عام آدمی

 پاکستان اسلام کے نام ،نہ کہ ’عام آدمی‘ ، کے نام پر قائم ہوا۔ اس کے لئے سب سے بڑی اور سب سے زیادہ قربانیاں ’عام آدمی‘ نے دیں اور آج کے دن تک دے رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ڈھاکہ میں ایک نواب کے گھر پیدا ہوئی اور پھر نوابوں کے گھر میں پیدا ہونے والی اس پارٹی اور پاکستان کے قائم ہونے کے بعد، وجود میں آنے والی باقی یا دوسری سیاسی پارٹیوں کا تعلق بنیادی طور پر، اتفاق کی بات ہے، نوابوں کی حویلیوں یا وڈیروں کے ڈیروں سے رہا ہے۔پاکستان کے پہلے دن سے لے کر آج کے دن تک ریاستِ پاکستان کی بھاگ دوڑ وڈیروں، نوابوں، جاگیرداروں ، سرداروں اور چوہدریوں جیسے خاص لوگوں کے نصیب میں ہی رہی ہے۔

پاکستان کے ’عام آدمی‘ کی قسمت ،کبھی بھی، اتنی اچھی اور خوشگوار نہیں رہی کہ وہ اپنے ہم وطن عام آدمیوں کی قسمت کے معاملے اپنے ہاتھ میں لے سکے۔ پاکستان میں عام آدمی پچھلے پچھتر سالوں سے صرف ہاتھ ہی ملتا رہا ہے۔ وہ اپنی قسمت کا تماشا امیروں کی سر پرست پارلیمنٹ میں ہوتا دیکھتا رہا ہے۔ اسے ہمیشہ یہی سمجھایا گیا کہ ملک کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اوراسے’ عام آدمی‘ کے خون کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے اسے اپنے وطن سے خالص محبت کے ثبوت کے طور پر اپنا خون دینے کہ شدید ضرورت ہے۔ پاکستان کے’ عام آدمی‘ نے ہمیشہ اپنے ملک سے محبت کا ثبوت جان کی قربانی پیش کر کے دیا ہے۔ یہ ’عام آدمی‘ کبھی سرحدوں پر دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوتا ہے، کبھی کوئلے کی کانوں میں دم گھٹنے سے مر جاتا ہے اور کبھی بجلی کے تاروں سے جھول کر اپنے وطن سے محبت کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ کبھی وہ ٹیچر بن کے الیکشن کی پریشانیوں سے بھری ڈیوٹی ادا کرتا ہے اور کبھی مردم شماری میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالتا ہے ۔ کبھی وہ میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کا ملازم بن کے گھر گھر جا کر بچوں کو مہلک امراض سے بچانے کی ویکسینیں لگاتا ہے اور کبھی وہ چھوٹی چھوٹی مزدوریاں کر کے اپنے بوڑھے والدین اور بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ یہ عام آدمی کبھی کبھی اپنی بیوی کو امیروں کے گھروں میں چند ٹکوں کی خاطر کام کرنے کے لئے بھی بھیج دیتا ہے اورکبھی کبھی گارڈ کی وردی میں رائیفل کندھے پے اٹھائے امیروں کے دروازوں پر جان لٹانے کے لئے تیار کھڑا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی خون کا نذ رانہ حقیقت میں بھی پیش کر دیتا ہے لیکن اپنے وطن سے غداری کبھی نہیں کرتا ۔یہ’ عام آدمی‘ کبھی کبھی مکینک بن کر اپنے سارے کپڑے اور جسم کالک سے رنگ لیتا ہے اور یوں وطن کی مشینوں کو ورکنگ کنڈیشن میں رکھنے کا فریضہ ادا کرتا ہے۔ کٹائی کے دنوں میں یہ عام آدمی جھلسا دینے والی دھوپ اور قیامت خیز گرمی میں ملک کے باشندوں کے لئے اناج کاٹتا اور سنبھالتا ہے۔ کبھی کبھی وہ ڈاکیا بن کے دلوں کو دلوں سے ملانے کی ڈیوٹی بھی اداکرتا ہے۔ کبھی کبھی وہ ڈرائیور بن کر دن رات محو سفر رہ کرمصروفِ خدمت رہتا ہے۔کبھی کبھی یہ عام آدمی گلیوں ، چوراہوں اور سڑکوں کے کناروں پر صفائی کرتا بھی دیکھا جاتا ہے۔

