نبی کریم ﷺ کی دنیا میں آمد

جس مقدس مکان میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، تاریخ اسلام میں اس مقام کا نام‘‘مولد النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم’’(نبی کی پیدائش کی جگہ) ہے، یہ بہت ہی متبرک مقام ہے۔ سلاطینِ اسلام نے اس مبارک یادگار پر بہت ہی شاندار عمارت بنا دی تھی، جہاں اہل حرمین شریفین اور تمام دنیا سے آنے والے مسلمان دن رات محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور صلوٰۃ و سلام پڑھتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب‘‘فیوض الحرمین’’میں تحریر فرمایا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس محفل میلاد شریف میں حاضر ہوا، جو مکہ مکرمہ میں بارہویں ربیع الاول کو‘‘مولد النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم’’میں منعقد ہوئی تھی جس وقت ولادت کا ذکر پڑھا جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ یکبارگی اس مجلس سے کچھ انوار بلند ہوئے، میں نے ان انوار پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ رحمت ِالٰہی اور ان فرشتوں کے انوار تھے جو ایسی محفلوں میں حاضر ہوا کرتے ہیں۔ (فیوض الحرمین)

شرفاء عرب کی عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے گردو نواح دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے دیہات کی صاف ستھری آب و ہوا میں بچوں کی تندرستی اور جسمانی صحت بھی اچھی ہو جاتی تھی اور وہ خالص اور فصیح عربی زبان بھی سیکھ جاتے تھے کیونکہ شہر کی زبان باہر کے آدمیوں کے میل جول سے خالص اور فصیح و بلیغ زبان نہیں رہا کرتی۔

حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں‘‘بنی سعد’’کی عورتوں کے ہمراہ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ کو چلی۔ اس سال عرب میں بہت سخت کال پڑا ہوا تھا، میری گود میں ایک بچہ تھا، مگر فقر و فاقہ کی وجہ سے میری چھاتیوں میں اتنا دودھ نہ تھا جو اس کو کافی ہو سکے۔ رات بھر وہ بچہ بھوک سے تڑپتا اور روتا بلبلاتا رہتا تھا اور ہم اس کی دلجوئی اور دلداری کے لئے تمام رات بیٹھ کر گزارتے تھے۔ ایک اونٹنی بھی ہمارے پاس تھی۔ مگر اس کے بھی دودھ نہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے سفر میں جس خچر پر میں سوار تھی وہ بھی اس قدر لاغر تھا کہ قافلہ والوں کے ساتھ نہ چل سکتا تھا میرے ہمراہی بھی اس سے تنگ آ چکے تھے۔ بڑی بڑی مشکلوں سے یہ سفر طے ہوا جب یہ قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا تو جو عورت رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھتی اور یہ سنتی کہ یہ یتیم ہیں تو کوئی عورت آپ کو لینے کے لئے تیار نہیں ہوتی تھی، کیونکہ بچے کے یتیم ہونے کے سبب سے زیادہ انعام و اکرام ملنے کی امید نہیں تھی۔ ادھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی قسمت کا ستارہ ثریا سے زیادہ بلند اور چاند سے زیادہ روشن تھا، احضرت حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر‘‘حارث بن عبدالعزیٰ’’سے کہا کہ یہ تو اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ میں خالی ہاتھ واپس جاؤں اس سے تو بہتر یہی ہے کہ میں اس یتیم ہی کو لے چلوں، شوہر نے اس کو منظور کر لیا اور حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اس در یتیم کو لے کر آئیں جس سے صرف حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہااور حضرت آمنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہی کے گھر میں نہیں بلکہ کائناتِ عالم کے مشرق و مغرب میں اجالا ہونے والا تھا۔ یہ خداوند قدوس کا فضل عظیم ہی تھا کہ حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی سوئی ہوئی قسمت بیدار ہو گئی اور سرور کائنات صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی آغوش میں آ گئے۔ اپنے خیمہ میں لا کر جب دودھ پلانے بیٹھیں تو باران رحمت کی طرح برکاتِ نبوت کا ظہور شروع ہو گیا، خدا کی شان دیکھیے کہ حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے مبارک پستان میں اس قدر دودھ اترا کہ رحمت ِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی اور ان کے رضاعی بھائی نے بھی خوب شکم سیر ہو کر دودھ پیا، اور دونوں آرام سے سو گئے، ادھر اونٹنی کو دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھر گئے تھے۔ حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے شوہر نے اس کا دودھ دوہا۔ اور میاں بیوی دونوں نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا اور دونوں شکم سیر ہو کر رات بھر سکھ اور چیین کی نیند سوئے۔حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا شوہر حضور رحمت ِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ برکتیں دیکھ کر حیران رہ گیا، اور کہنے لگا کہ حلیمہ! تم بڑا ہی مبارک بچہ لائی ہو۔ حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ واقعی مجھے بھی یہی امید ہے کہ یہ نہایت ہی بابرکت بچہ ہے اور خدا کی رحمت بن کر ہم کو ملا ہے اور مجھے یہی توقع ہے کہ اب ہمارا گھر خیر و برکت سے بھر جائے گا۔حضرت حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم رحمت ِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی گود میں لے کر مکہ مکرمہ سے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے تو میرا وہی خچر اب اس قدر تیز چلنے لگا کہ کسی کی سواری اس کی گرد کو نہیں پہنچتی تھی، قافلہ کی عورتیں حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگیں کہ اے حلیمہ! رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کیا یہ وہی خچر ہے جس پر تم سوار ہو کر آئی تھیں یا کوئی دوسرا تیز رفتار خچر تم نے خرید لیا ہے؟ الغرض ہم اپنے گھر پہنچے وہاں سخت قحط پڑا ہوا تھا تمام جانوروں کے تھن میں دودھ خشک ہو چکے تھے، لیکن میرے گھر میں قدم رکھتے ہی میری بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے، اب روزانہ میری بکریاں جب چراگاہ سے گھر واپس آتیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے حالانکہ پوری بستی میں اور کسی کو اپنے جانوروں کا ایک قطرہ دودھ نہیں ملتا تھا میرے قبیلہ والوں نے اپنے چرواہوں سے کہا کہ تم لوگ بھی اپنے جانوروں کو اسی جگہ چراؤ جہاں حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے جانور چرتے ہیں۔ چنانچہ سب لوگ اسی چراگاہ میں اپنے مویشی چرانے لگے جہاں میری بکریاں چرتی تھیں، مگر یہاں تو چراگاہ اور جنگل کا کوئی عمل دخل ہی نہیں تھا یہ تو رحمت ِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے برکات نبوت کا فیض تھا جس کو میں اور میرے شوہر کے سوا میری قوم کا کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا تھا۔

الغرض اسی طرح ہر دم ہر قدم پر ہم برابر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکتوں کا مشاہدہ کرتے رہے یہاں تک کہ دو سال پورے ہو گئے اور میں نے آپ کا دودھ چھڑا دیا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تندرستی اور نشوونما کا حال دوسرے بچوں سے اتنا اچھا تھا کہ دو سال میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خوب اچھے بڑے معلوم ہونے لگے، اب ہم دستور کے مطابق رحمت ِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی والدہ کے پاس لائے اور انہوں نے حسب توفیق ہم کو انعام و اکرام سے نوازا۔ اپنی دنیا اور آخرت کی کامیابی اور ایمان قوت کو مضبوط کرنے کے لئے نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کی پیدائش کے وقت کے چند ایک معجزے ۔حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر ہونے والے معجزات

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ علیہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے سلسلے میں آیات و کرامات بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں کہ ایوان کسریٰ لرز اٹھا اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے اور دریائے سادہ خشک ہو گیا اور اس کا پانی زیر زمین چلا گیا اور رود خانہ سادہ جسے وادی سادہ کہتے ہیں جاری ہو گیا حالانکہ اس سے قبل اسے منقتع ہوئے ایک ہزار سال گزر چکا تھا اور فارسیوں کا آتشگدہ بجھ گیا جو کہ ایک ہزار سال سے گرم تھا۔

