قدیم محلہ ۔۔۔ گرونانک پورہ/ فیصل آباد پاکستان ۔۔۔۔تاریخ کے تناظر میں ۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ۔

قدیم محلہ ۔۔۔ گرونانک پورہ/ فیصل آباد پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔تاریخ کے تناظر میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ۔۔
فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، جو ٹیکسٹائل کا ہب ہے، یہ کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اس کا پس منظر قدیم ترین تہذیب تمدن ٹیکسلا اور گندھارا میں لکھی گئی رگ وید جو پانچ دریاؤں کی سر زمین پنجاب کا ذکر کرتی ہے، جس نے پوری دنیا کے فاتحین کو اپنی طرف کھینچا، سائرس سے لے کر اسکندر اعظم تک ترتیب وار دیگر حملہ آوروں کے بعد مغلوں نے اپنی سلطنت کا قیام کیا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی نے راولپنڈی اور سرحدی علاقوں کے بعد محبت کی دیوی ہیر کے دریا چناب جس پر پنجاب میں اپنی داغ بیل ڈالی برصغیر کے تاریخی نسلوں بھٹی راجپوت اور سیال اور سکھوں کے تاریخی پس منظر کے باعث اٹھارہ سو ساٹھ عیسوی چناب کے ڈیلٹا سے بنے سرسبزوشاداب پنجاب کے شیشم کے گھنے جنگلات کو بڑی بے دردی سے صفایا کرکے انگلستان کے حاکم وقت نے لائل‌پور کی بنیاد بدست کیپٹن پوپہم ینگ نے اپنی نگرانی میں شہر کا نقشہ برطانیہ کے جھنڈے یونین فلیگ کی طرز پر رکھوایا۔ اور یہاں کی شب کی لکڑی لندن اور برطانیہ کی تزین و آرائش کے لیے یورپ بھیج دیں گی۔ اب دیکھنے میں یہ شہر ایک مکعب کی صورت میں ڈیزائن ہو گیا اس کے آٹھ بازاروں کا اپنا انفرادی طرز ہے۔ بازاروں کے عین وسط میں گھنٹہ گھر ہے ۔یہاں کی پہچان کلاک ٹاور ہے۔ اس ڈیزائن میں لائل‌پور کا رقبہ ایک سو دس ایکڑ تھا لیکن آبادی کے اضافے کے ساتھ آٹھ بازاروں کے باہر بھی رہائشی علاقوں کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا۔ پورے پنجاب سے یہاں نئی آبادکاری شروع ہوئی دو اہم رہائشی علاقے ڈگلس پورہ اور گرو نانک پورہ۔ لائل‌پور جن میں سکھوں اور ہندوؤں کی اکثریت تھی اور آبادی کا تناسب تقریباً 15 فیصد مسلمان اور 85 فیصد ہندو اور سکھ قیام پاکستان تک باہمی طور پر رہائش پزیر تھے۔ قیام پاکستان سے انیس سو اکہتر تک لائل‌پور کی شہرت ایشیا کے ایک بڑے گاؤں جیسی تھی صدر پاکستان ایوب خان نے اوروزیراعظم ذو الفقار علی بھٹو نے اس شہر کو ٹیکسٹائل کے صنعتی انقلاب سے نوازا۔

فیصل آباد (لائل پور) میں گورنمنٹ کالج کے قریب یہ علاقہ سکھوں کی ملکیت تھی اور اسی وجہ سے 37-1936 میں گرو نانک پورہ وجود میں آیا۔ اس علاقے کا رقبہ 50 ایکڑ تھا۔ اس علاقے میں زمین سکھوں اور ہندوؤں نے خریدی اور مکان تعمیر کیے۔
تقسیم ہند کے بعد یہ مکان جالندھر سے آنے والے مہاجرین کو آلاٹ کیے گئے۔۔
گرونانک پورہ اس قدر قدیم اور مشہور محلہ ہے کہ اس کی مثال ملک بھر میں شاید نہ ہو ۔اسے فرید گنج نام سے بدلنے کی کوششیں بارآور نہ ہوئی ۔ اس محلہ میں شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کثیر تعداد قیام پذیر ہے۔ اب اس محلہ میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں ۔اگر سکھوں کا کوئی وفد اپنے پرانے مکانات کو دیکھنے کے لیے آتا ہے، اول تو وہ لوگ ہی راہی ملک عدم ہو گئے ہیں۔ اگر کوئی اتا بھی ہے تو وہ اپنے مکانات کو کبھی بھی پہچان نہیں پائے گا ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں پرانے مکانات کے نشانات بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ کہیں دیکھو تو پرانی عمارتوں اور گھروں کو گرا کر نئی عمارتیں اور مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں تو کہیں جو بچ گئی ہیں ان عمارتوں کی کھڑکیاں اور چبوترے تو پرانے ہی ہیں لیکن دیواروں کو پلستر کر کے نئی شکل دے دی گئی ہے۔

بڑے بڑے گھر اب چھوٹی چھوٹی دکانوں اور چھوٹے مکانات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کسی زمانے میں کشادہ صحن، بڑی بڑی کھڑکیوں اور بڑے دروازوں کی جگہ لوہے کے دروازوں نے لے لی اور تنگ دکانیں اور تاریک کمروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
آٹھ بازاروں سے باہر ایک اور کالونی بھی قائم کی گئی گوبند پورہ کے نام سے۔اس کالونی کو گوبند سنگھ نے بنایا اور اسی علاقے میں نہال سنگھ اور گوبند سنگھ کا ایک بڑا مکان بھی تھا۔ یہ مکان اب بھی موجود ہے لیکن کئی حصوں میں بٹ چکا ہے۔
وہی خوبصورت کھڑکیاں، لکڑی پر شاندار کام۔ لیکن اندر سے صورتحال مختلف ۔
تقسیم ہند سے قبل لائلپور میں سنت رام سکول اور خالصہ سکول ساتھ ساتھ تھے۔ اب یہ سکول اسلامیہ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن میں ضم ہو گئے ہیں۔
تاہم خالصہ سکول کی عمارت کو گرا کر ایڈمن بلاک بنا دیا گیا ہے جبکہ 'سنت رام سکول کی عمارت کو بھی گرا کر نئے بلاک بنائے جائیں گے کیونکہ کالج کو مزید جگہ کی ضرورت ہے۔
تقسیم ہند کے بعد اس محلہ کے نامور سپوت میاں زاہد سرفراز دو مرتبہ وفاقی وزیر رہ چکے ہیں ۔ایک مرتبہ قومی اتحاد کے دور میں ان کے پاس وفاقی وزیر تجارت اور دوسری مرتبہ ان کے پاس نگران وفاقی وزیر داخلہ کے قلم دان رہے ہیں۔ اب ان کے بیٹے میاں علی سرفراز ایم این اے ہیں اور ان کا تعلق بھی اسی محلہ سے بے۔ بے نظیر دور حکومت کے صوبائی وزیر صحت بدر دین چودھری کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔۔۔۔سابق چیف سیکرٹری پنجاب چودھری محمد صدیق کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے۔ان کے ایک بھائی چودھری سعید احمد چیف کلکٹر پنجاب اور ایک بھائی چودھری منظور احمد جو تعلیمی بورڈ سرگودھا کے چیئرمین تھے ان کا تعلق بھی اسی محلہ سے تھا۔ اس محلہ کے دوسرے میئر میونسپل کارپوریشن میاں احسان الحق ثانی کا تعلق بھی گرونانک پورہ سے رہا ہے ۔ مشہور محقق اور کالم نویس خالد سعید فائق راوی ہیں کہ ایک دفعہ معروف شاعر اور دانشور صدف جالندھری نے بتایا تھا کہ سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق گرو نانک پورہ کی گلی نمبر دو میں ڈاکٹر بشیر احمد کے بھائی منیر احمد کے گھر دو ماہ سے زائد عرصہ قیام پذیر رہے۔ نعت کے معروف شاعر صدف جالندھری اور عوامی شاعر نور محمد نور کپور تھلوی کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔ممتاز محقق اور نقاد ڈاکٹر صدیق جاوید بھی اس محلہ میں قیام پذیر رہے ۔۔پروفیسر محمد اعظم چودھری ، پروفیسر محمد اشرف خان شرف ، پروفیسر کلیم اللہ، پروفیسر جاوید اسلم باجوہ ، پروفیسر احسان الحق، پروفیسر محمد نواز چودھری، پروفیسر عبدالخالق ندیم اور انڈیپنڈنٹ میڈیکل کالج کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد شجاع طاہر اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر مہناز روحی ، گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر الطاف بشیر اور گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر حمیرا ارشد کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔اپنے وقت کے معروف چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد انیس خواجہ ، ٹی بی اینڈ چیسٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد ارشد بشیر ، ڈاکٹر بشیر احمد ، ڈاکٹر الطاف بشیر ، ڈاکٹر خالد جاوید ، ڈاکٹر عبد المجید ، ڈاکٹر فیاض شیخ ، ڈاکٹر اعجاز ممتاز شیخ ، پتھالوجسٹ ڈاکٹر محمد عثمان انصاری ، ڈاکٹر اشتیاق احمد ، میجر ڈاکٹر محمد اسلم ، ڈاکٹر سرفراز احمد ، سرجن ڈاکٹر نسیم احمد مرزا اور ٹی بی اسپیشلسٹ ڈاکٹر مسعود احمد ، چلڈرن سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد الیاس ، ڈاکٹر غلام سرور شیخ ، ڈاکٹر محمد شاہد اور ان کی اہلیہ گائنا کالوجسٹ راحت رشید کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے۔تاج اخبار کے مالک شاد بادشاہ ، اور اخبار "جمہوریت پسند" کے چیف ایڈیٹر میاں عبدالسلام کا تعلق بھی اسی محلہ سے تھا۔ ممتاز کالم نگار اور افسانہ نگار رانا محمد گلزار خان کپور تھلوی اور ان کے بیٹے ادیب ، کالم نگار اور پی ایچ- ڈی محقق ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔معروف اسکن اسپیشلسٹ اور ممتاز سیرت نگار ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔ممتاز سماجی شخصیت اور صنعت کار رانا افتخار احمد کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔ جماعت اسلامی کے اہم رکن اور معروف ماہر تعلیم علامہ عبدالرشید ارشد نے بھی اپنی جولانیوں سے اس محلے میں اپنے یادگار نقوش چھوڑے ہیں۔ محلہ کی قدیم جامع مسجد امیر حمزہ میں نامور مذہبی سکالر مولانا عبدالرحمن کائناتی نے ایک طویل عرصہ تک امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیے ۔جامع مسجد نور حنفیہ میں جامعہ رضویہ کے فارغ التحصیل مولانا محمد بخش رضوی نے تین عشروں سے زائد امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیے ۔گلی نمبر پانچ میں علامہ عبدالرشید ارشد نے ایک طویل عرصہ تک امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیے ۔اسی محلہ میں قائم ایک قدیم مذہبی درسگاہ اشرف المدارس(قائم شدہ 21/ اپریل 1948) جس کے سنگ بنیاد رکھنے والوں میں علامہ عبدالرحمن کائناتی کا نام نمایاں ہے۔علامہ عبدالرحمن کائناتی نے یہاں تقریبا چار سال کے لگ بھگ طلباء کو اسلامی تعلیم سے بہرہ ور کیا۔ یہاں پر دنیا کے طول و ارض سے حصول تعلیم کے لیےلوگ آتے ہیں اور قندیل علم سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرتے ہیں ۔یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے معروف ناموں میں مولانا ضیاء الحق قاسمی ، مولانا طارق اعظم اور مولانا حق نواز جھنگوی کے نام نمایاں ہیں۔شعبہ تعلیم میں سینیئر ترین ماہر تعلیم ماسٹر بابو خان کا نام بہت اہم اور محترم ہے جو پاکستان ماڈل ہائی سکول کے پرائمری حصہ کے ایک طویل عرصہ تک ہیڈ ماسٹر رہے اور جناح کالونی میں واقع جامعہ مسجد سے ملحقہ سرکاری سکول کے بانی ہونے کا بھی انہیں اعزاز حاصل ہے ۔انہوں نے کئی نسلوں کی آبیاری کی اور علم کی شمع روشن کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ۔ماسٹر بابو خان کے ایک بیٹے بشیر احمد کرمانی تعلیمی بورڈ سرگودھا کے چیئرمین بھی رہے ہیں اور ایک بیٹا چودھری نذیر احمد زرعی انجینیئر تھے ۔
سکول ایجوکیشن میں ماسٹر محمد انور طاہر ،ماسٹر احسان الحق ثانی ، ماسٹر طفیل محمّد ، ماسٹر محمد انور ، ماسٹر محمد اشرف اور زاہد حسین شیرازی نے اپنی ساری زندگیاں درس و تدریس کے شعبہ میں گزار دیں ۔ فیصل آباد میں اپنی منفرد پہچان کی حامل بدر بیکری کے مالکان کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے۔ معروف قانون دان میاں ارشد خیال ، سابق صدر ڈسٹرکٹ بار چودھری محمّد حسین(کے ٹو) ، فاروق احمد خان، چودھری زوالقرنين کے علاوہ نوجوان وکلاء میں آفتاب احمد بٹ ، محمد عمر پاشا ، عثمان پاشا، میاں ساجد محمود، رانا شکیل الرحمن ، میاں عارف جاوید ، منزہ حسین ، ابوبکر صدیق ، رانا افتخار احمد ، کیپٹن محمد اکرم ایڈووکیٹ کے علاوہ ٹیکسٹائل انجینیئر رانا عامر ذوالفقار کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔لیبر آفیسر محمد اصغر پاشا کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہی ہے۔چودری نذیر احمد ایڈووکیٹ کے فرزند ممتاز کالم نگار اور سماجی شخصیت خالد سعید فائق ، ان کے بڑے بھائی ممتاز شوکت سٹیٹیکل آفیسر ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ ، شپنگ کارپوریشن کے تجارتی بحری جہازوں کے مایا ناز کپتان محمد اکرم کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے۔۔ معروف سماجی تنظیم" ہیومن گائیڈ " کے سرپرست اور معروف شاعر میاں اقبال اختر کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔۔۔ہڈی جوڑ کے مصروف دیسی معالج پھمبی پہلوان اور معروف نباض شناس نابینا حکیم فتح محمد، حکیم مشتاق احمد خان بھی اسی محلہ کی پہچان رہے ہیں ۔۔۔چارٹرد اکاؤنٹنٹ رانا عامر گلزار خان ، ملک گیر شہرت کے حامل نعت خواں محمد رفیق چشتی ، نعت خوان دیدار حسین وارثی اور ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر انعام الحق سہری ، مجسٹریٹ چودھری عبدالرشید ارشد گجر اور ایس ایس پی محمد اسلم چودھری نے بھی اسی محلہ گرونانک پورہ کو پہچان دی ۔۔سماجی خدمت کے حوالہ سے بھورے خان ، شیر خان اور خواجہ چنے فروش والے بھی اس محلے کی شہرت کا باعث بنے ۔۔۔حافظ محمد ناصر گجر مرحوم (سابق مرکزی ڈپٹی سیکٹری پنجاب جمیعت علما اسلام) بھی اسی محلہ کے فرزند تھے ۔
معروف مذہبی رہنما صوفی محمد اشرف شاکر قادری ، معروف مذہبی رہنما محمد انوار قمرالقادری ، معروف مذہبی رہنما صاحبزادہ محمد افتخار اور معروف صوفی محمد رمضان نوشاہی بھی اسی محلے سے ہیں۔ اس محلہ میں کریانہ مرچنٹ کے شعبہ میں وسیع پیمانے پر کریانہ سٹور کو فروغ دینے میں بابا رحمت علی مرحوم اور ان کے بیٹے شیخ طالب حسین کا بڑا کلیدی کردار رہا ہے ۔ شہر فیصل آباد میں میاں بیوی کی جوڑی جن کو ایک ہی رنگ اور ڈیزائن کا لباس زیب تن کرنے میں انفرادیت اور شہرت حاصل ہے ۔لوگ مسٹر اینڈ مسز ناصر محمود کو "کپل آف فیصل آباد" کے نام سے پہچانتے ہیں۔ان کا تعلق بھی گرو نانک پورہ سے ہے۔ ٹیسٹ کرکٹر ذوالفقار احمد کینچی اور پاکستان لیول پر پاکستان فٹ بال کی نمائندگی کرنے والےغلام رسول سولی ، ڈی ایس پی عامر وحید ، پروفیسر اوقاف چودھری احسن بٹ ، چودھری محمد سلیم گجر ڈائریکٹر زراعت ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر چودھری صابر علی ، زرعی ڈاکٹر لیاقت علی ، لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار چودھری تاج دین کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔۔معروف ایکسپورٹر حاجی عبدالحق کلسی ،مشہور کاروباری شخصیت مہر بھولا آف جرمنی ، خوش ذائقہ کھانوں کی بدولت ملک گیر شہرت پانے والے جہانگیر ملک پلاؤ کچہری بازار کے مالک میاں غلام محمد اور اسی خانوادے کے چشم و چراغ سٹیج کامیڈین طارق جاوید کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر اور دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے چودھری عدیل تاج ، پاکستان مسلم لیگ کی ٹکٹ ہولڈر خواجہ محمد رضوان کا تعلق بھی گرو نانک پورہ سے ہے۔۔
ٹیکسٹائل کے شعبہ میں شہرت پانے والے ٹیکسٹائل ملز " بی بی جان انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو شیخ ثاقب الہی اور لائل پور پلائی وڈ اینڈ چپ بورڈفیکٹری کے مالکان خواجہ محمد اویس صادق اور خواجہ محمد امین صادق کا تعلق بھی اس محلہ گرو نانک پر سے رہا ہے۔۔ دوران میچ سینہ پر گیند لگنے سے جان بحق ہونے والے ٹیسٹ کرکٹر ذوالفقار علی کا تعلق بھی گرو نانک پورہ سے تھا.۔حاجی محمد طیب صدر اے ٹی آئی پاکستان، محمود احمد صدر یوتھ فرنٹ پاکستان اور پروفیسر جاوید اسلم باجوہ صدر اے ٹی آئی فیصل آباد اور بینکرز مشتاق احمد بٹ، رانا افضل قانوں گو ، لالہ راج ، چاند کلاتھ ہاؤس والے اور خالد شریف بھائی کا تعلق بھی اسی قدیم محلہ گرو نانک پورہ سے رہا ہے۔ لوم انڈسٹری میں شہرت رکھنے والے حاجی محمد عمر انصاری کا تعلق بھی اسی محلہ گرو نانک پورہ سے ہے۔۔

تحقیق و تحریر :
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
۔۔۔۔۔۔۔پی ایچ ڈی ' اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 37 Articles with 40305 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.