زمان پارک جانے والے بےوقوف ہیں کیونکہ٬ سابق انڈین جج کے پاکستانی سیاستدانوں اور سپریم کورٹ کے خلاف ایسے جملے کہ دونوں ملکوں میں تہلکہ

image
 
’اگر پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی تو اسے توہین عدالت کی بنا پر بلکل ویسے ہی ہٹا دینا چاہیے جیسے یوسف رضا گیلانی کو صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے توہین عدالت پر ہٹا دیا گیا تھا۔‘
 
’پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار بالکل ویسے ہی ہے جیسا فٹبال میچ میں ریفری کی جانب سے (کھیل کے کسی اصول کی خلاف ورزی پر) دی جانے والی پینلٹی (سزا) کو تسلیم نہ کرنا۔ اگر ایسا کیا گیا تو کھیل آگے کیسے بڑھ پائے گا؟‘
 
یہ بیانات انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کے ہیں جو حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بیانات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بھی بنے ہوئے ہیں اور تنقید کی زد میں بھی ہیں۔
 
نواز شریف، مریم نواز اور پی ڈی ایم پر ذاتی حملوں سے لے کر سپریم کورٹ کو قانونی مشورے دینے والے اور سیاسی تبصرے کرنے والے جسٹس مرکنڈے حالیہ دنوں میں کافی فعال اور متنازع رہے ہیں۔
 
ان کے انھی بیانات کے باعث تحریک انصاف کے لیڈر اور حامی ان کی تعریف کرتے پائے جا رہے ہیں جبکہ حکومتی اتحاد کے حامی ان پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔
 
جسٹس مرکنڈے کے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بیانات
ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نظر دوڑائیں تو بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی بحران اُن کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
 
مثال کے طور پر 14 مارچ کو انھوں نے لکھا کہ ’جو بیوقوف۔۔۔ زمان پارک جا رہے ہیں ان کو لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس جادو کی چھڑی ہے جس سے پاکستان میں غربت، بھوک، بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘
 
واضح رہے کہ ماضی میں جسٹس مرکنڈے انڈیا کی 90 فیصد آبادی کو بھی ’بیوقوف‘ قرار دے چکے ہیں۔
 
21 مارچ کو جسٹس مرکنڈے نے ٹوئٹر پر پیش گوئی کی کہ ’پاکستان کے سیاسی بحران کا انجام مارشل لا کی شکل میں نکلے گا۔‘
 
28 مارچ کو انھوں نے پاکستان کے آئین کو ہی ’مذاق‘ قرار دے دیا جبکہ 29 مارچ کو انھوں نے پاکستانی عوام کو مشورہ دیا کہ وہ پی ڈی ایم اور الیکشن کمیشن کے گھروں اور دفاتر کے باہر دھرنا دے کر 30 اپریل کو الیکشن کروانے پر مجبور کر دیں ورنہ ’خود کو مرد نہ کہلائیں۔‘
 
30 مارچ کو انھوں نے پاکستان کی سپریم کورٹ سے مایوسی کا اظہار اپنے ایک کالم میں کیا۔
 
image
 
31 مارچ کو جسٹس مرکنڈے نے پاکستان کی سپریم کورٹ کو بند کرنے کا ہی مشورہ دے ڈالا جبکہ دو اپریل کو انھوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے بارے میں متنازع الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ ’ان دونوں کو عمر قید کی سزا ہونی چاہیے تھی۔‘
 
انتخابات میں التوا کا کیس جب سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا تو انھوں نے لکھا کہ ’پاکستان کے آئین میں واضح ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں تو بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے لیکن پھر بھی پانچ دن سے عدالت میں ڈرامہ چل رہا ہے۔‘
 
اور چار اپریل کو فیصلے کے بعد انھوں نے ’پاکستان سپریم کورٹ زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا۔
 
image
 
جسٹس کاٹجو اور متنازع بیانات: ’میں آپ کو خوش کرنے کے لیے دو اور دو پانچ نہیں کہوں گا‘
شاعری سے شغف رکھنے والے جسٹس مرکنڈے کاٹجو کے لیے متنازع بیانات دینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
 
انڈیا میں ان کی شناخت کی ایک وجہ سوشل میڈیا پر ایسے ہی معاملات پر بے لاگ تبصرے ہیں۔ لیکن ان کے یہ بیانات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں۔
 
وہ انڈیا ری یونیفیکیشن ایسوسی ایشن کے پیٹرن بھی ہیں۔ اس غیر سرکاری تنظیم کا مقصد انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کو پُرامن طریقے سے ایک سیکولر حکومت کے تحت پھر سے ایک کرنا ہے۔
 
گذشتہ سوموار بی بی سی کے دلی میں موجود نمائندہ شکیل اختر نے ان سے رابطہ کیا۔ واضح رہے کہ بی بی سی نمائندہ اور جسٹس کاٹجو کی یہ گفتگو سپریم کورٹ کی جانب سے 14 مئی کو الیکشن کروانے کے حکم سے قبل ہوئی تھی۔
 
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ پاکستان پر تبصرے اور کمنٹس اِدھر اُدھر دیکھ کر کرتے ہیں یا آپ پاکستان میں کسی سے بات بھی کرتے ہیں تو جسٹس کاٹجو نے جواب دیا کہ ’پاکستان میں ہمارے کئی دوست ہیں جن سے ہم سکائپ پر بات کرتے ہیں، ای میل کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔‘
 
