عام میٹل ڈیٹیکٹر سے دو کلو سے زائد سونا دریافت٬ یہ خوش قسمت شخص کون تھا اور لاکھوں ڈالر دیکھ کر اس نے کیا کہا؟

image
 
آسٹریلیا میں ایک شخص نے عام میٹل ڈٹیکٹر کی مدد سے ایک ایسی چٹان ڈھونڈ نکالی ہے جس میں دو لاکھ چالیس ہزار آسٹریلوی ڈالر مالیت کا سونا موجود تھا۔
 
اس شخص کو، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا، یہ پتھر وکٹوریہ کے گولڈ فیلڈز سے ملے۔ یہ وہی علاقہ ہے کہ جو 19ویں صدی میں سونے کی تلاش کا مرکز رہ چکا ہے۔
 
اس پتھر کی مالیت کا اندازہ لگانے اور پھر اسے خریدنے والے ماہر ڈیرن کیمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے 43 سالہ کریئر میں ایسی دریافت نہیں دیکھی۔
 
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ایسی چیز زندگی میں ایک بار ہی ملتی ہے۔‘
 
ڈیرن کیمپ کے مطابق عموماً لوگ ان کے پاس سونے جیسی دکھائی دینے والی دھاتیں لے کر آتے رہتے ہیں لیکن جب وہ شخص ایک بڑا بیگ لیے ان کی دکان پر پہنچا تو انھیں اندازہ نہیں تھا کہ اس میں سے ایسی چیز بھی برآمد ہو سکتی ہے۔
 
’اس نے بیگ سے پتھر نکالا اور مجھے دے کر بولا، کیا آپ کے خیال میں اس میں دس ہزار ڈالر کا سونا ہو سکتا ہے۔ میں نے اسے دیکھا اور کہا ایک لاکھ ڈالر کی بات کرو۔‘
 
image
سونا خریدنے والے ماہر ڈیرن کیمپ
 
ڈیرن کے مطابق پھر اس شخص نے انھیں بتایا کہ اس کے پاس ایسا ہی ایک اور پتھر بھی ہے۔ اس شخص کے پاس موجود پتھروں کا وزن چار کلو چھ سو گرام تھا اور اس سے 83 اونس یا دو کلو چھ سو گرام سونا نکالا گیا۔
 
ڈیرن کیمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب یہ پتھر لاکھوں ڈالر کی ادائیگی کے عوض اس شخص سے خرید لیے تو وہ بولا ’ارے واہ، میری بیگم بہت خوش ہو گی۔‘
 
آسٹریلیا میں اگرچہ اس طرح کی دریافتیں نایاب ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق آسٹریلیا میں دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر ہیں اور وہاں پہلے بھی سونے کے بڑے ڈلے مل چکے ہیں۔
 
Partner Content: BBC Urdu
YOU MAY ALSO LIKE: