خوف زدہ دنیا میں فن کی معنویت

خوف زدہ دنیا میں فن کی معنویت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ادب کی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو محض مسرت یا داد و تحسین تک محدود نہیں رہتے بلکہ فکری سطح پر کئی بند دریچوں کو وا کر دیتے ہیں۔ سن 2025ء میں ادب کا نوبیل انعام ہنگری کے ممتاز ادیب لاسلو کرسنا ہوراکائی کو دیا جانا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے، جو خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت، سوال اور اضطراب کو بھی جنم دیتا ہے۔ سوئیڈش اکیڈمی کا یہ کہنا کہ انہوں نے خوف اور دہشت کے ماحول میں فن کی معنویت کو قائم رکھا، صرف ایک تعریفی جملہ نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ذہنی اور فکری کیفیت پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔ اس بیان میں یہ سوال بھی مضمر ہے کہ کیا آج کی دنیا واقعی اس درجے خوف زدہ ہو چکی ہے کہ فن کو اپنی موجودگی کا جواز دینا پڑ رہا ہے، اور اگر ایسا ہے تو یہ خوف کس نوعیت کا ہے اور ادب اس کے مقابل کہاں کھڑا ہے۔
ادب ہمیشہ انسانی تجربے کا امین رہا ہے۔ قدیم فلسفے سے لے کر جدید فکری مباحث تک، یہ بات تسلیم کی جاتی رہی ہے کہ فن محض حسن کا اظہار نہیں بلکہ سچائی کی جستجو کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ المیے کے تصور میں یہ نکتہ شامل رہا ہے کہ ادب انسان کے باطن میں چھپے خوف اور اضطراب کو شناخت دے کر اسے شعور کی سطح تک لے آتا ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو کرسنا ہوراکائی کا ادب کسی وقتی یا حادثاتی خوف کی منظر کشی نہیں کرتا بلکہ اس خوف کو موضوع بناتا ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی میں سرایت کر چکا ہو۔ یہ وہ خوف ہے جو ریاستی نظم، سیاسی قوت، معاشی دباؤ اور سماجی جبر کے ذریعے فرد کے وجود پر مسلط رہتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی سوچ کا حصہ بن جاتا ہے۔
ادب اور ادیب کے لیے سب سے بڑا حوالہ ہمیشہ قاری رہا ہے۔ یہ خیال کہ ادب تبھی زندہ رہتا ہے جب اسے پڑھا جائے، آج کے عہد میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ قاری کوئی یکساں ہجوم نہیں ہوتا بلکہ مختلف اذہان، متنوع تجربات اور جداگانہ سماجی پس منظر رکھتا ہے۔ جب کسی ادیب کی تحریر مختلف ذہنوں سے مکالمہ کرنے لگے تو وہ وقت کی حد بندی سے آزاد ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں انعامات کی حیثیت عارضی ہوتی ہے۔ ہر سال ایک نام ابھرتا ہے، کچھ مدت اس پر گفتگو ہوتی ہے اور پھر دنیا آگے بڑھ جاتی ہے۔ یہ بھلا دینا دراصل ہماری اجتماعی بے حسی کی علامت بھی ہے، جس کی طرف جدید فلسفے میں بارہا توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان سوچنے اور سوال کرنے سے گریزاں ہوتا جا رہا ہے۔
کرسنا ہوراکائی کا معاملہ اس اعتبار سے مختلف محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ادب محض حال کا آئینہ نہیں بلکہ تاریخ اور روایت کے ساتھ ایک زندہ رشتہ قائم رکھتا ہے۔ انسانی شعور کو ایک مسلسل حرکت سمجھا جائے تو ہر بڑا فن پارہ اسی بہاؤ کا حصہ بنتا ہے۔ ان کے ناول اسی فکری تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسی دنیا سامنے آتی ہے جو بظاہر منتشر، مایوس اور شکستہ دکھائی دیتی ہے، مگر اسی شکستگی میں انسانی شعور کی گہرائی اور پیچیدگی بھی جھلکتی ہے۔ یہاں ادب محض واقعہ نگاری نہیں رہتا بلکہ ایک سوال میں ڈھل جاتا ہے، جو قاری کو بے چین کر دیتا ہے۔
خوف، جو ان کے ادب کا بنیادی استعارہ ہے، کسی ایک خطے یا کسی ایک سیاسی واقعے تک محدود نہیں۔ یہ وہ خوف ہے جسے انسانی فطرت کی ایک محرک قوت سمجھا گیا ہے۔ مگر جب وہی نظام اور معاہدے، جو انسان کو تحفظ دینے کے لیے وجود میں آئے تھے، خوف پیدا کرنے لگیں تو ادب ہی واحد پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ کرسنا ہوراکائی کے ناول اسی پناہ کی تلاش کی داستان ہیں۔ ان کے ہاں خوف محض ڈر کا نام نہیں بلکہ ایک وجودی کیفیت ہے، ایک ایسا احساس جو انسان کو مسلسل یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ ایسی طاقتوں کے سامنے کھڑا ہے جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔
سوئیڈش اکیڈمی کا یہ اعتراف کہ ان کے فن نے خوف کے ماحول میں اپنی طاقت کو منوایا ہے، دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری دنیا ایک خوف زدہ دنیا بن چکی ہے۔ جدید طاقت خود کو معمول کے پردے میں چھپا لیتی ہے، اور یہی معمول خوف کو غیر محسوس بنا دیتا ہے۔ کرسنا ہوراکائی کا ادب اسی پوشیدہ خوف کو نمایاں کرتا ہے، اسے زبان دیتا ہے اور قاری کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کا سامنا کرے اور اس پر غور کرے۔
یہاں ادب اور سیاست کا سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے۔ یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ ادیب کو اس کے فن سے پرکھنا چاہیے، اس کے سیاسی مؤقف سے نہیں۔ بظاہر یہ دلیل دلکش لگتی ہے، مگر فکری سطح پر یہ مسئلہ نہایت پیچیدہ ہے۔ ادب ایک ذمہ دار عمل ہے، اور خاموشی بھی ایک اخلاقی انتخاب ہوتی ہے۔ جب کوئی ادیب کسی ظلم پر آواز اٹھاتا ہے اور کسی دوسرے ظلم پر خاموش رہتا ہے تو یہ خاموشی بھی معنی خیز ہو جاتی ہے۔ کرسنا ہوراکائی کی بعض عالمی سیاسی معاملات پر کھلی مذمت اور بعض پر خاموشی نے اسی اخلاقی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ادیب کے اصول واقعی آفاقی ہیں یا انتخابی۔
یہ خیال بھی پیش کیا گیا ہے کہ ادیب کا بنیادی فریضہ ہر قسم کے قتل اور جبر کے خلاف کھڑا ہونا ہے، خواہ وہ کسی بھی نام سے ہو۔ اگر ادب انسانیت کا دعوے دار ہے تو اس کی اخلاقیات بھی انسانیت پر مبنی ہونی چاہییں۔ اسی پس منظر میں کرسنا ہوراکائی پر ہونے والی تنقید محض سیاسی نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی نوعیت بھی رکھتی ہے، اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا ادب زندہ مکالمے کو جنم دے رہا ہے۔
ان کے اسلوب کی بات کی جائے تو وہ سہل اور ہموار راستے کے قائل نہیں۔ طویل جملے، کم وقفے اور ایک مسلسل، بعض اوقات تھکا دینے والا بہاؤ اس بات کی علامت ہیں کہ وہ زندگی کو کسی سادہ قالب میں قید نہیں کرنا چاہتے۔ وجود کو ایک ایسا تجربہ سمجھا گیا ہے جو مکمل طور پر گرفت میں نہیں آتا، اور ان کا اسلوب اسی وجودی بے قراری کی ترجمانی کرتا ہے۔ قاری ان کی تحریر میں سانس لینے کے لیے جگہ ڈھونڈتا ہے، اور یہی تلاش رفتہ رفتہ زندگی کے مفہوم کی تلاش میں بدل جاتی ہے۔
ان کا مشہور ناول ہنگری کے بکھرتے ہوئے سماج کا نوحہ ہے، جہاں اخلاقی سمت کھو جانے کے بعد زندگی ایک دائروی حرکت اختیار کر لیتی ہے۔ انسان آگے بڑھنے کے بجائے وہیں گھومتا رہتا ہے۔ ایک اور ناول میں ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی پوری دنیا کی علامت بن جاتی ہے، جہاں تماشے، افواہیں اور علامتی کردار اس عہد کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں سچ اور جھوٹ کی سرحدیں مٹتی جا رہی ہیں۔ یہاں شر کوئی غیر معمولی شے نہیں رہتا بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
لاسلو کرسنا ہوراکائی کو نوبیل انعام دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ ادب آج بھی سوال اٹھانے اور بے چین کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ مگر یہ اعتراف اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب ادب خوف کے تمام روپوں کو پہچانے اور خود کو کسی ایک بیانیے تک محدود نہ کرے۔ خود ان کا یہ کہنا کہ ادب کو اصل خطرہ مشینوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو پڑھتے نہیں، ہمارے عہد کے ایک گہرے فکری المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جو معاشرہ پڑھنا چھوڑ دیتا ہے، وہ سوال کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے، اور جو سوال نہیں کرتا وہ ظلم کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔
یہ نوبیل انعام ہمیں یہی یاد دہانی کراتا ہے کہ ادب محض خوب صورت لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ خوف کے اس عہد میں اگر ادب اب بھی زندہ ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان ابھی مکمل طور پر شکست تسلیم نہیں کر چکا۔ مگر ادب کی یہ زندگی اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب وہ خود احتسابی سے نہ گھبرائے، کیونکہ سوال ہی وہ واحد چراغ ہے جو خوف کے اندھیروں میں بھی انسان کو روشنی کی سمت لے جاتا ہے۔ 
Dr Saif Wallahray
About the Author: Dr Saif Wallahray Read More Articles by Dr Saif Wallahray: 48 Articles with 17792 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.