بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام،عوامی مسائل کا حل

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی نظام ہمیشہ سے ایک ایسا موضوع رہا ہے جسے مقتدر حلقوں اور صوبائی حکومتوں نے اپنی بقا اور طاقت کے ارتکاز کے لیے پسِ پشت ڈالے رکھا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر، حافظ نعیم الرحمن نے اس جمود کو توڑنے کے لیے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کیا ہے۔ 7 دسمبر سے شروع ہونے والی یہ مہم محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں، بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کی بازیابی کی ایک منظم جدوجہد ہے۔
تحریر :عنایت اللہ کامران
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی نظام ہمیشہ سے ایک ایسا موضوع رہا ہے جسے مقتدر حلقوں اور صوبائی حکومتوں نے اپنی بقا اور طاقت کے ارتکاز کے لیے پسِ پشت ڈالے رکھا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر، حافظ نعیم الرحمن نے اس جمود کو توڑنے کے لیے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کیا ہے۔ 7 دسمبر سے شروع ہونے والی یہ مہم محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں، بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کی بازیابی کی ایک منظم جدوجہد ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں "بااختیار بلدیاتی نظام" کی یہ مہم اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب تک اقتدار نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتا، عوامی مسائل کا حل ایک خواب ہی رہے گا۔حافظ نعیم الرحمن کی اس مہم کا سب سے اہم پہلو اس کا براہِ راست عوامی مفاد سے جڑا ہونا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر ہوں یا دور افتادہ دیہات، عوام آج بھی پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور گلیوں کی روشنی جیسے بنیادی مسائل کے لیے دربدر بھٹک رہے ہیں۔ موجودہ نظام میں ایک عام شہری کو اپنے گلی محلے کے مسئلے کے لیے بھی ایم پی اے یا ایم این اے کی چوکھٹ پر دستک دینی پڑتی ہے، جو کہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا موقف واضح ہے کہ صفائی، ستھرائی، تعلیم اور صحت جیسے شعبے مقامی نمائندوں کے پاس ہونے چاہئیں تاکہ عوام کو ان کے دہلیز پر انصاف اور سہولیات میسر آ سکیں۔ کراچی میں "حقوق کراچی تحریک" کی کامیابی کے بعد اب یہ آواز پورے ملک میں گونج رہی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام اب بیوروکریسی کے بجائے اپنے منتخب نمائندوں کو بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی کی اس مہم کے بنیادی مطالبات نہایت جامع اور آئینی بنیادوں پر استوار ہیں۔ ذیل میں ان مطالبات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے.
آئینی تحفظ: آئین کے آرٹیکل 140-A کی مکمل روح کے مطابق بلدیاتی نظام کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ کوئی بھی حکومت اسے اپنی مرضی سے ختم نہ کر سکے۔
مالی و انتظامی اختیارات:تمام مقامی محکمے بشمول تعلیم، صحت، اور واٹر بورڈ مقامی حکومتوں کے ماتحت کیے جائیں اور مالی وسائل براہِ راست فراہم کیے جائیں۔براہِ راست انتخاب:میئر یا چیئرمین کا انتخاب براہِ راست عوامی ووٹوں سے ہو تاکہ وہ کسی سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔
بروقت انتخابات:پنجاب سمیت تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیری حربے ختم کر کے فوری الیکشن کرائے جائیں۔
کالے قوانین کا خاتمہ:پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ جیسے "سیاہ قوانین" کو مسترد کیا جائے جو اختیارات کو صوبائی حکومتوں کے پاس مرکوز کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی نے 7 دسمبر سے پنجاب میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا، جس کے بعد 21 دسمبر کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر دھرنے دیے گئے اور اب 15 جنوری کو ایک عظیم الشان "ملک گیر ریفرنڈم" کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ مہم اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ موروثی سیاست اور وڈیرہ شاہی کے اس گٹھ جوڑ کو چیلنج کر رہی ہے جس نے دہائیوں سے پاکستان کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جب ایک عام آدمی کا منتخب کردہ کونسلر بااختیار ہوگا، تو ترقیاتی فنڈز کی بندر بانٹ رکے گی اور شفافیت کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔
مختصر یہ کہ، بااختیار بلدیاتی نظام ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان کو حقیقی جمہوریت کی پٹری پر ڈال سکتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کی یہ جدوجہد کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کی ہے جو اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل، صاف ماحول اور بنیادی سہولیات کا خواہشمند ہے۔ جماعت اسلامی کے یہ مطالبات دراصل عوامی امنگوں کے ترجمان ہیں، اور وقت آ گیا ہے کہ ریاست ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنائے۔ اگر آج ہم نے اس مہم کا ساتھ نہ دیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم نے ایک بااختیار اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھنے کا موقع گنوا دیا تھا. 
عنایت اللہ کامران
About the Author: عنایت اللہ کامران Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.