میں نے ایک بار خودکشی کرنے کا سوچا اور... امیتابھ کی فلم میں 49 سیکنڈ کے کردار نے کیسے متھن چکرورتی کی قسمت پلٹ دی

image
 
متھن چکرورتی ان چند انڈین اداکاروں میں سے ایک ہیں جنھیں پہلی ہی فلم پر بڑا ایوارڈ ملا تاہم ان کے لیے کام کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن صدارتی ایوارڈ جیتنے کے بعد بھی متھن چکرورتی کو امیتابھ بچن کی ایک فلم میں صرف 49 سیکنڈ کا کردار ملا۔

بعد میں متھن اتنے کامیاب ہوئے کہ ’اگنی پتھ‘ میں انھوں نے امیتابھ کے مد مقابل برابر کا کردار ادا کیا۔

یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ انھیں ’غریب پروڈیوسرز‘ کے لیے ’امیتابھ بچن‘ کے طور پر شہرت ملی۔

اگر یہ کہا جائے کہ متھن کی زندگی تضادات کی کہانی ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔

انھیں بیان کرنے کے لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انتہائی بائیں بازو کے کارکن، سڑک پر سو کر جدوجہد کرنے والا اداکار جسے بین الاقوامی شہرت ملی، کامیاب بزنس مین، بی گریڈ فلموں میں کام، نیشنل ایوارڈ یافتہ اور متنازع سیاستدان۔

وہ خود کہہ چکے ہیں کہ ’میں ایک کوبرا ہوں۔‘ مگر اس سب کے باوجود متھن کو کسی ایک جملے میں بیان کرنا ایک مشکل کام ہے۔
 
image
 
نکسل تحریک سے لے کر فلموں تک
16 جون 1950 کو پیدا ہونے والے متھن جوانی میں کولکتہ میں انتہائی بائیں بازو یا نکسل ازم کی سرگرمیوں سے وابستہ تھے۔

11 ستمبر 1969 کو 19 سال کی عمر میں متھن اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر بمبئی آئے۔ دوستوں کی مدد سے ایف ٹی ٹی آئی میں داخلہ لیا۔ اسی سال سینیئر ڈائریکٹر مرنال سین بھی کانووکیشن میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

مرنال سین کی نظر ایک لمبے قد کے لڑکے پر پڑی۔

وائلڈ فلمز انڈیا کے ایک آرکائیو انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں رشی کیش مکھرجی جیسے لوگ تھے لیکن ہمارا خیال کیے بغیر یہ لڑکا اپنی ساتھی لڑکیوں کے ساتھ ایسے مذاق کر رہا تھا جیسے اسے کوئی شرم ہی نہ ہو۔ یہ بات میرے ذہن میں رہ گئی۔ ایک اچھے اداکار کی پہچان یہ ہے کہ وہ شرمیلا نہ ہو، اسے کوئی جھجک نہ ہو۔‘

’میں نے رشی کیش سے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ بنگالی لڑکا ہے اور ایک اچھا اداکار ہے۔ دو سال بعد میں بنگالی فلم مریگیا بنا رہا تھا، جس میں مجھے ایک قبائلی نوجوان کی تلاش تھی۔ مجھے اس لڑکے کا چہرہ یاد آ گیا۔ میں نے اپنے کیمرہ پرسن کو دو سال پہلے بتایا تھا کہ ایک بنگالی لڑکا ایف ٹی ٹی آئی سے نکلا ہے، لمبا و سیاہ، اسے ڈھونڈ کر تصویر بھیج دو۔‘

ان دنوں متھن بمبئی میں جدوجہد کر رہے تھے۔ جب فلموں میں کام نہیں ہوتا تھا تو وہ ہیلن کے ڈانس گروپ میں شامل ہو جاتے تھے اور مختلف تقاریب میں ڈانس کرتے۔

پھر انھوں نے اپنا نام بدل کر رانا ریز رکھ لیا۔

اسی دوران مرنال سین کے کیمرہ مین نے رانا ریز یعنی متھن کو ڈھونڈ لیا اور تصاویر مرنال سین کے حوالے کر دیں۔

کچھ دنوں بعد متھن بن بلائے مرنال سین کے پاس پہنچ گئے اور اس طرح مرنال نے ایک غریب قبائلی نوجوان کے کردار میں متھن کو سائن کیا۔

اس طرح فلم انڈسٹری میں متھن کی انٹری ہوئی اور انھیں پہلی ہی فلم ’مریگیا‘ میں نیشنل ایوارڈ ملا۔
 
image

امیتابھ کی فلم میں 49 سیکنڈ کا رول
متھن کی تعریف تو بہت ہوئی لیکن ’مریگیا‘ کے بعد انھیں کوئی کردار نہیں ملا۔ سنہ 2010 میں بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو میں متھن چکرورتی نے کہا کہ ’وہ دور بہت بُرا تھا۔ میری کارکردگی کو سراہتے ہوئے سب یقین دہانی کراتے تھے لیکن کام کوئی نہیں دیتا تھا۔‘

