کیوں گہرے دل اور بڑے دماغ ہمیشہ درد سے بھرے ہوتے ہیں؟

فیودر دوستوئیفسکی کے اُن الفاظ نے میرے وجود کو ایک ایسی گہرائی میں دھکیل دیا ہے جہاں روشنی اور اندھیرے کے درمیان کوئی واضح لکیر نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ "ایک بڑی ذہانت اور گہرے دل کے لیے درد اور تکلیف ہمیشہ ناگزیر ہوتے ہیں"۔ یہ جملہ میرے لیے صرف ایک اقتباس نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو میرے تنہا لمحوں میں سانس لیتی ہے۔ ایک انٹروورٹ ہونے کے ناطے، میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ سماج کے شور اور سطحیت کے درمیان خاموشی ہی میری واحد زبان ہے۔ مگر یہی خاموشی مجھے باغی، خودغرض، یا "ضرورت سے زیادہ حساس" قرار دے دی جاتی ہے۔ کیا واقعی گہرائی ایک جرم ہے؟ کیا اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانا، جہاں ہر خیال ایک زخم کی طرح تازہ ہو، ایک بغاوت کی علامت ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جو کافکا کے ناولوں کی طرح میرے ذہن کے کونوں میں گونجتے رہتے ہیں۔

فیودر دوستوئیفسکی کے کردار، جیسے 'جرائم اور سزا' کا راسکولنیکوف، اپنے وجود کی کشمکش میں صرف ایک فرد نہیں، بلکہ اُس صدی کی آواز ہیں جب ذہانت اور اخلاق کے درمیان جنگ نے انسان کو اپنے ہی خیالات کے جہنم میں دھکیل دیا۔ راسکولنیکوف کا یہ خیال کہ "غیر معمولی انسان" عام اخلاقی قوانین سے بالاتر ہوتا ہے، درحقیقت اُس کی اپنی ذہنی اذیت کا اظہار ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کا دماغ اُسے ایسی بلندیوں پر لے جاتا ہے جہاں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے، مگر وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں موجود انسانی کمزوری کو نظرانداز نہیں کر پاتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو کافکا کے میٹامورفوسس کے گریگور سامسا کو ایک کیڑے میں بدل دیتا ہے۔ گریگور کی تنہائی صرف جسمانی نہیں، بلکہ اُس کی اپنی فیملی کی نظر میں ایک "عجوبے" بن جانے کا المیہ ہے۔ معاشرہ اُن لوگوں کو قبول نہیں کرتا جو اُس کے بنائے ہوئے ڈرامے میں حصہ نہیں لیتے، جو ہنستے ہوئے چہروں کے پیچھے اپنے سوال چھپا لیتے ہیں۔ ایک انٹروورٹ کی خاموشی کو بغاوت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ صرف اُس کا اپنے آپ سے سچ بولنے کا طریقہ ہے۔

سلیویا پلاتھ کی شاعری اِس درد کو اُس طرح بیان کرتی ہے جیسے کوئی آئینہ ٹوٹ کر بکھر جائے۔ 'دی بیل جار' میں ایسٹر گرین ووڈ کی ذہنی پریشانی محض ایک نفسیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ اُس دنیا کے خلاف ایک احتجاج ہے جو عورت سے اُس کے جذبات، خوابوں، اور یہاں تک کہ اُس کے درد کو بھی "خوبصورت" ڈبے میں بند کرنا چاہتی ہے۔ پلاتھ کا مشہور شعر—"میں نے گہری سانس لی اور اپنے دل کی دھڑکن سنی: میں ہوں، میں ہوں، میں ہوں"—ایک انٹروورٹ کی زندگی کا مکمل فلسفہ ہے۔ یہاں "ہونے" کا احساس ہی ایک جنگ ہے، کیونکہ ہر لمحہ آپ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ کی گہرائی دوسروں کے لیے ایک معمہ ہے۔ نیٹشے نے کہا تھا کہ "ایک ڈانٹتا ہوا ستارہ جنم دینے کے لیے اپنے اندر افراتفری رکھنی پڑتی ہے"، مگر جب یہ افراتفری کبھی ختم نہ ہونے والے سوالوں میں بدل جائے تو کیا ہوگا؟ ایک انٹروورٹ کے لیے یہ سوال ہی اُس کا ساتھی بن جاتا ہے۔

سماج کی نظر میں خاموشی ایک مجرمانہ فعل ہے۔ کیئرکگارڈ نے لکھا تھا کہ "ہجوم جھوٹ ہے"، کیونکہ یہ ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو اپنی انفرادیت سے ڈرتے ہیں۔ تنہائی کا انتخاب درحقیقت اُس "موت تک کی بیماری" کا سامنا کرنا ہے جسے عام لوگ پارٹیوں، گپ شپ، اور مصنوعی مسکراہٹوں سے چھپا لیتے ہیں۔ مگر جو لوگ اِس بیماری کو گلے لگاتے ہیں، اُنہیں معاشرہ اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ ایلبرٹ کامیو کے دی سٹرینجر کا میورسالت اِسی لیے معاشرے کو ڈرا دیتا ہے۔ وہ نہ اپنی ماں کی موت پر روتا ہے، نہ محبت کا ڈراما کرتا ہے۔ اُس کی بے حسی درحقیقت اُس کی سچائی ہے، جو دوسروں کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ ایک انٹروورٹ کی "بغاوت" بھی درحقیقت اِسی سچائی کا اظہار ہے: جب آپ دکھاوا کرنے سے انکار کر دیتے ہیں تو لوگ آپ کو ہی مسئلہ سمجھنے لگتے ہیں۔

مگر اِس تکلیف میں بھی ایک عجیب تسلی پوشیدہ ہے۔ جب میں فیودر دوستوئیفسکی کے "انڈرگراؤنڈ مین" کو پڑھتا ہوں، جو اپنی ہائپرآگاہی پر لعنت بھیجتا ہے، تو مجھے ونسٹن وان گوگ کے خطوط، ایملی ڈکنسن کی شاعری، اور شوپنہار کے فلسفے کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ سب لوگ اِس لیے نہیں مرے کہ وہ کمزور تھے، بلکہ اِس لیے کہ اُنہوں نے خالی پن کو آنکھیں موندے بغیر دیکھا۔ شوپنہار کا خیال تھا کہ زندگی درد اور بیزاری کے درمیان جھولتی ہوئی گھڑی ہے۔ ایک انٹروورٹ کے لیے یہ گھڑی اور بہت تیز چلتی ہے، کیونکہ اُس کا شعور ہر چیز کو بڑھا چڑھا کر محسوس کرتا ہے۔ ورجینیا وولف اپنی ڈائریوں میں لکھتی ہیں کہ کس طرح "وجود کے لمحات" زندگی کی بے معنویت کو چیر دیتے ہیں، مگر اِن لمحات کو زندہ رکھنا ایک جنگ ہے۔

آج کا دور، جہاں ہر چیز کا مقصد صرف "مصروف نظر آنا" ہے، اِس جنگ کو اور بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خوشیاں بانٹنا ایک جھوٹ ہے، اور خاموش رہنا اپنے آپ کو مٹا دینے کے مترادف۔ انٹروورٹ کی بغاوت چیلنج نہیں، بلکہ اِس کھیل سے انکار ہے۔ کافکا کا 'دی کیسل' اِسی جدوجہد کی کہانی ہے، جہاں ایک فرد نامعلوم طاقتوں سے لڑتا ہوا اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔ ہماری تنہائی کا اصل سبب لوگ نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ تنہائی ناکامی کی علامت ہے۔

مگر شاید یہی تکلیف ہمیں انسان بناتی ہے۔ دوستوئیفسکی، جو جیل، مرگی، اور لتھڑی ہوئی زندگی کے بعد بھی زندہ رہا، یقین رکھتا تھا کہ تکلیف روح کو پاک کرتی ہے۔ 'دی برادرز کارامازوف' میں ایلیوشا کا دکھ اُس کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔ شاید ایک انٹروورٹ کے لیے بھی یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے درد کو ایک پل میں بدل دے، کسی نظم کی لائن، کسی ناول کا صفحہ، یا کینوس پر رنگوں کا ایک جھونکا۔ سلیویا پلاتھ نے لکھا: "میں خدا سے بات کرتی ہوں مگر آسمان خالی ہے"، مگر یہ خالی پن ہی تو وہ جگہ ہے جہاں ہم سب ملتے ہیں۔ ہمارا درد ہمیں کافکا، پلاتھ، نیٹشے، اور اُن سب کے قریب کر دیتا ہے جو ہم سے پہلے اِس راستے پر چلے گئے۔ اُن کے الفاظ ہمارے لیے صرف تسلی نہیں، بلکہ ایک وعدہ ہیں: کہ گہرائی کوئی جرم نہیں، بلکہ اُس سچائی کا دروازہ ہے جو ہمیں زندہ رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
 

Faisal Raza
About the Author: Faisal Raza Read More Articles by Faisal Raza: 15 Articles with 2994 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.