اس موقع پر انھوں نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا کہ پاکستان اور انڈیا ایک ہی ہیں۔ ’میرا موقف صاف ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک ملک ہیں۔ یہ جو بٹوارا ہوا تھا، وہ انگریزوں کا فراڈ تھا۔ اسے آگے چل کر ہم پھر ایک کریں گے کیونکہ ہمارا کلچر ایک ہے۔ ہم لوگ مغلوں کے زمانے سے ایک تھے، دیکھنے میں ایک ہیں، بات چیت میں ایک ہیں۔‘
 
’پاکستان کی سپریم کورٹ بھی سیاست کر رہی ہے‘
 
image
 
پاکستان کی سپریم کورٹ پر تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے سرکاری اہلکاروں کو طلب کر کے ان سے صورتحال کے بارے میں استفسار کر کے فیصلے کے عمل کو غیر ضروری طور پر طول دیا۔‘
 
’سپریم کورٹ سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ کو سمن کر کے کیا معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے؟ یہ اہلکار وہی موقف اختیار کریں گے جو حکومت کا موقف ہے۔ سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن وہ بھی سیاست کر رہی ہے۔‘
 
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی اپنی مدت ملازمت میں ایک ہفتے میں جسٹس کاٹجو نے سو سے زیادہ مقدمات کا فیصلہ سنا دیا تھا جس پر وہ شہ سرخیوں کا حصہ بنے تھے۔
 
جسٹس کاٹجو نے کہا کہ ’اس بنیاد پر انتخابات کو موخر کرنا کہ انعقاد کے لیے پیسے نہیں ہیں یا یہ کہ سکیورٹی فورسز شدت پسندی محالف مہم میں مشفول ہیں، ناقابل قبول دلیل ہے۔‘
 
انھوں نے کہا کہ ’یہ سب فضول کی باتیں ہیں۔ کیا پاکستان ان کاروائیوں سے رُکا ہوا ہے۔ کیا معاشی دقتوں کے سبب فوج، پولیس اور سرکاری ملازموں کو تنخواہیں رُکی ہوئی ہیں؟ اگر اس بنیاد پر انتخابات مؤخر کیے جانے لگے کہ پیسے نہیں ہیں تب تو جب مرضی ہو اسے عذر بنا کر انتخاب مؤخر ہوتے رہیں گے۔ یہ سب ایک تماشہ ہے۔‘
 
image
 
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ انڈیا کی سپریم کورٹ کے جج کے معزز عہدے پر مامور رہ چکے ہیں تو کیا کسی سابق وزیر اعظم اور ان کی سیاست دان بیٹی مریم نواز کے لیے غیرمناسب الفاظ استعمال کرنا زیب دیتا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا ’ان کے خلاف سبھی کچھ پانامہ پیپرز میں آ چکا ہے، ان کے خلاف کرپشن کے مقدمے درج کیے جا چکے ہیں، اس میں شک کہاں ہے؟‘
 
انھوں نے کہا کہ ’میں دو اور دو ملا کر چار کہتا ہوں، تو اگر آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ میں آپ کو خوش کرنے کے لیے دو اور دو پانچ نہیں کہوں گا۔‘
 
’جو سچی بات ہے، وہ سخت ہوتی ہے۔ جو سچی بات ہے وہ میں کہوں گا، چاہے وہ آپ کو اچھی لگے یا بری لگے۔‘
 
جسٹس مرکنڈے کون ہیں؟
سنہ 1946 میں پیدا ہونے والے جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا تعلق لکھنؤ کے ایک سرکردہ خاندان سے ہے۔ 1968 میں انھوں نے الہ آباد میں بطور ایڈوکیٹ کام کرنا شروع کیا اور 1991 میں وہ جج بنے۔ 2004 میں ان کو الہ آباد ہائی کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس نامزد کیا گیا۔
 
اسی سال ان کو مدراس ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا جبکہ ایک سال بعد وہ دلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔
 
سنہ 2006 میں جسٹس مرکنڈے کی تعیناتی بطور جج انڈیا کی سپریم کورٹ میں ہوئی۔
 
وہ اپنے سخت بیانات کی وجہ سے اکثر تنازعوں میں گھرے رہے ہیں۔
 
ایک بار انھوں نے کہا تھا کہ اںڈیا کی 90 فیصد آبادی بے وقوف ہے۔ انھوں یہ بھی کہا تھا 20 فیصد مسلم اور 20 فیصد ہندو متعصب ہیں۔
 
بنیادی حقوق کے ایک معاملے میں انھوں نے ایک طاالب علم کو سکول کے ضوابط کے خلاف داڑھی رکھنے کے حق کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا اس سے ملک میں طالبائنیشن کو فروغ ملے گا۔
 
بعد میں انھوں اس فیصلے اور کمنٹ پر اظہار تاسف کیا تھا۔
 
سنہ 2011 میں جسٹس مرکنڈے ریٹائر ہوئے لیکن سوشل میڈیا پر وہ فعال زندگی گزار رہے ہیں جہاں صرف ٹوئٹر پر ان کے چار لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔
 
Partner Content: BBC Urdu
YOU MAY ALSO LIKE: