صحت کے حوالے سے خواندہ معاشرہ

صحت کے حوالے سے خواندہ معاشرہ
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

اس وقت چین میں 60 سال سے زائد عمر کی آبادی کا تناسب نمایاں طور پر بڑھ رہا ہے۔ صحت کے معاملے پر عوام میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر، ملک نے "صحت سب سے پہلے" کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا مرکز بیماریوں کی روک تھام اور صحت کے بہتر انتظام پر ہے۔ اس ضمن میں ملک میں صحت سے متعلق خواندگی کو بھی نمایاں فروغ ملا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2025 میں چینی عوام میں صحت کے معاملے میں خواندگی کی شرح میں سالانہ 1.82 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 33.69 فیصد تک پہنچ گئی۔ چین نے 2024 میں تمام شہریوں کے لیے صحت کے معاملے میں خواندگی کو مزید بڑھانے کے لیے تین سالہ ایکشن پلان جاری کیا تھا۔محکمہ صحت کے مطابق شہری علاقوں میں صحت کے حوالے سے خواندگی کی شرح 36.68 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 30.58 فیصد رہی، جو 2024 کے مقابلے میں بالترتیب 1.94 اور 1.47 فیصد زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، صحت کے معاملے میں خواندگی سے مراد افراد کی اپنی، اپنے خاندانوں اور اپنی کمیونٹیز کے لیے "اس طرح سے معلومات تک رسائی حاصل کرنے، سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت" ہے جو اچھی صحت کو فروغ دیتی ہے اور برقرار رکھتی ہے۔اس صحت کے اشارے میں مسلسل اضافہ عوامی صحت کے شعور کو فروغ دینے اور لوگوں کو صحت سے متعلق ضروری معلومات سے آراستہ کرنے کے ملک کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ویسے بھی چین میں حالیہ برسوں میں صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ٹھوس پیشرفت ہوئی ہے، اور ملک بنیادی طور پر امراض کے علاج سے مجموعی صحت کی بحالی کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی کئی ترقی یافتہ ممالک میں صحت کے نظام کی جدید سازی کا ایک اہم رجحان بھی ہے۔ بڑی عمر کے افراد میں صحت کی خدمات کی ضروریات بھی اب محض علاج تک محدود نہیں رہیں، بلکہ اعلیٰ معیار کی صحت کی دیکھ بھال، دائمی امراض کے انتظام، اور طویل المدتی نگہداشت کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔ تاہم، حکام کے مطابق صحت کے انتظام کے حوالے سے طبی خدمات میں ابھی مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

ملک کی وسیع آبادی کی مجموعی صحت کو یقینی بنانے کے لیے، ضروری ہے کہ امراض کی نگرانی، قبل از وقت انتباہ، خطرے کی تشخیص، وبائی تحقیقات، معائنہ و جانچ، ہنگامی ردعمل اور طبی علاج کی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنایا جائے۔ حالیہ عرصے میں، حکومت اور طبی اداروں نے ان شعبوں میں قابل قدر ترقی کی ہے، خاص طور پر دائمی امراض کے کنٹرول اور وبائی امراض کی روک تھام کے میدان میں حاصل کردہ کامیابیاں بین الاقوامی سطح پر سراہی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں چار بڑے دائمی امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے ایک جامع اقداماتی منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے، جو ملک میں اموات کے ایک بڑے حصے کا سبب بنتے ہیں۔ اس منصوبے میں ذیابیطس جیسے امراض میں مبتلا افراد کے لیے ابتدائی آگاہی بڑھانے، اور سانس کی دائمی بیماریوں کی اسکریننگ کی صلاحیتوں کو فروغ دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، ملک بھر میں کئی عام اقسام کے کینسر کی بروقت تشخیص کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں زیادہ تر سنگین اقسام کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کروڑوں خواتین پہلے ہی سروائیکل اور بریسٹ کینسر کی اسکریننگ سے مستفید ہو چکی ہیں۔

وبائی امراض کے تحفظ کے حوالے سے، ملک بھر میں ہزاروں طبی اداروں پر محیط براہ راست رپورٹنگ کا ایک موثر نظام قائم کیا گیا ہے، جسے مزید بہتر بنا کر اس کی خطرے کی نگرانی کی صلاحیتوں کو تقویت دی جا رہی ہے۔ اسی طرح، عوام کو گھریلو نگہداشت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خاندانی ڈاکٹر کے نظام کو وسعت دینے اور طویل المدتی نگہداشت کی انشورنس کوریج بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

صحت عامہ کی ترقی کے لیے مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا ہے، جس میں "طبی خدمات، میڈیکل انشورنس اور ادویات کے شعبوں کے مربوط نظم و نسق" کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہ تعاون عوامی ضروریات کے مطابق صحت مند طرز زندگی کی رہنمائی کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی، میڈیکل انشورنس نظام میں اصلاحات کو طبی خدمات کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، تاکہ نئے طریقوں کو اپنا کر زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو اسپتالوں کے بجائے کمیونٹیز اور گھریلو سطح پر صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کی طرف راغب کیا جا سکے۔

سو کہا جا سکتا ہے کہ آج کا چین، صحت کے عالمی اہداف کے حصول کے لیے ایک جامع اور عوامی مرکزیت پر مبنی راستہ اختیار کر رہا ہے۔ "صحت سب سے پہلے" کا یہ نظریہ محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عملی اقدام ہے جو معاشرے کے ہر فرد کی بہتر زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور جدید طرز زندگی کے نئے چیلنجز کے باوجود، چین مسلسل اپنے صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے جہاں بیماری کی روک تھام، بروقت تشخیص، اور جامع نگہداشت کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ اس سفر کا مقصد صرف اوسط عمر میں اضافہ ہی نہیں، بلکہ ہر شہری کے لیے صحت مند، متحرک اور معیاری زندگی یقینی بنانا ہے۔ آنے والے وقت میں، یہ حکمت عملی نہ صرف چین کی قومی صحت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی، بلکہ عالمی صحت کے شعبے میں بھی ایک قابل تقلید نمونہ پیش کرے گی۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1770 Articles with 1015443 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More