و تربیت کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔
اس لیے یہ سفرنامے جو اس رسالے میں شائع ہوئے وہ خاصے کی چیز ہیں اور پڑھے جانے کے قابل ہیں ۔ ڈاکٹر روبینہ پروین کی یہ تاریخی بازیافت اردو ادب میں ایک نمایاں کارنامہ ہے۔ عصر حاضر کے قاری کو ان متون کا لازمی مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک عہد کی سیاسی ،سماجی ،معاشرتی،معاشی تناظر کو خواتین کے نکتہ نگاہ سے دیکھ اور پرکھ سکیں۔

 

Naeema Bibi
About the Author: Naeema Bibi Read More Articles by Naeema Bibi: 5 Articles with 9593 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.