اس’ عام آدمی‘ کے خون پسینے کی کمائی سے کبھی بھی محلات تعمیر نہیں ہوئے اور اس کم بخت’ عام آدمی‘ کے پاس نہ کبھی کوئی جادو کی چھڑی آئی اور نہ کبھی الہ دین کا چراغ ہی اس کے ہاتھ لگا۔ خوش قسمتی نے بھی تو ہمیشہ اپنی عنایات امیروں کے عشرت کدوں کے دروازوں پر ہی ڈھیرکی ہیں۔غریبوں کو تو یہ دنیا ، اس مملکتِ خدا داد، میں ہمیشہ مشکل سے مشکل ہی نظر آئی ہے۔ ان کے لبوں پے اکثر یہی الفاظ رہے ہیں:
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
امیر تو ہوائی جہازوں میں اڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں جب کہ’ عام آدمی‘ تو بس یہی کہتا پھرتا ہے:
جینا یہاں، مرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں
ہمارے ملک میں ’عام آدمی‘ کی حالتِ زار مرزا غالبؔ کے اس مصرعے میں بیان کی جا سکتی ہے:
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا
یہاں ہر روز آدم و حوا کی اولاد خطِ غربت سے نیچے سے نیچے سے نیچے چلی جا رہی ہے اور افسوس صد افسوس کہ ان کے اس خوفناک خط سے اوپر تو کیا اوپر کو بھی آنے کی کوئی آس امید قریب قریب نظر نہیں آ رہی۔ غریبوں یا تھرڈ کلاس کا تو دنیا کے آغاز ہی سے اﷲ ہی وارث رہا ہے۔ لیکن اب مڈل کلاس بھی آہستہ آہستہ بلکہ تیزی سے اﷲ کے سپرد ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ معیشت ہے کہ وینٹی لیٹر سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی اور امن وامان تو خیر پہلے ہی الامان ! الامان! پکار رہا ہے۔

اس سارے تناظر کا بظاہر بینی فشری ’خاص آدمی‘ یعنی امیرآ دمی ہی محسوس ہو رہا ہے لیکن شاید یہ امیر آدمی کی بھی غلط فہمی ہو کہ جب غریب ہی نہیں رہیں گے تو اسے امیر کون سمجھے گا، یا وہ کس کے تناظر میں امیر کہلائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے یہ بھی پتہ ہونا چاہیئے کہ اس کا وجود بھی غریبوں کی اساس پر استوار ہے۔ غریبوں کی زندگی میں اگر خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں گی تو ان کا شور اور بے سکونی امیروں کی آرام گاہوں بلکہ خواب گاہوں کا سکون بھی برباد کر دے گی۔دنیا کی بساط پر ہونے والے واقعات انسان کی تاریخ کہلاتے ہیں اور یہ واقعات علاقائی ہونے کے ساتھ ساتھ عالم گیرانداز کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر حالات میں یکسانیت آ جائے گی تو واقعات میں بھی یکسانیت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یعنی ایک کیفیت میں اگر قتل کا ایک واقعہ ہوتا ہے تو ایسی ہی کیفیت میں قتل کا دوسرا واقعہ بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی دو جمع دو چار ہوتے ہیں اور ہوتے ہی رہتے ہیں۔بات کا مقصد یہ کہ اگر ایسے حالات میں انقلاب ِفرانس اور انقلاب ِ روس جیسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں تو ایسے حالات دوبارہ رونما ہونے کی صورت میں ان جیسے انقلابات دوبارہ بھی تاریخ عالم کا حصہ بن سکتے ہیں۔اگرچہ یہ منزل ابھی دور محسوس ہوتی ہے، لیکن افسوس اور خدشے کی بات یہ ہے کہ ہم بطورِ قوم جا اُدھر ہی رہے ہیں جدھر آگے سے انقلابات آ جاتے ہیں۔ اﷲ نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو اور اس بھیانک انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ہم اپنا رستہ بدل لیں تا کہ ہماری منزل بھی بدل جائے۔

ایسا تبھی ہو سکتا ہے کہ ہم ’عام آدمی‘ کی کچھ نہ کچھ عزت ضرور کریں۔ اسے زندہ رہنے کے اسباب مہیا کرنا ریاست کی ذمہ واری ہے۔ یہ بات صدیوں پرانی حقیقت ہے کہ معاشرے اور ریاست میں ہمیشہ دولت اور دولت مندوں کا ہی طوطی بولا ہے اور بولنا بھی چاہیئے کہ وہ اس کے حق دار ہیں۔ دولت مندوں کی دنیا میں ہمیشہ اور ہر معاشرے میں عزت افزائی ہوئی ہے جب کہ غریب کی جورو سب کی بھابھی رہی ہے۔

