علم نفسیات کی تلوار جو رشتوں کو کاٹتی ہے

نفسیات کا مطالعہ انسان کو اپنے اور دوسروں کے ذہن کی گھتیاں سلجھانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، مگر یہی علم کبھی کبھی ایک زہریلے تعصّب میں بدل جاتا ہے جہاں ہر شخص کو کیس اسٹڈی سمجھ کر اس کے وجود کو چند نظریات کے تناظر میں پرکھا جانے لگتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جس نے جدید معاشرے میں انسانی تعلقات کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا ہے، جہاں ہمدردی کی بجائے تجزیہ، فہم کی بجائے فیصلہ، اور قبولیت کی بجائے تنقید کو فوقیت دی جاتی ہے۔ نفسیات کے علم نے جہاں ہمیں اضطراب، خوف، اور جنون جیسی کیفیات کو سمجھنے میں مدد دی ہے، وہیں اس نے ہمارے اندر ایک ایسی بالادستی کی خواہش بھی پیدا کی ہے جہاں ہم ہر شخص کے رویّوں کو اپنے ذہنی خاکوں میں ڈھالنے پر تُل جاتے ہیں۔ یہ وہ کٹھور حقیقت ہے جسے تسلیم کرنے سے نفسیات کے طالبِ علم اکثر گریزاں ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کو سمجھنے کے بہانے انہیں اپنے مفروضوں کا غلام بنا رہے ہیں۔

فرائیڈ نے کہا تھا کہ "انسان اپنے لاشعور کا اسیر ہوتا ہے،" مگر آج کا نفسیاتی علم رکھنے والا فرد دوسروں کے لاشعور کو اپنی تشریح کا اسیر بنانے پر تل جاتا ہے۔ وہ ہر بات، ہر حرکت، ہر خاموشی کو اپنی کتابوں میں پڑھے گئے پیٹرن میں فٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا یہ نفسیات کا مقصد تھا؟ کیا یودا (Jung) نے اپنے پیروکاروں کو یہ سکھایا تھا کہ وہ اپنے قریبی رشتوں کو "کمپلیکس" کا لیبل لگا کر ان کے ساتھ تعلقات توڑ دیں؟ کیا مسلو (Maslow) کی ہرم آف نیڈز یہ بتاتی ہے کہ ہر فرد کو اس کی "ضروریات" کے تناظر میں جانچا جائے؟ نہیں۔ یہ علم کا غلط استعمال ہے۔ ایک ایسی ذہنی عیاری جس نے انسانی رشتوں کو ایک کھیل بنا دیا ہے۔ جب آپ کسی دوست کی خاموشی کو "سوشل انزائٹی" کا لیبل لگاتے ہیں، کسی رشتے کے ٹوٹنے کو "ایجیکشن ٹروما" کا نام دیتے ہیں، یا کسی کے کیرئیر کے انتخاب کو "پیرنٹل پروجیکشن" سے جوڑ دیتے ہیں، تو آپ دراصل اس شخص کی انفرادیت کو کچل رہے ہیں۔ یہاں فلسفہ نگار نیٹشے کی بات یاد آتی ہے: "جو کوئی عفریت سے لڑتا ہے، اسے خیال رکھنا چاہیے کہ وہ خود عفریت نہ بن جائے۔"

رشتوں کی تباہی کا یہ سلسلہ صرف دوستیوں تک محدود نہیں۔ نفسیات کے نام پر کیا جانے والا یہ تجزیہ کاری کا کھیل شادیوں، خاندانی بندھنوں، اور یہاں تک کہ کیرئیر کے انتخاب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ایک نوجوان جو اپنی پسند کا کیرئیر منتخب کرتا ہے، اسے ماں باپ باغیانہ رویہ یا نوجوانی کی بغاوت کا طعنہ دیتے ہیں۔ ایک بیوی جو اپنے شوہر کی طرف سے جذباتی طور پر غائب ہونے پر شکایت کرتی ہے، اسے وابستگی کے مسائل کا مریض قرار دے دیا جاتا ہے۔ کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ انسان محض ایک کیس نہیں، بلکہ ایک ایسی کائنات ہے جس کی ہر پرت لاکھوں تجربات سے بنی ہے؟ سارتر نے کہا تھا: "انسان اپنے افعال کا مجموعہ ہے،" مگر نفسیات کے علم کے ساتھ کھیلنے والے افراد دوسروں کو ان کے افعال کے معنی تلاش کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ محبت جیسے پاکیزہ جذبے کو بھی ٹاکسن یا ہیلتھی کی کیٹگری میں بانٹ دیا جاتا ہے۔

