نواز شریف — آصف زرداری سیاسی ناراضیاں اور وہ خلا جسے عمران خان نے پُر کیا — ایک تاریخی اور عوامی تجزیہ
پاکستان کی سیاست میں عوامی ردِعمل کبھی خالی جگہ سے جنم نہیں لیتا۔ یہ برسوں کے تجربات، دھوکے، طاقت کے غلط استعمال اور احساسِ محرومی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ نواز شریف کے بارے میں عوام کی ناراضگی بھی اسی دیرینہ پس منظر سے اٹھتی ہے—یہ کوئی اچانک یا وقتی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک مسلسل عمل تھا جس نے بالآخر عمران خان کو سیاسی طور پر وہ جگہ دلائی جو کسی اور کے پاس نہیں تھی۔
“ضیاء دور: عوام کا زخم اور نواز شریف کا کردار”
نواز شریف کی سیاسی قوت کا بنیاد جنرل ضیاء الحق کی چھتری کے نیچے رکھی گئی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر شدید ریاستی جبر کیا گیا۔ لوگوں کو جیلوں میں سڑایا گیا، کوڑوں کی سزائیں دی گئیں، اور سب سے بڑھ کر عوام کو اُن کے محبوب لیڈر “ذوالفقار علی بھٹو سے محروم کر دیا گیا”۔ یہ ظلم اور تلخییں پنجاب کے سیاسی شعور میں آج تک محفوظ ہیں۔ نواز شریف اس پورے عمل میں ایک فعال کردار کے طور پر پیش ہوتے رہے، اس لیے عوام نے انہیں ہمیشہ ایک ایسے لیڈر کے طور پر یاد رکھا جو ضیاء کی پالیسیوں کا وارث تھا، نہ کہ عوامی جدوجہد کا نتیجہ۔ “اقتدار میں آکر لوٹ مار کا تاثر — عوام کی جیب پر حملہ” جب نواز شریف خود اقتدار میں آئے تو ان کی پالیسیوں نے عوام کے غصے میں مزید اضافہ کیا۔ قومی خزانہ ہو یا عوام کی جیب—دونوں کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ کوآپریٹو اسکینڈل, پہلی ٹیکسی اسکیم , قرض اتارو ملک سنوارو یہ سب اسکیمیں عوام سے پیسہ نکالنے کا ذریعہ بنیں، جبکہ فائدہ مخصوص طبقات اور خاندانوں کو پہنچا۔ نتیجتاً عوام نے معاشی اور سیاسی سطح پر خود کو مسلسل دھوکے کا شکار محسوس کیا۔
“سیاسی انجینئرنگ اور مینڈیٹ کی چوری — عوام کی توہین”
پیپلز پارٹی برسوں تک پنجاب میں عوامی تائید رکھتی تھی، مگر مینڈیٹ کو بارہا سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔ دھاندلی کے ذریعے نواز شریف کو طاقت دی گئی، جبکہ عوام کا حق پیپلز پارٹی سے چھینا جاتا رہا۔ “بینظیر بھٹو کو بھی بار بار راستے سے ہٹایا گیا”—یہاں تک کہ آخرکار وہ ایک سانحے کے ذریعے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئیں۔ ان کی شہادت نے پورے ملک میں ایک شدید “سیاسی ویکیوم “ پیدا کر دیا۔ یہ خلا محض قیادت کا نہیں تھا، بلکہ اعتماد، امید اور نمائندگی کا خلا تھا۔
کرپشن کا بیانیہ: “مسٹر 10 پرسنٹ” کا ٹھپا
ضیاء اور شریف دور میں سرکاری مشینری، میڈیا اور مخالفین نے آصف زرداری پر مسلسل کرپشن کے الزامات لگائے۔ “مسٹر 10 پرسنٹ” جیسی اصطلاح اس قدر دہرائی گئی کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ اسے سچ مان بیٹھا—چاہے عدالتوں میں ثابت نہ ہو سکی۔ یہ بیانیہ اتنا طاقتور تھا کہ زرداری کبھی اس داغ سے باہر نہ آ سکے۔
پنجاب میں بھٹو کی مقبولیت — مگر زرداری کا متبادل نہ بن پانا بھٹو اور بینظیر پنجاب کی سیاست کے دل میں تھے۔ لیکن زرداری ان دونوں کی طرح عوامی، کرشماتی، یا جدوجہد کا نشان نہیں تھے۔ بینظیر کی شہادت کے بعد جو جذباتی خلا تھا، زرداری کو اس مقام پر عوام نے بیٹھنے کے قابل ہی نہ سمجھا۔ یوں پیپلز پارٹی کے ووٹر بھی جذباتی طور پر تقسیم ہو گئے۔ بینظیرکی شہادت کے بعد پھیلنے والا وہ خطرناک شُبہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک میں غم اور غصے کی لہر تھی، مگر اس کے ساتھ ایک انتہائی خطرناک پروپیگنڈہ بھی پھیلایا گیا: کہ ”اصل میں زرداری نے ہی بینظیر کو مروایا ہے“۔ یہ الزام نہ عدالت میں ثابت ہوا، نہ تحقیقاتی رپورٹس نے اسے درست کہا، مگر سیاسی مخالفین، میڈیا کے ایک حصے اور کچھ طاقتور حلقوں نے اس کہانی کو بہت دانستہ انداز میں پھیلایا۔ چونکہ زرداری پہلے سے کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ناقابلِ اعتماد سمجھے جاتے تھے، لہٰذا یہ افواہ پنجاب کے غمزدہ اور مشتعل عوام میں آگ کی طرح پھیل گئی یہ بیانیہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے پھیلایا گیا— اور اس نے زرداری کی عوامی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
