یہ جنریشن عمران خان سے اتنی متاثر کیوں ہے؟
(Kamran Shehzad, Vancouver Canada)
|
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی ایسے لمحات آئے ہیں جب نوجوان نسل کسی ایک سیاسی شخصیت کے گرد اس قدر یکجا نظر آئی ہو۔ موجودہ دور میں عمران خان کے ساتھ نوجوانوں کی وابستگی محض وقتی جوش یا سیاسی نعروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک گہرے سماجی اور فکری عمل کی عکاس ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ جنریشن عمران خان سے اتنی متاثر کیوں ہے؟ سب سے پہلی اور اہم وجہ کرپشن کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف ہے۔ موجودہ نوجوان وہ نسل ہے جو مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی کے اثرات براہِ راست بھگت رہی ہے۔ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ قومی وسائل کی لوٹ مار نے ملک کو کس نہج پر پہنچایا۔ عمران خان کی سیاست کا مرکزی نکتہ کرپشن کے خلاف جدوجہد رہا ہے، جس نے نوجوانوں میں یہ امید پیدا کی کہ شاید اب نظام کو بدلنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے۔ دوسری بڑی وجہ عمران خان کی ذاتی شبیہ اور طرزِ زندگی ہے۔ پاکستان میں سیاست کو عموماً اقتدار، پروٹوکول اور مراعات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، لیکن عمران خان نے نسبتاً سادہ طرزِ زندگی اپنا کر خود کو روایتی سیاست دانوں سے مختلف ثابت کیا۔ نوجوان نسل، جو دکھاوے اور بناوٹ سے بیزار ہے، اس سادگی اور بے ساختگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ تیسری وجہ عمران خان کا قومی خودداری اور آزاد خارجہ پالیسی کا بیانیہ ہے۔ عالمی سیاست میں پاکستان کے کردار اور خودمختاری پر نوجوانوں کے ذہنوں میں سوالات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ عمران خان کا بیرونی دباؤ کے سامنے کھل کر مؤقف اختیار کرنا، خاص طور پر خودداری پر مبنی بیانات، نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے اور انہیں ایک باوقار قومی شناخت کا احساس دلاتا ہے۔ ایک اور اہم پہلو عمران خان کی جانب سے نوجوانوں کو براہِ راست مخاطب کرنا ہے۔ ماضی میں نوجوانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر دیکھا گیا، مگر عمران خان نے انہیں تبدیلی کا محرک قرار دیا۔ سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال اور نوجوانوں کی شمولیت نے اس نسل کو یہ احساس دیا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ مزید برآں، عمران خان کی سیاسی جدوجہد اور مستقل مزاجی بھی نوجوانوں کے لیے متاثر کن ہے۔ برسوں کی ناکامیوں، تنقید اور مخالفت کے باوجود سیاست میں ڈٹے رہنا اس بات کی مثال ہے کہ کامیابی محض اقتدار کا نام نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنے کا نام ہے۔ یہ پیغام نوجوانوں کو حوصلہ اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنریشن عمران خان سے اس لیے متاثر ہے کیونکہ وہ اسے ماضی کی فرسودہ سیاست کا تسلسل نہیں بلکہ ایک مختلف سوچ کی علامت سمجھتی ہے۔ چاہے کوئی ان کی سیاست سے اتفاق کرے یا اختلاف، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عمران خان نے نوجوان نسل کو سیاسی طور پر متحرک کیا ہے، اور یہی اثر کسی بھی لیڈر کی اصل کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ |
|