اگر آپ نے سنہ 1976 میں امیتابھ بچن اور ریکھا کی فلم ’دو انجانے‘ دیکھی ہے تو اس میں ایک سین ہے جس میں امیتابھ بچن شراب پی کر گھر لوٹتے ہیں اور گلی میں ایک شخص امیتابھ کے ساتھ لڑتا ہے۔

یہ منظر مجموعی طور پر صرف 49 سیکنڈ کا ہے۔ اگر آپ توجہ نہ دیں تو شاید آپ کو معلوم بھی نہ ہو کہ یہ شخص متھن ہیں۔

سنہ 1977 اور 78 میں متھن فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار کرتے رہے۔ انھوں نے 1978 میں راجیش کھنہ کی فلم ’امردیپ‘ میں بھی ایک چھوٹا سا کردار نبھایا۔

تقریباً 12 سال قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں متھن نے کہا تھا کہ ’ایک وقت تھا جب مجھے لگا کہ مجھے خودکشی کرنی چاہیے۔ میرا رنگ سیاہ تھا۔ اس لیے میں سوچ میں پڑ گیا۔ میں نے سوچا کہ مجھے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ لوگ میری رنگت پر توجہ نہ دیں۔‘

’اسی دوران 1979 میں میری فلم ’میرا رکشک‘ ہٹ ہو گئی۔ لوگوں نے میرے ڈانس اور فائٹ کو پسند کیا۔ لوگ پہلے سوال کرتے تھے کہ یہ ہیرو بنے گا؟ بعد میں وہی لوگ مجھے سیکسی کہنے لگے۔‘
 
image

دریں اثنا متھن بھی اپنا انداز تیار کر رہے تھے جس میں ڈانس اور مارشل آرٹ کا ایکشن شامل تھا۔

رنجتا کے ساتھ فلم ’سُرکشا‘ ہٹ رہی تھی جس میں متھن نے گن ماسٹر کا کردار ادا کیا تھا، جو آج بھی مشہور ہے۔ پھر 1982 میں ’ڈسکو ڈانسر‘ آئی جس میں جمی کے کردار نے متھن کو سابق سوویت یونین اور چین سمیت کئی ممالک میں بین الاقوامی سٹار بنا دیا۔

’ڈسکو ڈانسر‘ کے گانے آج بھی کئی ممالک کے کلبوں میں چلائے جاتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں آپ کو جمی کے نام سے کوئی بار یا ریستوران نظر آئے گا۔ گذشتہ سال چین میں ’جمی، جمی‘ احتجاجی ترانے کے طور پر سامنے آیا۔

’پیار جھکتا نہیں‘ جیسی فلموں نے متھن کو ایکشن سے ہٹ کر جذباتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ایک وقت ایسا آیا جب متھن کی کم بجٹ اور چھوٹے بینر کی فلمیں تقریباً امیتابھ بچن کی بڑے بینر کی فلموں کے برابر کمانے لگیں۔ اسی وجہ سے انھیں غریب پروڈیوسرز کا امیتابھ بچن کہا جاتا تھا۔
 
image

امیتابھ بچن کے ساتھ خاص تعلق
مصنف رام کمل مکھرجی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’80 کی دہائی بہت مشکل تھی۔ راتوں رات سپر سٹار بننے والے متھن ایک ایسے وقت میں آئے جب لوگوں نے خوبصورتی اور نفاست کی پرواہ کرنا چھوڑ دی تھی۔ وہ اوور دی ٹاپ، ڈرامائی اور جذباتی مواد سے خوش تھے اور متھن اس کے چیمپیئن تھے۔‘

پھر وقت بدل گیا۔

امیتابھ کی فلم ’دو انجانے‘ میں 49 سیکنڈ تک کام کرنے والے متھن نے ’اگنی پتھ‘ میں امیتابھ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا اور فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

متھن وہ اداکار تھے جنھوں نے ’ڈسکو ڈانس‘ کیا اور 1992 کی بنگالی فلم ’تہیدر کتھا‘ کے لیے نیشنل ایوارڈ بھی جیتا تھا۔

سنہ 1995 میں انھوں نے کمرشل فلم 'جلاد' کے لیے فلم فیئر میں بہترین ولن کا ایوارڈ جیتا اور 1999 میں ’سوامی وویکانند‘ کے لیے تیسرا نیشنل ایوارڈ جیتا۔

لیکن متھن کی زندگی کا ایک اور رُخ بھی ہے۔ جب متھن مقبولیت کے عروج پر تھے تو وہ سب کو چھوڑ کر اوٹی چلے گئے۔ وہاں انھوں نے ہوٹل کا کاروبار شروع کیا۔ ان کا شمار ایک کامیاب ہوٹلر کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔

یہ وہی دور تھا جب انھیں بی گریڈ فلموں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا- اس کے لیے آپ کو’دادا گیری‘، ’چندال‘، ’شیرے ہندوستانی‘، ’چیتا‘، ’فوجی راج‘ اور ’راون راج‘ جیسی فلمیں دیکھنا ہوں گی۔
 
image

متھن کی ان فلموں نے نئی آڈیئنس پیدا کی مگر ان کے کٹر پرستار مایوس ہوئے اور ان پر فلموں کا معیار گرانے کا الزام لگایا۔

اس معاملے پر متھن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کم بجٹ کی فلموں میں ضرور کام کیا تھا۔ لیکن اس بنیاد پر انھیں اے گریڈ یا بی گریڈ کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔‘

’ایک اداکار جو فلم سازی کی معاشیات کو نہیں سمجھتا، وہ فلاپ ہو جائے گا۔ میں نے اپنی حالت کا اندازہ لگانے کے لیے وہ فلمیں اپنے ہاتھ میں لیں۔ لیکن ان تمام چھوٹی، بڑی یا فلاپ فلموں کی وجہ سے میں آج اس مقام تک پہنچا ہوں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متھن کے بیٹے کہتے ہیں کہ ’جب میں 90 کی دہائی میں سکول میں تھا، ہم اوٹی میں رہتے تھے۔ صبح وہ پولیس والے کے کپڑوں میں ہوا کرتے تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ پولیس میں ہیں۔ شام کو لیڈر کے کپڑوں میں ہوتے تھے۔‘

’ایک دن وہ رام کرشنا پرمہنس کے کپڑوں میں تھے۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ آدمی ایک کام بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک اداکار ہیں اور ایک دن میں چار شفٹوں میں کام کرتے تھے۔ انھیں دیکھنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ آتی تھی۔‘

آپ کو ایک ہی شخص میں متھن کے بہت سارے مداح اور نقاد بھی ملیں گے۔ ایک طرف ان کے پاس گوتم گھوش کے ساتھ ’گڑیا‘ اور نصیر شبانہ کے ساتھ ’ہم پانچ‘ جیسی فلمیں بھی ہیں۔

دوسری جانب ’دیا‘ اور ’طوفان‘ جیسی فلمیں ہیں جن میں ایک مردہ متھن کے دماغ کو ڈیپ فریز سے نکال کر ایک برین ڈیڈ ہیروئن کے دماغ میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ متھن کی ماضی کی زندگی کی تمام تفصیلات اور راز سے پردہ اٹھایا جا سکے اور قاتل کا پتا چل سکے۔

اداکار سے سیاستدان
اداکار متھن چکرورتی کے ساتھ لوگوں نے لیڈر متھن چکرورتی کا چہرہ بھی دیکھا ہے۔

بنگال میں رہتے ہوئے متھن کو کور کرنے والے سینیئر صحافی پی ایم تیواری کہتے ہیں کہ ’پہلے متھن کو بائیں بازو کی پارٹی کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ 1986 میں، اس وقت کی جیوتی باسو حکومت کے دوران، انھوں نے کولکتہ میں سیلاب زدگان کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا جس میں وہ امیتابھ بچن کو بھی لے کر آئے تھے۔ انھوں نے 2009 میں پرنب مکھرجی کے لیے انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ بعد میں ترنمول کانگریس نے انھیں راجیہ سبھا کا رکن بنایا حالانکہ وہ پارلیمنٹ میں کم ہی نظر آتے تھے۔‘

تاہم شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ میں نام آنے کے بعد متھن نے 2016 میں سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ وہ شاردا کمپنی کے برانڈ ایمبیسیڈر تھے۔

سنہ2021 میں بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب وہ بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا چہرہ بن گئے اور ان کا وہ بیان کافی متنازع ہوا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں سانپ نہیں بلکہ کوبرا ہوں۔ اگر آپ کو کاٹوں گا تو آپ فوٹو بن جائیں گے۔‘
 
image

سنہ 2022 میں انھوں نے کشمیر فائلز میں اہم کردار ادا کیا۔

متھن کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ آئے ہیں لیکن ’عام لوگوں کے ہیرو‘ کا تاج ہمیشہ ان کے سر پر رہا ہے۔

تو متھن چکرورتی کی تعریف کیسے کی جائے؟

شاید اس کا جواب اس دلیل میں ہے کہ متھن کی کہانی ایک متوسط طبقے کے لڑکے کی کہانی ہے جو فٹ پاتھ سے اٹھ کر فلموں میں آیا، جس نے وہ دکھایا جس کو لوگ ’کالا‘ کہہ کر مسترد کرتے تھے۔ انھوں نے عام اور خاص دونوں طرح کے کردار کیے اور وہ بھی کسی گاڈ فادر کی سرپرستی کے بغیر۔

متھن خود کہتے ہیں کہ وہ اپنی پسند سے نہیں، مجبوری سے اداکار بنے۔ مگر لوگ انھیں دیسی بروس لی اور یہاں تک کہ دیسی جیمز بانڈ کہنے لگے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
YOU MAY ALSO LIKE: