فکشن (Fiction)کا آئینہ اور شہرکراچی کی حقیقت

*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
Geo TV کا ڈرامہ Case No. 9 محض ایک ٹی وی کہانی نہیں تھا بلکہ اس نے طاقت، اختیار اور جوابدہی جیسے بنیادی سماجی سوالات کو اجاگر کیا۔ اس ڈرامے میں کامران کا کردار اس ذہنیت کی علامت کے طور پر سامنے آیا جو اختیار کو احتساب سے بالاتر سمجھتی ہے، جبکہ سحر انصاف کی تلاش میں ایک کمزور مگر ثابت قدم آواز بن کر ابھرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کہانی نے ناظرین میں غیر معمولی توجہ حاصل کی اور اسے محض تفریح کے بجائے ایک سماجی مکالمہ سمجھا گیا۔
فکشن (فرضی/ تخیلاتی کہانی) کی یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کو براہِ راست بیان کیے بغیر بھی آئینہ دکھا دے۔ اسی تناظر میں جب Case No. 9 کو کراچی کے موجودہ حالات سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے تو بعض علامتی مماثلتیں شہریوں کے ذہن میں خود بخود ابھر آتی ہیں۔ اس تقابل میں کامران کسی ایک فرد یا ادارے کا نام نہیں بلکہ ایک رویّے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ سحر عام شہری کی وہ آواز ہے جو متاثر تو ہوتی ہے مگر اکثر سنی نہیں جاتی۔
کراچی، جو ملک کا معاشی دارالحکومت کہلاتا ہے،پانی،بجلی، گیس، کوٹہ سسٹم اور دیگر ایڈمنسٹریشن سے متعلق مسائل میں بھی کراچی کے شہری کئی سالوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نالیوں کی غیر معیاری صورتحال، پانی کی غیر اعلانیہ بندش، گیس کی غیر متوقع سپلائی اور کوٹہ سسٹم کی پیچیدگیاں شہریوں کی روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں۔ یہ سب مسائل مشترکہ انتظامی اور پالیسی سطح کی ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اور شہریوں میں یہی احساس پیدا کرتے ہیں کہ ان کی شکایات اکثر مؤثر انداز میں سنجیدہ نہیں لی جاتیں۔
بات کی جائے صرف کے الیکٹرک کی تو کراچی گزشتہ برسوں سے توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ خاص طور پر بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش شہری زندگی پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ متعدد علاقوں سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین، جنہیں عمومی طور پر “اسٹار کنزیومر” کہا جاتا ہے، وہ بھی طویل لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ نہیں۔ اس صورتحال میں شہری یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ ذمہ داری پوری کرنے کے باوجود سہولت میں تسلسل کیوں ممکن نہیں ہو پا رہا۔
بجلی کی بندش کے لیے اکثر تکنیکی وجوہات، بشمول لائن لاسز، کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک انتظامی حقیقت ہو سکتی ہے، تاہم جب شیڈول سے ہٹ کر طویل دورانیے کی بندش معمول بن جائے تو عوامی اعتماد متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس کے اثرات گھریلو زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار سب اس سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ شکایات کے نظام کے حوالے سے بھی شہریوں میں عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ فون لائنز، آن لائن پورٹلز اور فیلڈ سطح پر رسپانس کے بارے میں مختلف اوقات میں تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے میں اداروں کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ محض تکنیکی وضاحتوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ مؤثر رابطے اور بروقت آگاہی کے ذریعے عوامی تشویش کا ازالہ کریں۔
یہ کسی ایک ادارے یا فرد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک اصولی نکتہ اٹھانے کی کوشش ہے۔ عوامی خدمات فراہم کرنے والے تمام اداروں کے لیے شفافیت، جوابدہی اور مؤثر کمیونیکیشن بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ بجلی، پانی، گیس اور کوٹہ جیسی بنیادی سہولتیں صرف انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا معاملہ بھی ہیں۔
Case No. 9 میں کہانی کا اختتام اس نکتے پر ہوا کہ اختیار بالآخر جوابدہی کے سامنے ٹھہر جاتا ہے۔ یہ پیغام فکشن تک محدود نہیں بلکہ حقیقی دنیا کے لیے بھی سبق رکھتا ہے۔کراچی کے شہری چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے اور مسائل کا حل شفاف انداز میں سامنے آئے۔ یہی رویّہ فکشن اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو کم کر سکتا ہے۔ 
Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 35 Articles with 10226 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.