کراچی کا پانی بحران: شہری صحت اور انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ

*از قلم : محمد ارسلان شیخ*

مستقل بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ شہر کی آبادی روز بروز بڑھ رہی ہے جبکہ پانی کی فراہمی کا نظام نہ صرف فرسودہ ہے بلکہ انتظامی بدحالی کا بھی شکار ہے۔ ماہرین اور سرکاری رپورٹس کے مطابق کراچی کو روزانہ جس مقدار میں پانی درکار ہے، اس کا تقریباً نصف بھی عوام تک نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پانی کی قلت کی بنیادی وجوہات میں پرانی اور ٹوٹی ہوئی پائپ لائنیں، غیر قانونی کنکشنز، پانی کی چوری، بجلی کی بندش اور ناقص منصوبہ بندی شامل ہیں۔ کئی علاقوں میں دنوں، ہفتوں تک نلکوں میں پانی نہیں آتا، جس کے باعث عوام مہنگے ٹینکروں یا ذاتی بورنگ پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی مجبوری آہستہ آہستہ ایک بڑے شہری اور تعمیراتی خطرے میں تبدیل ہو رہی ہے۔
کراچی کے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے K-IV واٹر سپلائی پراجیکٹ سمیت متعدد منصوبے شروع کیے گئے، جن کا مقصد شہر کو اضافی پانی فراہم کرنا تھا۔ تاہم فنڈز کی کمی، انتظامی رکاوٹوں اور تاخیر کے باعث یہ منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً شہریوں کا اعتماد سرکاری نظام سے اٹھتا جا رہا ہے اور لوگ ذاتی سطح پر پانی کے انتظام کی طرف جا رہے ہیں۔
سرکاری فراہمی ناکافی ہونے کی وجہ سے کراچی میں بورنگ کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ یہ طریقہ آسان حل محسوس ہوتا ہے، مگر ماہرینِ ارضیات اور تعمیرات کے مطابق زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے زمین کی ساخت کمزور ہو جاتی ہے۔جس کا براہِ راست اثر عمارتوں کی بنیادوں پر پڑتا ہے۔ دیواروں میں مستقل نمی، سریا کا زنگ آلود ہونا اور کنکریٹ کی مضبوطی میں کمی ایسی علامات ہیں جو مستقبل کے بڑے حادثات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں اس کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ کورنگی اللہ والا ٹاؤن میں چند برس قبل ایک رہائشی عمارت کے منہدم ہونے کا واقعہ پیش آیا، جہاں ابتدائی رپورٹس کے مطابق غیر قانونی اور مسلسل بورنگ، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور دیواروں میں نمی کو ممکنہ وجوہات میں شامل کیا گیا۔ اسی طرح لانڈھی اور کورنگی کے صنعتی و رہائشی علاقوں میں متعدد عمارتوں میں دراڑیں پڑنے، فرش بیٹھنے اور دیواروں کے کمزور ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
ملیر اور کراچی کے دیگر ساحلی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے، جس سے پانی کے معیار اور زمین کی مضبوطی پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بورنگ کے نتیجے میں زمین کی ساخت متاثر ہوتی ہے، اس عمل سے نہ صرف پانی کی میٹھاس متاثر ہوتی ہے بلکہ عمارتوں اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی بھی کمزور ہو سکتی ہے۔ حالیہ خبری رپورٹس کے مطابق لانڈھی، کورنگی اور ملیر میں بار بار ہلکے زلزلے آئے ہیں، جن کا تعلق ممکنہ طور پر زیرِ زمین پانی کی زیادہ کھپت سے منسلک زمین کی کمزوری سے بھی ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال میں، کئی نجی افراد اور کاروباری ادارے حکومت کی نااہلی اور شہریوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے R O (پانی صاف کرنے کے پلانٹس) لگا کر پانی بیچنے میں لاکھوں کا منافع کما رہے ہیں۔ یہ کاروبار بعض اوقات شہریوں پر مالی بوجھ بڑھاتا ہے اور زیرِ زمین پانی کی کھپت میں اضافہ کرتا ہے۔ غیر معیاری پلانٹس معدے کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر پانی سے متعلقہ بیماریاں پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ زمین اور عمارتوں کی مضبوطی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کراچی میں پانی کی کمی اور بے لگام بورنگ ایک خاموش مگر خطرناک تباہی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔کراچی کے پانی کے مسائل کا حقیقی، پائیدار اور مضبوط حل صرف وقتی انتظامات یا نجی منافع میں نہیں بلکہ منظم سرکاری پالیسی، K-IV اور دیگر پینڈنگ فائدہ مند منصوبوں کی فوری تکمیل، پانی کی منصفانہ تقسیم، شہری آگاہی، بورنگ پر ضابطے، اور پانی کے مناسب استعمال کی تعلیم میں مضمر ہے۔یہ اقدامات نہ صرف پانی کی قلت کو کم کریں گے بلکہ شہر کے مستقبل کو محفوظ، صحت مند، اور پائیدار بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، تاکہ کراچی کے ہر شہری کے لیے پانی کی رسائی یقینی اور محفوظ ہو سکے۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 30 Articles with 8485 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.