چین کی ادویہ کی تحقیق میں انقلابی پیش رفت

چین کی ادویہ کی تحقیق میں انقلابی پیش رفت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

مصنوعی ذہانت اور حیاتیاتی علوم کے امتزاج نے عالمی سطح پر ادویہ کی تحقیق اور دریافت کے عمل کو نئی سمت دینا شروع کر دی ہے۔ اسی تناظر میں چین کے محققین کی جانب سے تیار کردہ ایک جدید اے آئی پر مبنی ورچوئل ڈرگ اسکریننگ پلیٹ فارم کو ادویہ کی دریافت کے شعبے میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف رفتار بلکہ درستگی کے اعتبار سے بھی روایتی طریقوں سے کہیں آگے ہے۔

سنگہوا یونیورسٹی کے مطابق اس نئے پلیٹ فارم، جسے "ڈرگ کلپ"کا نام دیا گیا ہے، نے ادویاتی اسکریننگ کی رفتار میں دس لاکھ گنا اضافہ ممکن بنایا ہے، جبکہ پیش گوئی کی درستگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس پلیٹ فارم کی مدد سے محققین نے پہلی مرتبہ انسانی جینوم کی سطح پر ورچوئل ڈرگ اسکریننگ کا کامیاب تجربہ انجام دیا ہے، جسے ادویات کی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اس تحقیق سے متعلق مطالعہ عالمی سائنسی جریدے سائنس میں آن لائن شائع ہوا ہے۔

سائنسی ماہرین کے مطابق انسانی جینوم میں موجود ممکنہ ادویاتی اہداف اور مرکبات کی اکثریت اب تک غیر دریافت شدہ ہے۔ انسانی جینوم بیس ہزار سے زائد پروٹینز کو انکوڈ کرتا ہے، تاہم ان میں سے صرف محدود تعداد کو بطور دوا کے ہدف کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس وسیع کیمیائی اور حیاتیاتی دائرے میں مؤثر مرکبات کی تلاش ادویہ کی تحقیق میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔

روایتی جدید مالیکیولر ڈاکنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے صرف دس ہزار پروٹین اہداف کی اسکریننگ کے لیے ایک ہی کمپیوٹر پر مسلسل صدیوں پر محیط حسابی عمل درکار ہوتا، جس کے باعث نئے اہداف اور ممکنہ ادویاتی مرکبات کے درمیان مؤثر ملاپ انتہائی مشکل ہو جاتا تھا۔

"ڈرگ کلپ"نے اس مسئلے کو بنیادی طور پر حل کر دیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم صدیوں پر محیط اس عمل کو صرف ایک دن میں ایک کمپیوٹنگ نوڈ پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپیوٹنگ نوڈ ہائی پرفارمنس یا تقسیم شدہ کمپیوٹنگ نظام کا بنیادی یونٹ ہوتا ہے، جو اس پلیٹ فارم کی غیر معمولی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔

اگرچہ "الفا فولڈ" جیسی ٹیکنالوجی، جسے 2024 میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا، پروٹین اسٹرکچر کی پیش گوئی کے مسئلے کو حل کر چکی ہے، تاہم "ڈرگ کلپ" اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پروٹین اسٹرکچر اور ادویات کی دریافت کے درمیان ایک عملی اور مؤثر ربط قائم کرتا ہے، جس سے انسانی جینوم کی سطح پر بڑے پیمانے پر ورچوئل اسکریننگ ممکن ہو سکی ہے۔

"ڈرگ کلپ"کی بنیادی جدت یہ ہے کہ اس نے روایتی مالیکیولر ڈاکنگ کے عمل کو ویکٹر اسپیس میں پروٹین پاکٹس اور چھوٹے مالیکیولز کی ایک تیز رفتار معنوی تلاش میں تبدیل کر دیا ہے۔ 128 کور سی پی یو اور 8 جی پی یوز پر مشتمل ایک کمپیوٹنگ نوڈ پر چلنے والا یہ پلیٹ فارم روزانہ کھربوں پروٹین اور مالیکیول جوڑوں کا تجزیہ کر سکتا ہے، جو روایتی طریقوں کے مقابلے میں دس لاکھ گنا زیادہ رفتار فراہم کرتا ہے۔

اپنے پہلے جینوم سطح کے اسکریننگ منصوبے میں، تحقیقاتی ٹیم نے تقریباً دس ہزار پروٹین اہداف، بیس ہزار پروٹین پاکٹس اور پچاس کروڑ سے زائد دوا نما چھوٹے مالیکیولز کا تجزیہ کیا۔ اس عمل کے نتیجے میں بیس لاکھ سے زائد ممکنہ فعال مالیکیولز کی نشاندہی ہوئی، جس سے دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا پروٹین۔لیگنڈ اسکریننگ ڈیٹابیس تشکیل پایا۔

یہ ڈیٹابیس عالمی سائنسی کمیونٹی کے لیے بلا معاوضہ دستیاب کر دیا گیا ہے، جو بنیادی تحقیق اور ابتدائی درجے کی ادویہ کی دریافت کے لیے ایک مضبوط ڈیٹا سپورٹ فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ایک معاون اسکریننگ سروس پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنی مرضی کے اہداف اور پروٹین پاکٹس جمع کرا سکتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ پلیٹ فارم چودہ سو سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کر چکا ہے اور تیرہ ہزار پانچ سو سے زائد اسکریننگ ٹاسکس مکمل کیے جا چکے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور صنعتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے کینسر، متعدی امراض اور نایاب بیماریوں جیسے شعبوں میں نئے اہداف اور اولین نوعیت کی ادویات کی دریافت کو تیز کیا جائے گا۔ ساتھ ہی پلیٹ فارم کی کارکردگی میں مزید بہتری اور صلاحیتوں میں توسیع کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔

وسیع تناظر میں"ڈرگ کلپ" کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ادویہ کی تحقیق کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور قابلِ رسائی بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر دوا سازی کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1770 Articles with 1015443 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More