(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۷۲)جب حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے تو اﷲ تعالٰی نے آپ کو پاکیزہ بدن اور تیز بو کستوری کی طرح خوشبودار اور ختنہ شدہ، نان بریدہ، چہرہ نورانی، آنکھیں سرمگیں دونوں شانوں کے درمیان مہرہ نبوت درخشاں پیدا فرمایا۔ (سیرت رسول عربی ص ۴۳) حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر اﷲ تعالٰٰی نے آپ کی والدہ ماجدہ پر ایک روشن بادل ظاہرفرمایا کہ جس میں روشنی کے ساتھ گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے اڑنے کی آوازیں تھیں اور کچھ انسانوں کی بولیاں تھیں اور اعلان ہوا کہ محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو مشرق و مغرب اور سمندروں کی بھی سیر کراؤ تا کہ تمام کائنات کو ان کا نام اور حلیہ اور ان کی صفت معلوم ہو جائے اور ان کو تمام جاندار مخلوق یعنی جن و انس ملائکہ اور چرندوں پرندوں کے سامنے پیش کرو اور تمام انبیاء اکرام کے اخلاق حسنہ سے مزین کرو اور اس کے بعد وہ بادل چھٹ گئے ستارے قریب آ گئے اور منادی نے اعلان کیا کہ واہ واہ کیا خوب محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو تمام دنیا پر قبضہ دے دیا اور کائنات عالم کی کوئی چیز باقی نہ رہی کہ جو ان کے قبضہ اقتدار و غلبہ اطاعت میں نہ ہو پھر تین شخص نظر آئے ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت تیسے کے ہاتھ میں ایک چمکدار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبی دھو کر حضور کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی پھر آپ کو ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آپ کی والدہ ماجدہ کے سپرد کر دیا گیا۔ (مدارج النبوۃ ج ۲ ص ۴۲، ۵۲، ۶۲، الخصائص الکُبریٰ ج ۱ ص ۷۹۔ سیرت مصطفٰی ص ۹۵، ۰۶۔ قصص الانبیاء ص ۱۰۴)

ولادت شریف کے وقت غیب سے عجیب و غریب امور ظاہر ہوئے اور آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے نور سے حرم شریف کی پست زمین اور ٹیلے روشن ہو گئے اور آپ کے ساتھ ایک ایسا نور خارج ہوا کہ شام کے محلات نظر آ گئے اور آسمانوں پر پہلے شیاطین چلے جاتے تھے اور کاہنوں کو بعض مغیبات کی خبر دے دیتے تھے اور وہ لوگوں کو کچھ اپنی طرف سے ملا کر بتا دیا کرتے تھے لیکن حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے آسمانوں میں ان کا آنا جانا بند ہو گیا اور آسمانوں کی حفاظت شہاب ثاقب سے کر دی گئی تو اس طرح وحی اور غیر وحی میں غلط ملط ہو جانے کا اندیشہ جاتا رہا۔ شہر مدائن میں محل کسریٰ پھٹ گیا اور اس کے چودی کنگرے گر پڑے اور فارس کے آتشکدے ایسے سرد پڑ گئے کہ ہر چند ان میں آگ جلانے کی کوشش کی گئی مگر نہ جلتی تھی۔ بحیر سادہ جو ہمدان و قم سے درمیان ایک بلکل خشک ہو گیا وادی سادہ جو شام و کوفہ کے درمیان تھی جو کہ بلکل خشک ہو پڑی تھی لبالب بہنے لگی۔
(سیرت رسول عربی ص ۶۳، دین مصطفیٰ ص ۵۸)
 

Dr Tasawar Hussain Mirza
About the Author: Dr Tasawar Hussain Mirza Read More Articles by Dr Tasawar Hussain Mirza: 294 Articles with 246730 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.