چین کی صحت مند طرزِ زندگی کی جانب پیش قدمی

چین کی صحت مند طرزِ زندگی کی جانب پیش قدمی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

عصرِ حاضر میں دنیا بھر میں صحت اور فلاح و بہبود کے تصورات تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کر رہے ہیں، تاہم چین میں یہ رجحان محض ایک وقتی فیشن نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی اور معاشی تبدیلی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ صارفین کے رویّوں سے لے کر قومی پالیسیوں تک، صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا اب چین کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ تازہ ترین سرویز اور اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چینی معاشرہ تیزی سے ایسی کھپت اور زندگی کے انداز کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں صحت کو اولین ترجیح حاصل ہے۔

سال 2025 میں مشاورتی ادارے میک کنزی کی جانب سے کیے گئے فیوچر آف ویلنیس سروے کے مطابق چین کے 94 فیصد صارفین صحت و فلاح کو “انتہائی اہم” یا “اہم” ترجیح قرار دیتے ہیں، جو کہ برطانیہ میں 79 فیصد اور امریکہ میں 84 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ شرح ہے۔ یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ چین میں صحت کا تصور نہ صرف شعوری سطح پر مضبوط ہوا ہے بلکہ عملی زندگی کا حصہ بھی بنتا جا رہا ہے۔

صحت سے متعلق اس بدلتی سوچ کا واضح اظہار خوراک کے شعبے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کاروباری معلومات فراہم کرنے والے پلیٹ فارم تیان یان چھا کے مطابق اس وقت چین میں ہلکی اور صحت بخش غذا سے وابستہ 14 ہزار سے زائد ادارے سرگرم ہیں، جن میں سے تقریباً 60 فیصد کا قیام گزشتہ پانچ برسوں کے دوران عمل میں آیا ہے۔ شہروں کی گلیوں میں وہ مناظر عام ہوتے جا رہے ہیں جہاں ماضی میں نوجوانوں کے ہاتھوں میں میٹھی ببل ٹی ہوا کرتی تھی، اب وہاں جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ گرم مشروبات نظر آتے ہیں، جو صحت بخش روایات کی طرف واپسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

خوراک کے ساتھ ساتھ جسمانی فٹنس پر اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2025 میں آئی میڈیا ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق، صحت کے شعور رکھنے والے صارفین نے اسپورٹس ویئر کو چین میں ملبوسات کی دوسری سب سے مقبول درجہ بندی بنا دیا ہے، جو صرف کیژول لباس کے بعد آتی ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ورزش اور جسمانی سرگرمی اب روزمرہ زندگی کا باقاعدہ حصہ بنتی جا رہی ہے۔

صحت اور تفریح کے امتزاج نے چین میں ویلنیس سیاحت کو بھی فروغ دیا ہے۔ ہائی نان اور یون نان جیسے جنوبی صوبے اس شعبے کے نمایاں مراکز کے طور پر ابھرے ہیں، جہاں ریزورٹس قدرتی وسائل مثلاً گرم پانی کے چشموں، جنگلات اور روایتی چینی طب کو جدید طبی سہولتوں کے ساتھ یکجا کر کے ایسے پیکیجز پیش کر رہے ہیں جن میں سیاح تفریح کے ساتھ صحت میں بہتری بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ رجحان محض انفرادی انتخاب کا نتیجہ نہیں بلکہ قومی حکمتِ عملیوں سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ 2016 میں اسٹیٹ کونسل کی جانب سےصحت مند چین 2030 منصوبے کا اجراء کیا گیا، جو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد صحت کے شعبے میں پہلا درمیانی اور طویل المدتی قومی منصوبہ تھا۔ اس منصوبے میں بیماری کے علاج کے بجائے بیماری سے بچاؤ اور مجموعی صحت کے فروغ کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

تاہم، احتیاط پر مبنی اس نقطۂ نظر کا مطلب یہ نہیں کہ چین کے طبی نظام کی رفتار کم ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، چین طبی ترقی کے حوالے سے دنیا کے تیز ترین ممالک میں شامل ہے۔ 2024 میں چین میں اوسط متوقع عمر 79 سال تک پہنچ گئی، جو عالمی اوسط سے پانچ سال زیادہ ہے، جبکہ 2030 تک اس شرح کو 80 سال تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

چینی ماہرین کے مطابق، بیماری سے بچاؤ پر مبنی فلسفہ صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ مجموعی فلاح، معیارِ زندگی میں بہتری اور بیماریوں کی شرح میں کمی کا ایک ہمہ جہت تصور پیش کرتا ہے۔

اسی وژن کے تحت 2024 میں حکومت نے تین سالہ وزن کنٹرول مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا اور دائمی بیماریوں کی روک تھام ہے۔ اس کے علاوہ صحت سے متعلق کھپت کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان بھی متعارف کرایا گیا، جس میں صحت بخش خوراک، کھیلوں سے وابستہ مصنوعات اور معمر آبادی کے لیے خدمات پر توجہ دی گئی۔

ان پالیسیوں کے نتیجے میں مقامی سطح پر کھیلوں کی سہولتوں اور سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ابتدائی اور ثانوی اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کو روزانہ کم از کم دو گھنٹے جسمانی سرگرمی فراہم کریں۔ اسپتالوں میں وزن کنٹرول کلینکس قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں موٹاپے اور زائد وزن کے شکار افراد کے لیے ذاتی نوعیت کے منصوبے ترتیب دیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب، بعض بزرگوں کی نگہداشت کے مراکز میں اسمارٹ فٹنس آئینے، ذہین گدّے اور ساتھی روبوٹس متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ معمر افراد میں صحت مند عادات کو فروغ دیا جا سکے۔ کیٹرنگ کے شعبے میں بھی تبدیلی نمایاں ہے، جہاں ریستوران اور کینٹینز صحت بخش مینو متعارف کرا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک معروف ریستوران چین نے “لائٹ نوڈلز” کی سیریز پیش کی ہے، جس میں روایتی گندم کے نوڈلز کے بجائے بک ویٹ استعمال کیا گیا ہے اور کم کیلوریز والی مقامی چٹنی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین میں صحت اور فلاح و بہبود کا فروغ ایک جامع قومی رجحان کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس میں انفرادی انتخاب، مارکیٹ کی تبدیلی اور حکومتی پالیسیوں کا گہرا امتزاج نظر آتا ہے۔ صحت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی یہ کوشش نہ صرف عوامی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے بلکہ مستقبل میں معاشرتی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ چین کا یہ تجربہ اس امر کی مثال بنتا جا رہا ہے کہ قومی عزم اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے صحت مند معاشرہ تشکیل دینا کس طرح ممکن ہے۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1770 Articles with 1015443 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More