اب اسرافیل بے روزگار نہیں ہوگا!

آج شہر در شہر اک نئے ہنگامے میں جان آئی ہے کہ بے صدا صبح پھر لوٹ آئے گی۔ روحیں پریشانیِ آلام سے دہک اٹھیں گی۔ آوازوں کے پیروں میں زنجیروں کا جھنکار ہوگا۔ بجھتی شمعوں سے دھواں اٹھے گا، اور بے پناہ خوف میں رویائے شکستہ کی فغاں اٹھے گی ۔۔۔۔ شاید اِسی رات اور اِسی شام ہی یہ عفرِیتَ دروازے پر دستک دے گا، کہ اس پیڑ پر بوم کا سایہ ہے۔ اس پیڑ پر پہلے بھی بوم کا سایہ تھا اور آسیب نے اس برگد پر اپنے ڈیرے جمالیے تھے۔ اس برگد کے نیچے آدم زاد کے ہاتھوں کئی مقتول آدم زادوں کی قبریں ہیں۔ اس برگد پر مقبوض آسیب نے آدم زادوں کے ساتھ ساتھ اسرافیل کو بھی خودکشی کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اسرافیل خودکشی کیوں نہ کرتا۔ بے چارہ کافی عرصے سے جو بے روزگار تھا!

اسرافیل نے بے روزگار ہونے کے بعد زندہ رہنے کے بجائے مرنے کو ترجیح دی، اور انسانوں نے خوشیاں منانے کے بجائے آنسو بہانا شروع کردیا۔ اب اسرافیل حرفِ ناتمام کی طرح ساکت اپنے صور کے پہلو میں خوابیدہ پڑا ہے۔ اسرافیل کی موت میں غمگین چرند پرند، جِن و اِنس، اور زمین و آسمان سب اوندھے پڑے ہیں۔ اسرافیل کی مروت قابلِ تعریف ہے کہ اس کی ذمے داری ایک آمر نے اپنے ہاتھوں میں لے لی تھی۔ انسانوں کی پریشانی بھی بجا تھی کہ وہ آمروں پر معمولی تنقید کرنے کی وجہ سے اپنے جیسے آدم زاد کے ہاتھوں مرکر بے وقت قیامت برپا کرنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ سب اکٹھے مرنا نہیں چاہتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ سارے اس جہنم میں رہنا پسند نہیں کرتے تھے، مگر جو لوگ جنت میں رہنا چاہتے تھے ان کی تعداد بہت کم تھی۔
ا
س حالت میں ان چند باشعور اور زندہ دل انسانوں نے اَجل کو دعوت دی کہ وہ آکر ان لوگوں پر نگاہِ کرم کریں جو اہلِ صلات ہیں نہ اہلِ شراب، اہلِ کتاب ہیں نہ اہلِ حساب، اہلِ ادب ہیں نہ اہلِ مشین۔ جو منفی زیادہ ہیں اور انسان کم ہیں۔ یہ ملک جنگل بن گیا ہے اور اس کے باسی پتھر بن گئے ہیں۔ اس جنگل پر سورج نے درآنا چھوڑ دیا ہے۔ اس جنگل میں بوئے آدم زاد تک نہيں رہی۔ اس جنگل میں اجسام کے بجائے روحیں آباد ہوگئی ہیں۔ ان روحوں نے کام کرنے کے بجائے خواب دیکھنا اور بیچنا شروع کردیا ہے ۔۔۔۔ آزادیِ کامل کے خواب ۔۔۔۔۔ نئے آدم زاد کی ولادت کے خواب!

نئے آدم زاد کی ولادت ہوجاتی ہے۔ نیا آدم زاد ژولیدہ مو ہے۔ نئے آدم زاد کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں اور ان کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں۔ نئے آدم زاد پر رقت طاری ہے اور زندگی سے ڈرتا ہے۔ نیا آدم زاد اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتا ہے، ان کی بے بسی کو یاد کرتا ہے، ان کی زبان بندی کو یاد کرتا ہے، ان کے خوابوں کو یاد کرتا ہے، ان کے آدمی سے ڈرنے کو یاد کرتا ہے اور پھر اپنی ولادت کو یاد کرتا ہے۔۔۔۔۔

نہیں! میں زندگی سے نہیں ڈرتا ہوں، میں آدمی سے نہیں ڈرتا ہوں، میں زبان بندی سے نہیں ڈرتا ہوں۔ آدمی تو میں بھی ہوں۔ میں جاگ جاؤں گا، میں لب کھول دوں گا۔ میں سارے آدم زادوں کو ساتھ ملا لوں گا۔ میں شہر بسا کر اسرافیل کو دوبارہ سے زندہ کرالوں گا۔

اگلی صبح نئے آدم زاد نے نذرانہء جان لایا تھا، یعنی زندہ ہونے کا نشان لایا تھا۔ شبِ زفافِ ابو لہب گزر چکی تھی۔ ابولہب کی دلھن نے سر پر ایندھن اور گلے میں سانپوں کا جو ہار لائی تھی، سب کچھ غبارِ خاک بن کر بکھر چکا تھا۔ آدم زاد جشن منا رہے ہیں۔

نئے آدم زاد کا نام حَسن ہے اور تخلص کوزہ گر ہے۔ حَسن کوزہ گر نے دہائیوں کے جمود کے بعد انگڑائی لی ہے۔ جہاں زاد کی محبت نے رنگ لائی ہے۔ صبحِ نو کی کرنیں جہانِ نو کی نوید دلاتی ہیں۔ حَسن کوزہ گر اور جہاں زاد گلے ملائے اپنے کوزوں، مینا، جام، سبو اور صراحیوں کے گرد دھمال ڈالے جش منا رہے ہیں۔ ابولہب بانجھ ہوگیا ہے۔ اسرافیل کو اپنا روزگار واپس مل گیا ہے۔ اب بولنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اب آدم زاد کے ہاتھوں آدم زاد پر بے وقت قیامت نہیں آۓ گی۔ اب ایک آدم زاد صور نہیں پھونک سکتا۔ اب ایک آدم زاد عزرائیل سے ملی بھگت نہیں کرسکتا۔ اب ایک آدم زاد زمین کو لپیٹنے کے لیے ریافیل کو نہیں بلا سکتا۔ اب انسان مساویِ لا نہیں، اب عوام مساویِ لا نہیں۔ اب آمر مساویِ لا ہے، زبان بندی مساویِ لا ہے، صدارتی نظام مساویِ لا ہے اور امریت مساویِ لا ہے۔

آج ن۔م راشد منوں مٹی تلے سکھ کا سانس لے رہا ہوگا کہ اب ابولہب واپس نہیں آئے گا، اب اسرافیل دوبارہ بے روزگار نہیں ہوگا، اب حَسن کوزہ گر کوزے بنانا نہیں چھوڑے گا۔ اب صبحیں بے صدا نہیں ہوں گی۔ اب آوازوں کے پیروں میں زنجیروں کا جھنکار نہیں ہوگا۔ اب آدم زاد آزاد ہوں گے۔ اب شہر آباد ہوں گے۔

شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا، پاک ہوگیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہوگیا آخر، خاک ہوگیا آخر
ازدحامِ انسان سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے راہرو کا خون لپکے
اک نیا جنون لپکے
آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
شہر پھر بسے دیکھو!


 

Prof. Fazal Tanha Gharshin
About the Author: Prof. Fazal Tanha Gharshin Read More Articles by Prof. Fazal Tanha Gharshin: 4 Articles with 1695 views Lecturer in Urdu at govt degree college Pishin.. View More