لیکن جب یہ تفاوت حدِ برداشت سے آگے نکل جائے تو پھر نا خوشگوار نتائج برآمد ہونے لگتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے۔’عام آدمی‘ کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی بلکہ مکمل ڈھانچے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ’خاص آدمی‘ یعنی امیر آدمی کو ماس کی حیثیت دی جا سکتی ہے۔ مطلب یہ کہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر لازم وملزوم ہیں۔ ہڈی کے بغیر ماس کسی کام کا نہیں اور ماس کی بغیر ہڈی بھی کام کرنے میں مشقت میں پڑ جاتی ہے۔’عام آدمی‘ کے استعمال کی چیزیں حتی المقدور سَستی ہونی ضرورہیں۔ خاص آدمی کے استعمال کی خاص چیزیں مہنگی ہو بھی جائیں تو معاشرے میں زیادہ بے سکونی نہیں آتی۔’عام آدمی‘ زندگی نہیں گزارتا بلکہ زندگی اسے گزار دیتی ہے جب کہ ’خاص آدمی‘ زندگی گزارتا نہیں بلکہ زندگی بناتا ہے۔ وہ دنیا کی زندگی ،آخرت کی جنت کی پیروی میں دلکش بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے نہ گرم دھوپ کا سامنا ہے اور نہ ٹھنڈی ٹھار ہواؤں کا ۔ موسموں کی تلخیوں اور مظالم کا شکار تو ’عام آدمی ‘ہی ہوتا ہے۔ حکومت کسی بھی پارٹی یعنی ’خاص آدمیوں‘ کی ہو ، جب بھی بارش ہو تی ہے چھتیں غریبوں یعنی ’عام آدمیوں‘ کی ہی گرتی ہیں۔سڑکوں پے ہونے والے حادثات میں بھی ’عام آدمیوں‘ کا خون بہتا ہے اور جانیں جاتی ہیں۔ خاص آدمی تو ہر آن پناہِ ظاہری و باطنی میں ہوتے ہیں۔ یعنی ’عام آدمی‘ نا صرف دنیا بلکہ قسمت کا مارا بھی نظر آتا ہے۔

’عام آدمی‘ ملک کا اصل او رنمبر ایک باشندہ ہے۔جس کا سب کچھ ، اگر کچھ ہے تو، ملک کی حدود کے اندر اندر ہے۔ اسے تو باہر کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔اس کی مگر مچھوں اور بھیڑیوں جیسی خواہشات بھی نہیں ہیں۔ وہ تو بس دو وقت کی روٹی اور مناسب لباس کی فکر میں مرا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ وہ تو مزیدار کھانوں کا بھی طلب گار نہیں ہے۔وہ یہ چاہتا ہے کہ اسے زندگی کی بنیادی سہولتوں کے لئے کچھ کام مل جائے اور کسی کے آگے اسے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے۔ دوسرے الفاظ میں وہ بس سادگی سے جینا اور عزت سے مر جانا مانگتا ہے۔ اس نے دفن بھی ’عام آدمی‘ کے قبرستان میں ہونا ہے۔ اس کے پاس اپنی قبر تو کیا اپنی فیملی کے رہنے کے لئے بھی جگہ نہیں ہے۔ جبکہ ’خاص آدمیوں‘ کے تو قبرستان بھی علیحدہ ہیں جن کے پیچھے یہ ’عام آدمی‘ اپنے جیسے ’عام آدمیوں‘ کے ساتھ دن رات جھگڑتے رہتے ہیں۔ اپنی توانائی ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جیسوں کے ساتھ اپنے تعلقات بھی خراب کر بیٹھتے ہیں۔ اپنے ذہنوں کو خلفشار کا شکار کرتے ہیں اور اپنی مثبت سوچوں کو منفی سوچوں کی نذر کر دیتے ہیں۔

ہمارے ملک کے ’عام آدمی‘ کو جب تک شعور نہیں آتا ’خاص آدمی‘ کی موج لگی رہے گی۔ اَپر کلاس کے وارے نیارے اور اللے تللے جاری رہیں گے۔ ہمارا اصل باشندہ اپنے حقوق سے بے خبر اور بے پرواہ ہے۔ اس کے شعور کے بیدار ہونے میں ایک لمبا عرصہ درکار ہے جو کہ ابھی چل رہا ہے۔ہمارا اصل باشندہ یعنی ’عام آدمی‘ جب اپنی حیثیت سے مجموعی طور پر آشنا ہو گا تب اسے اس کے حقوق مل جائیں گے۔ پروٹوکول ختم ہو جائے گا۔ مراعات کی ڈرامہ بازی رک جائے گی اور استحصال کا نظام اپنی آخری ہچکی لے کر فنا ہو جائے گا۔لیکن ٹریجڈی یہ ہے کہ ہمارا ’عام آدمی‘ ہمارے ’عام آدمی‘ کو اہمیت دینے پر تیار نہیں ہے اور یہ بات ’خاص آدمی‘ کے لئے خوش قسمتی جیسی ہے۔ اﷲ سے دعا ہے کہ ہمارا ’عام آدمی‘ خوابِ خرگوش سے بیدار ہو اور اپنی قسمت کے فیصلے اپنی سوچ اور فکر سے کرے! آمین! ثم آمین!

Niamat Ali
About the Author: Niamat Ali Read More Articles by Niamat Ali: 178 Articles with 283107 views LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More