پاکستان ریلوے ڈوب رہا ہے کچھ سیلاب نے تو کچھ حکمرانوں
نے اس قومی ادارے کو تباہ کیا خیرسے سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے متاثر
ہونے والے ابھی تک بے سہارا کھلے آسمان تلے شدید سردی میں حکومتی دعووں اور
وعدوں کی تکمیل کی راہ تک رہے ہیں ریلوے یونین کے صدر کا خط شائع کرنے سے
پہلے ڈار کے ڈالر پر کچھ بات کرلیتے ہیں جنکا دعوی تھا کہ وہ ڈالر کا ریٹ
کم کرینگے مگر ڈالر کے مسلسل بے قابو ہوتے ہوئے ریٹ نے ہماری معیشت پر برے
اثرات ڈالنا شروع کردیے ہیں اس وقت ڈالر کے سرکاری اور مارکیٹ ریٹ میں غیر
معمولی فرق سے غیر ملکی ترسیلات کی آمد کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو نے کے
قریب ہے اس کے نتیجہ میں نئے معاشی چیلنجز پیدا ہوں گے تقریبا 225روپے کے
سرکاری ریٹ کے برعکس مارکیٹ میں ڈالر 255روپے میں فروخت ہو رہا ہے جس سے
صنعتی خام مال کی خریداری کیلئے ایل سی کھل نہیں جسکے بعد صنعتوں کے بند
ہونے کا سلسلہ تیز ہو رہا ہے معاشی تجزیہ نگار آئندہ چند ماہ تک صنعتوں کی
بندش، بے روزگاری میں اضافہ اور برآمدات میں بھی 1ارب ڈالر ماہانہ کمی کی
پیشگوئی کررہے ہیں اور یہ صورتحال پاکستان کی کمزور معیشت کو تباہی کے
دھانے تک پہنچانے کیلئے کافی ہو گی کیونکہ ڈالر کے سرکاری اور نجی ریٹ کے
تفاوت کا اثر نہ صرف ایل سی اور امپورٹ ایکسپورٹ بزنس پر پڑ رہا ہے بلکہ
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کی آمد
بھی مکمل طور پر رک گئی ہے اور وہ اپنی ترسیلات سرکاری چینل کی بجائے حوالہ
ہنڈی کے ذریعے بھیج رہے ہیں ڈالر کے سرکاری اور مارکیٹ ریٹ میں فرق کی وجہ
سے بلیک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا حجم بڑھ رہا ہے حکومتی محاصل میں کمی کے
علاوہ برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوں رہی ہیں مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت
کو روکنے کی بجائے اس کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑ دیا جائے تاکہ اس کی بلیک
میں خریدو فروخت اور افغانستان سمگلنگ کی روک تھام کی جا سکے معیشت کو
حالیہ بحران سے نکالنے کیلئے فوری اور حقیقت پسندانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے
سات ساتھ مرکزی حکومت کو سندھ اور بلوچستان میں بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی
جہاں حالات کنٹرول سے باہر ہورہے ہیں اور سیلاب متاثرین شدید سردی میں کپڑے
بیچ کر انکی خدمت کرنے والوں کی راہ تک رہے ہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد
علی شاہ نے بھی شہرِ قائد میں امن و امان کی خراب صورتحال کا اعتراف کرنے
کے ساتھ ساتھ ابھی تک سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کا بھی ذکر کیا
کہ کچھ علاقوں میں مسئلہ ہے ورلڈ بینک بھی پیسہ دے رہا ہے صوبائی اور وفاقی
حکومت بھی ایک گھر کے لیے تین لاکھ روپے دیگی اسی طرح بلوچستان کی صورتحال
ہے حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسان اور
حیوان کے درمیان امتیاز ختم ہوگیا ہے پانچ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باجود
سیلاب اور بارشوں کا پانی نہیں نکالا جا سکا شدید گرمی کا تو انہوں نے ڈٹ
کر مقابلہ کیا اور اب شدید سردی میں متاثرین کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں
اپنے کپڑے بیچ کر غریبوں کی خدمت کرنے والوں نے عوام کو بیچ چوراہے میں
ننگا کررکھا ہے جبکہ پنجاب حکومت احساس پروگرام کے تحت سیلاب متاثرین کی
بحالی کیلئے 10ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کررہی ہے اب تک سیلاب متاثرین کی
آبادکاری کے لئے 5ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں عمران خان کی ٹیلی تھون سے
حاصل ہونے والے فنڈز بھی سیلا ب متاثرین کی بحالی پر صرف کیے گئے ہیں ۔36
ہزار متاثرہ خاندانوں کو ادائیگی ہو چکی ہے پرویز الہی کا بھی کہنا ہے کہ
وفاقی حکومت نے پنجاب کے سیلاب متاثرین کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ انہوں نے
پنجاب کے سیلاب متاثرین کویکسر تنہا چھوڑے رکھا مگرحکومت پنجاب نے صوبے کے
80لاکھ خاندانوں کیلئے 100ارب روپے کی خطیر رقم سے احساس راشن رعایت
پروگرام شروع کیاہے سیلاب متاثرین کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین بلخصوص
ریلوے ملازمین کا بھی برا حال ہے ریلوے یونین کے مرکزی صدر شیخ انور نے خط
لکھا کہ وفاقی حکومت کے پاس ریلوے ملازمین کے لیے تنخواہوں، پنشن اور
ریٹائر ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کیلئے پیسے نہیں ہیں تو حکومت فوری
طور پر اپنے وزراء، مشیروں، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، وزراء
اعلیٰ، صدراور وزیراعظم کی تنخواہیں بند کردیں کیونکہ پی ڈی ایم میں شامل
تمام جماعتیں عوام کی خدمت کے لیے اقتدار میں آئی تھیں اور اب انکی
پالیسیوں کی بدولت غریب لوگوں کا چولہا بند ہونا شروع ہوگیا ہے 15 دن گزرنے
کے باوجود ابھی تک درجہ چہارم کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونا
ایک سوالیہ نشان ہے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے جاگیرداروں اور سرمایہ
داروں کو ملک کے ملازمین کے مسائل کا احساس ہے اور نہ ہی وہ ان مسائل کو حل
کرنا چاہتے ہیں جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو حقوق سے محروم رکھا گیا تو
بنگلوں میں رہنے والوں کو بھی چین سے نہیں رہنے دیں گے ورلڈ بینک اور آئی
ایم ایف کے دباؤ پر سرمایہ داروں کو نوازنے کیلئے ریلوے کی نجکاری کی
کوششیں کی جارہی ہیں جسے ہم ناکام بنا دینگے کیونکہ ریلوے ملازم متحد اور
منظم ہوکر متحرک ہوچکا ہے ریلوے کے چارٹر کے مطابق ریلوے کمرشل نہیں بلکہ
فلاحی ادارہ ہے فلاحی ادارے نفع و نقصان کی بنیاد پر نہیں بلکہ فلاح و
بہبود کیلئے چلائے جاتے ہیں جن کی کارکردگی حکومتی مالی سپورٹ پر ہی ممکن
ہوتی ہے جس طرح موٹروے، میٹروبس، اورنج ٹرین، سرکاری تعلیمی ادارے
اورہسپتال حکومت کی مالی مدد سے عوام کو سہولیات فراہم کرتے ہیں اسی طرح
ریلوے بھی پاکستان کا سب سے بڑا عوام کو سستی سہولیات فراہم کرنے والا
ادارہ ہے 75 سال سے حکومتوں نے اس ادارے کو اپنے سیاسی مفادات اور فلاحی
ادارے کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن جس مالی مدد کی ریلوے کو حکومت سے
ضرورت تھی ریلوے کو ہمیشہ اس سے محروم رکھا گیاہے ریلوے کو فوری طور پر
پاؤں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ریلوے مضبوط ہوگی تو حکومت بھی معاشی
طور پر مضبوط ہوگی پاکستان ریلوے حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے تباہ
ہوچکی ہے حکومت کو چاہیے کہ بینظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرام سے فوری
طور پر ریلوے ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات کو حل کرے اور غیرملکی امداد
جو سیلاب متاثرہ عوام کیلئے آئی ہے اُس امداد سے ریلوے کی بحالی اور
مزدوروں کی خوشحالی کیلئے امداد کی جائے ۔خیر اندیش شیخ انور مرکزی صدر
پریم یونین پاکستان ریلوے۔ |