نفسیات کے اس غلط استعمال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ فرد کو اپنی ذمہ داریوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ جب آپ کسی کے رویے کو نرگسیت، اپنی زندگی اور مقاصد میں لاپرواہ یا سائیکوپیتھی کا لیبل لگا دیتے ہیں، تو آپ دراصل اسے ایک بیمار فرد قرار دے کر اپنے فرائض سے مبرّا ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ نفسیات کا مقصد تھا؟ ہرگز نہیں۔ کارل جنگ نے خبردار کیا تھا: "دوسروں کو سمجھنے کی کوشش میں اپنی ذات کو نظر انداش مت کرو۔" مگر آج ہم دوسروں کو سمجھنے کے بہانے انہیں اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف تعلقات کو تباہ کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک ایسی تقسیم کو جنم دیتا ہے جہاں ہر فرد دوسرے کو نارمل یا ایبنارمل کے پیمانے پر پرکھتا ہے۔

اس سارے بحران کی جڑ میں وہ تکبر ہے جو علم کے ساتھ آتا ہے۔ اریک فروم نے کہا تھا: "علم کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ ہمیں انسانی عجز کو بھولنے پر مجبور کر دیتا ہے۔" نفسیات کا علم رکھنے والے افراد اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا ذہن بھی محدود ہے، ان کا علم بھی نامکمل ہے، اور ان کی تشریحات بھی غلط ثابت ہو سکتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے مفروضوں کو حتمی سچ سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص اگر اپنے دوست کی تنقید پر ناراض ہو جائے، تو نفسیات دان فوراً اسے "ڈیفنس میکانزم" یا "انسیکیور اٹیچمنٹ" کا لیبل لگا دیتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اس کی ناراضگی جائز ہو؟ کیا ہم نے انسانی جذبات کو اتنا پیچیدہ بنا دیا ہے کہ سادہ سچائی بھی نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے؟

یہاں ایک اور گہرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نفسیات کا یہ غلط استعمال دراصل ہمارے اپنے خوفوں کو چھپانے کا ذریعہ ہے؟ جب ہم دوسروں کے بارے میں مفروضے قائم کرتے ہیں، تو شاید ہم دراصل اپنی کمزوریوں، اپنے خدشات، اور اپنی ناکامیوں کو ان پر تھوپ رہے ہوتے ہیں۔ نیٹشے کا ایک اور قول اس تناظر میں گونجتا ہے "جو شخص اپنے شیطانوں سے لڑتا ہے، اسے خیال رکھنا چاہیے کہ وہ خود اُن کا حصہ نہ بن جائے۔" شاید ہم دوسروں کو جانچنے کے پیچھے اپنے اندر کے شیطانوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نفسیات کا علم ہی خطرناک ہے۔ مسئلہ علم نہیں، بلکہ اس کے استعمال کا ہے۔ ہپپوکریٹس نے طب کے شعبے میں جو حلف لیا تھا، کیا نفسیات کے طالبِ علموں کو بھی ایک ایسا ہی عہد کرنا چاہیے کہ وہ علم کو کبھی انسانی وقار کو مجروح کرنے کے لیے استعمال نہیں کریں گے؟ فلسفی کانٹ کی یہ بات اس سلسلے میں مشعلِ راہ ثابت ہے کہ "ہر انسان کو ایک مقصد سمجھو، کبھی ذریعہ نہیں۔" جب ہم دوسروں کو اپنے نظریات کی عینک سے دیکھتے ہیں، تو ہم انہیں ایک ذریعہ بنا لیتے ہیں، اپنی عقل کے جواز کے لیے۔

بلاشبہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ نفسیات کا اصل مقصد انسان کو سمجھنا ہے، نہ کہ اسے فتح کرنا۔ رومی کا یہ شعر شاید ہمیں راستہ دکھا سکتا ہے "تمہاری سوچ کی حد تک ہی دنیا ہے/ اُسے وسعت دو تو صحرا بھی دریا ہو جائے۔" اگر ہم اپنے علم کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اپنے دلوں کو بھی وسعت دیں، تو شاید نفسیات کی یہ تلوار رشتوں کو کاٹنے کی بجائے انہیں مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکے۔ ورنہ، ہماری یہی علمیت ہمیں ایک ایسے ویرانے میں لے جائے گی جہاں ہر شخص تنہا اپنے مفروضوں کے ملبے تلے دب کر رہ جائے گا۔
 

Faisal Raza
About the Author: Faisal Raza Read More Articles by Faisal Raza: 15 Articles with 2888 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.