ذاتی معاملات میں دخل اندازی پر مقدمہ سے لے کر ذاتی فون نمبر تک، فیروز خان کے معاملے میں صحیح وہ یا اداکار! ایک انوکھی صورتحال

image
 
شوبز کے شعبے سے منسلک ہونے والے افراد میں طلاق ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور بیویوں کی جانب سے شوہر پر تشدد کا الزام عائد کرنا بھی کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ محسن عباس حیدر کا کیس سب ہی کو یاد ہوگا جس کے بعد محسن عباس حیدر کا مختلف چینلز اور اداکاروں نے بھی بائيکاٹ کر دیا تھا اور چینلز نے ان کو پروگرام سے نکال دیا تھا جبکہ اداکاروں نے ان کے ساتھ شو میں بیٹھنے تک سے انکار کر دیا تھا-
 
مگر وقت کے ساتھ اس سارے واقعہ پر اور لوگوں کی یاداشتوں پر گرد بیٹھتی گئی اور کئی سالوں بعد محسن عباس ایک بار پھر ڈراموں میں نظر آئے اور لوگوں نے اس کے کام کو بھی پسند کیا- مگر اس کے باوجود وہ اپنے اوپر سے یہ دھبہ آج بھی صاف نہ کر سکے کہ انہوں نے ایک کمزور عورت پر ہاتھ اٹھایا تھا اور اس پر تشدد کیا-
 
فیروز خان اور علیزے طلاق کیس
گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں میڈيا نے فیروز خان اور علیزے کے درمیان طلاق کی خبر بریک کی اور اس بات کا انکشاف کیا کہ ان دونوں کے درمیان بچوں کی کسٹڈی کو لے کر کیس چل رہا ہے- جس کے بعد دسمبر میں علیزے نے سوشل میڈيا پر ایسی تصاویر شئير کر دیں جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ فیروز خان نے علیزے کو تشدد کا نشانہ بنایا-
 
سوشل میڈيا پر علیزے کی پوسٹ وائرل ہونے کے بعد یاسر حسین، ایمن خان، ثروت گیلانی، فرحان سید، شرمین عبید چناۓ، عاصم اظہر، عثمان خالد بٹ، منال خان اور میرا سیٹھی نے اپنے سوشل میڈيا اکاؤنٹ سے فیروز خان کے اس عمل کی نہ صرف مذمت کی بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے کا بھی بائيکاٹ کر دیا-
 
image
 
اس کے ردعمل کے طور پر فیروز خان نے ان تمام ساتھی اداکاروں کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا کیس داخل کر دیا ہے جس کے مطابق ان اداکاروں نے اس کی شہرت کو نقصان پہنچایا ہے اور وہ اس سے معافی مانگیں-
 
اس کے بعد فیروز خان نے اس نوٹس کی کاپی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شئير کر دیا جس میں ان اداکاروں کا نہ صرف ایڈریس لکھا ہوا ہے بلکہ اس میں ان کے ذاتی فون نمبر بھی موجود تھے-
 
اس پوسٹ کے ذریعے ان اداکاروں کے نمبر پبلک ہونے کے بعد ان اداکاروں نے نہ صرف فیروز خان کے اس عمل کی شدید مذمت کی بلکہ ان کے خلاف ان کی ذاتی معلومات پبلک کرنے کی غلطی کرنے پر معافی کا مطالبہ کر دیا-
 
قصور وار کون؟ اداکار یا فیروز خان
اس وقت اس سارے معاملے نے سوشل میڈيا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور سوشل میڈيا فیروز خان اور دیگر اداکاروں کے درمیان میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا ہے جہاں پر فیروز خان نے اداکاروں کی ذاتی معلومات سوشل میڈيا پر شئير کرنے کے بعد سے اگرچہ خاموشی اختیار کر لی ہے- مگر ہر ہر اداکار اس وقت عوام کی جانب سے تنگ کیے جانے کے اسکرین شاٹ کے ساتھ ساتھ فیروز خان کے خلاف بیانات شئير کر رہا ہے-
 
سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں غلط کیا ہوا؟
یہ معاملہ فیروز خان اور علیزے کی طلاق کا تھا جو کہ عوام کو یا میڈيا میں آنے سے قبل ہی عدالت تک جا چکا تھا۔ اس سارے معاملے میں کس نے کہاں غلطی کی اس حوالے سے ایک جائزہ پیش کرتے ہیں-
 
1: جب معاملہ عدالت میں تھا تو علیزے نے فیروز خان کے تشدد کرنے کے ثبوت عدالت کے بجائے میڈيا میں کیوں شئير کیے؟
 
image
 
2: عدالت کو جب پتہ چلا کہ یہ ثبوت سوشل میڈيا پر شئير ہو چکے ہیں تو انہوں نے فریقین کو اس بات پر پابند کیوں نہیں کیا کہ معاملہ عدالت میں ہے تو اس کو سوشل میڈيا پر نہ ڈسکس کریں-
 
3: عامر لیاقت کی ویڈيو کے وائرل ہونے کے بعد ان کی موت سے ابھی تک سب ہی افسردہ ہیں ۔ کیا ایسے واقعات سبق دینے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ ہم آج بھی ایک دوسرے کو سوشل میڈيا پر ٹرول کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے ہیں-
 
4: سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم دوسروں کے عیب اس طرح سب کے ساتھ شئير کریں؟
 
5: فیروز خان اپنے غصے اور جذبات قابو میں نہ رکھنے کے سبب اپنا گھر اپنے بچے اور کسی حد تک اپنا کیرئير بھی کھو چکے ہیں کیا انہوں اس کے بعد ہوش کے ناخن نہیں لینے چاہیے تھے اور تمام اداکاروں کو اس نوٹس کو سوشل میڈيا پر شئير کر کے اپنا دشمن نہیں بنانا چاہیے تھا-
 
6: کیا ہم سب نے سوشل میڈيا کو غلط استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم کسی کے بھی معاملے میں کچھ بھی کر سکتے ہیں؟
 
یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے یہی کہتے ہیں کہ پہلے تولو اور پھر بولو اب بھی وقت ہے عدالت کو چاہیے کہ اس سارے معاملے کو سوشل میڈيا پر شئير کرنے سے روک دے ورنہ کہیں ہم ایک بار پھر عامر لیاقت جیسا بڑا نقصان نہ اٹھا بیٹھیں -
YOU MAY ALSO LIKE: