خوش نصیب حکمران، بدنصیب عوام

پہلا حرف سوچنا، لکھنا اور کہنا کس قدر مشکل ہے۔ سوچ کی آغوش سے نکلا حرف حرمت کی میزان لے کر پیدا ہوتا ہے۔ حرف قلم سے نکلتا ہے اور سوچ ذہن و دل سے اور دل کا مکالمہ لفظ ہے، حرف ہے۔

قلم کی قسم حرف کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے سو معمولی سی لغزش محرم کو مجرم اور مجرم کو محرم بنا دیتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سچ لکھا جائے کیونکہ حالات غیر معمولی ہیں، معاملات قابل فہم مگر ناقابل تحریر۔

وطن عزیز کو مالی، معاشی آزادی تو کبھی نہ ملی مگر اب معاشی غلامی کی جن زنجیروں میں ہم جکڑے جا چُکے ہیں اُس کا ذمہ دار کون ہے؟ سوال تلخ ہے اور حقائق سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری۔

سوویت یونین کیسے ٹوٹا اور افغانستان موجودہ صورت حال میں کیسے پہنچا، ایران کی اقتصادیات کو زک کس نے پہنچائی جبکہ بنگلہ دیش ترقی کی منازل کیسے طے کر گیا اور انڈیا کے زرمبادلہ نے کھربوں ذخائر کیسے بنائے، اس کے لیے نہ تو کسی تحقیق کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی مخصوص نظریے کی سوائے اس کے کہ ہم جان لیں کہ ریاستیں جمہوریت اور سیاسی استحکام سے معاشی استحکام اور جغرافیائی سلامتی یقینی بناتی ہیں۔

بے بہا قرضوں میں جکڑے نہ تو ہم معاشی آزادی حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی ’ابسولیوٹلی ناٹ‘ ہمیں غلامی سے نجات دلا سکتا ہیں۔

’ہم کوئی غلام ہیں‘ کے نعرے نہ تو ہمیں اربوں ڈالرز کے قرضوں سے نجات دلا سکتے ہیں اور نہ ہی ’حقیقی آزادی‘ پلیٹ میں رکھ کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے بینک دولت پاکستان میں مطلوبہ ذخائر درکار ہیں جو دستیاب نہیں اور جیب بھی ایسی پھٹی ہوئی کہ جو سکے آئیں وہ بھی نکل جائیں۔

معیشت کبھی اچھی نہ رہی مگر موجودہ صورتحال پریشان کُن ہے۔ عوام مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں اور معمولی اشیا بھی عوام کی پہنچ سے دور۔۔۔ نہ کل دودھ اور شہد کی نہریں تھیں نہ ہی اب روٹی کپڑا اور مکان عوام کی رسائی میں ہیں مگر حالات اس قدر بدتر ہوں گے یہ وہم و گمان میں نہ تھا۔

افواہوں کا بازار گرم ہے اور موجودہ بے یقینی کو ختم کرنے میں حکومت یا تو قطعی طور پر دلچسپی نہیں رکھتی یا اضطراب کو بھانپنے کی صلاحیت سے محروم۔

ایک طرف سوویت یونین کی مثالیں تو دوسری طرف ریاست کی اکائیوں پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی جانب سے معاشی مطالبے پورے نہ ہونے کے صورت وفاق پر چڑھائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

ہر سطح پر ہر طرح کی تقسیم شدت اختیار کر رہی ہے تو دوسری جانب مغربی سرحد پر بے امنی وبال بن رہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان ایک بار پھر سر اٹھا چکی ہے اور اے این پی کے ایمل ولی خان کو حالیہ دھمکیاں اس غیر معمولی خطرے کی جانب اشارہ کر رہی ہیں جس کا بروقت احساس ضروری ہے۔

کمزور معیشت کا خوف ریاست کے لیے ڈراؤنا خواب ہے تو اندرونی بحران تلخ حقیقت، اس سب کے درمیان نفسیاتی وار فیئر جس کا مقابلہ ریاست اور عوام کو مل کر کرنا ہے مگر سیاسی تفریق ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

نہ تو ہم سوویت یونین ہیں اور نہ ہی ہماری پالیسیاں پیریستروكا (کم حکومتی کنٹرول) اور گلاسنوست (شفافیت) کی معاشی پالیسی ہو سکتی ہیں۔

ہم ایک جمہوری ملک تھے اور باوجود آمریتوں اور کنٹرولڈ جمہوریت کے عوامی سطح پر اب بھی جمہوریت پسند معاشرہ ہیں۔ کسی معاشی بحران یا سانحے کے منتظر موقع پرست یاد رکھیں کہ اُن کے سیاسی مفادات بھی ریاست کے ساتھ ہی جُڑے ہیں۔

اس وقت حکومت میں نو سیاسی جماعتوں کی شمولیت ہے جس میں لسانی، مذہبی، علاقائی اور قومی جماعتوں کی نمائندگی ہے اور یہ بلامبالغہ تاریخ کی واحد حکومت ہے جس میں تمام جماعتیں پہلی بار اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود آئین کے ایک صفحے پر ایک ساتھ ہیں۔ اسے سیاسی مجبوری کہیں یا ریاستی ضرورت مگر اب انہیں عوام کی توقعات اور ریاستی ضروریات پر پورا اترنا ہے۔

مقدمات کے چنگل سے آزاد ہوتے خوش نصیب حکمران بدنصیب عوام کو صرف دلاسے کب تک دیں گے؟

موجودہ معاشی صورت حال کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت پارلیمان کے پلیٹ فارم پر نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بُلائے جس میں عمران خان صاحب کو بھی دعوت دی جائے اور موجودہ مسائل پر اعتماد سے فیصلے لیے جائیں۔

ساتھ ہی ساتھ معاشی بحران کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ’سچائی کمیشن‘ بھی تشکیل دیا جائے جو عوام کو آگاہ کرے کہ کن معاشی پالیسیوں اور کن شخصیات کے باعث آج مملکت اس جگہ اور مقام پر پہنچے ہیں کہ جہاں آگے کھائی اور پیچھے سمندر ہے۔

 
 
Partner Content: BBC Urdu
عاصمہ شیرازی
About the Author: عاصمہ شیرازی Read More Articles by عاصمہ شیرازی: 20 Articles with 32641 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.