زرداری کی مفاہمت — عوامی غصے کا ایندھن
بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عوام کو توقع تھی کہ پیپلز پارٹی نواز شریف کے مقابل سخت مزاحمتی سیاست کرے گی، مگر آصف زرداری کی ’’مفاہمت‘‘ نے اس امید کو توڑ دیا۔ نواز شریف سے ہاتھ ملانا، سیاسی سودے بازی اور طاقت کی شراکت عوام کے لیے ناقابلِ قبول تھی، خاص طور پر ان کارکنوں کے لیے جنہوں نے دہائیوں تک نواز شریف کے جبر، مقدمات اور جیلوں کا سامنا کیا تھا۔ اس مفاہمت کو عوام نے اپنے جذبات سے غداری سمجھا۔ یوں بھٹو اور بینظیر جیسے بڑے رہنماؤں سے محرومی کے بعد عوام ایک ایسی سیاسی بند گلی میں داخل ہو گئے جہاں کوئی حقیقی متبادل موجود نہ تھا۔ پنجاب میں آصف زرداری کے خلاف نفرت اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل کار فرما تھے: کرپشن کا شدید پروپیگنڈہ، بینظیر بھٹو کی شہادت پر شکوک و شبہات، اور سب سے بڑھ کر نواز شریف سے مفاہمت۔ جنرل مشرف کے بیانات اور ویڈیو پیغامات نے ان شکوک کو مزید تقویت دی۔اس تمام تر صورتحال میں پنجاب کی سینئر قیادت نے زرداری کو مشورہ دیا کہ وہ قیادت بلاول بھٹو کے حوالے کر کے سیاسی طور پر پیچھے ہٹ جائیں، اس کے برعکس انہوں نے بلاول بھٹو کی قائم کردہ پنجاب کی تنظیم توڑ دی، تنظیم توڑ نے کے بعد اس میں ایسے افراد مسلط کیے گئے جو پنجاب کے سیاسی مزاج کو نہیں سمجھتے تھے، جنہیں نہ تو پنجاب کے ڈائنامکس کا پتہ تھا اور نا ہی وہ پیپلز پارٹی کے نظریہ کو سمجھانے میں قدرت رکھتے تھے ان کی وفاداریاں بھی “زر واری” ہیں۔ وہ پنجاب میں جلسہ جلوس کا انتظام کرنے پر مامور ہیں اس کیلئے نظریاتی ورکرز تیار کرنے کی بجائے کرائے کے لوگوں پر انحصار کرتے ہیں
سیاسی خلا کا پُر ہونا — عمران خان کا ابھار
اس سارے پس منظر نے عمران خان کو عوامی غصے، مزاحمت اور ’’غیر روایتی سیاست‘‘ کی علامت بنا دیا—اور عوام فطری طور پر اسی سمت بڑھ گئے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب “عمران خان نے اس سیاسی خلا کو پُر کیا “ عوام نے اس میں وہ مزاحمت، وہ ضد، وہ باغیانہ پن دیکھاجو وہ نواز شریف میں کبھی نہیں دیکھ سکتے تھے اور جو زرداری کی مفاہمتی سیاست میں انہیں کہیں نظر نہیں آیا عوام کے لیے عمران خان صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے یکطرفہ کھیل کے خلاف ردِعمل “تھا۔ وہ نواز شریف کے ’’غیر فطری سپورٹ‘‘ کا متبادل بن گیا۔ بینظیر کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی محرومی نے عمران خان کو وہ جگہ دی جو عام حالات میں شاید ممکن نہ ہوتی۔
نتیجہ: عمران خان کی مقبولیت نواز شریف اور زرداری کے کردار کی مرہونِ منت, عمران خان اپنی جگہ مقبول ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی سیاسی بلندی دراصل نواز شریف کی ’’اوور پروجیکشن‘زرداری کی ’’مفاہمت “اور بینظیر کے بعد کی سیاست میں پیدا ہونے والے خلا کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ جب تک سیاسی نظام کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہوں گے—اور جب تک عوام کو محسوس ہوگا کہ کوئی لیڈر “غیر فطری طریقے سے مسلط کیا جا رہا ہے— تب تک عوام اپنے غصے کا راستہ عمران خان کی طرف ہی نکالیں گے۔ |