ڈھیروں مبارک۔ زرعی ملک سے دیہاڑی قوم تک ایک شاندار سفر


کہیے مبارک ہو۔ واقعی دل سے مبارک ہو۔ وہ بوجھ آخرکار اتر گیا جو ہمیں برسوں سے اٹھانا پڑ رہا تھا۔ اب کسی کو یہ کہنے کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی کہ “پاکستان ایک زرعی ملک ہے”۔ الحمدللہ، ہم اس جھنجھٹ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ اب ہم باقاعدہ طور پر ایک دیہاڑی دار قوم بن چکے ہیں، وہ بھی پورے ڈیٹا اور شرح نمو کے ساتھ۔سال 2005 اور 2025 کے درمیان پاکستان کے دیہی علاقوں کی آمدن کا تقابلی جائزہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے زراعت کے معاملے میں کوئی معمولی نہیں بلکہ تاریخی کارکردگی دکھائی ہے۔ بیس سال میں فصلوں کی آمدن کو تین گنا کم کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے مستقل غفلت، پالیسی کنفیوڑن، تحقیق سے نفرت اور زمین سے لاتعلقی درکار ہوتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم نے یہ سب شرائط کامیابی سے پوری کیں۔

2005 میں دیہی پاکستان کی آمدن میں فصلوں کا حصہ 34 فیصد تھا۔ مویشی 11 فیصد، تنخواہ دار اور دیہاڑی دار مزدور 25 فیصد، بیرون ملک سے ریمٹنس 10 فیصد اور غیر زرعی ذرائع 20 فیصد تھے۔ یعنی ایک متوازن مگر واضح طور پر زرعی جھکاو¿ رکھنے والی معیشت۔ کسان کا پسینہ، زمین کی پیداوار، اور دیہات کی شناخت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔پھر ہم نے ترقی کا سفر شروع کیا۔

2025 میں آ کر فصلوں کی آمدن 12 فیصد پر آ گئی۔ یہ محض کمی نہیں، ایک نظریاتی کامیابی ہے۔ اب فصلیں صرف کھانے کے لیے رہ گئی ہیں، کمائی کے لیے نہیں۔ لائیو اسٹاک یعنی جانوروں کی آمدن 12 فیصد کے قریب ہے اور پہلی بار اس نے فصلوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یوں زراعت اور لائیو اسٹاک کا مجموعی حصہ 45 فیصد سے گر کر 24 فیصد پر آ گیا۔ ریڑھ کی ہڈی اب شاید کہیں اور منتقل ہو گئی ہے، ممکن ہے کسی فائل میں۔

اس کے مقابلے میں دیہات میں تنخواہ دار اور دیہاڑی دار مزدوروں کا حصہ بڑھ کر 34 فیصد ہو گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے پردیسی 15 فیصد تک پہنچ گئے ہیں اور غیر زرعی ذرائع 27 فیصد ہو چکے ہیں۔ یعنی گاو¿ں اب کھیتوں سے نہیں بلکہ بس اڈوں، رکشوں، ٹھیکوں اور ویزا ایجنٹوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ صرف پاکستان کی کہانی نہیں، مگر ہمارا انداز منفرد ہے۔ بھارت کو دیکھ لیجیے۔ وہاں زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ کم ضرور ہوا ہے، مگر کسان کی آمدن بڑھانے کے لیے ایم ایس پی، زرعی سبسڈی، ڈیجیٹل مارکیٹس اور فوڈ پروسیسنگ پر توجہ دی گئی۔ کسان کھیت سے نکل کر مزدور نہیں بنا، بلکہ کھیت کے ساتھ جڑا رہا، بس طریقہ بدل گیا۔

چین نے تو معاملہ ہی الٹا کر دیا۔ وہاں زراعت کا حصہ کم ہوا، مگر ویلیو ایڈیشن، ایگرو انڈسٹری اور دیہی صنعتوں کے ذریعے کسان کو فیکٹری کے دروازے تک پہنچا دیا گیا۔ کھیت سے نکلنے والا مال براہ راست عالمی منڈی تک جاتا ہے۔ کسان مزدور نہیں بنا، وہ سپلائی چین کا حصہ بنا۔یورپ میں زراعت کا حصہ معیشت میں کم ہے، مگر کسان سب سے زیادہ محفوظ ہے۔ سبسڈی، انشورنس، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسان کو یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ پیچھے رہ گیا ہے۔ وہاں زراعت کمزور نہیں ہوئی، صرف اس کی شکل بدلی۔اور پھر ہم ہیں۔ ہم نے شکل بھی نہیں بدلی، صرف توجہ ہٹا لی۔

ہماری زرعی یونیورسٹیاں آج بھی فائلوں، سیمینارز اور پاورپوائنٹس تک محدود ہیں۔ ریسرچ وہی ہے جو دس پندرہ سال پہلے تھی۔ فصلوں کی ویلیو ایڈیشن پر بات تو ہوتی ہے، مگر عمل میں آتے آتے فائل ریٹائر ہو جاتی ہے۔ کسان کو نئی ٹیکنالوجی، جدید بیج، پانی کے بہتر استعمال یا مارکیٹ تک براہ راست رسائی دینے کے بجائے ہم نے اسے مشورہ دیا کہ “کوئی اور کام دیکھ لو”۔

حکومتی پالیسیوں کا حال یہ ہے کہ کبھی کسان کو گندم اگانے پر کہا جاتا ہے، کبھی نہ اگانے پر۔ کبھی درآمد، کبھی برآمد، اور کبھی اچانک قیمت کنٹرول۔ کسان کے لیے زراعت اب ایک رسک بزنس ہے، جس میں نقصان یقینی اور فائدہ حادثاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ نوجوان کھیت چھوڑ کر شہر یا بیرون ملک دیہاڑی کی تلاش میں نکل پڑا۔یہاں ایک اور قابلِ فخر پہلو بھی ہے۔ ریمٹنس۔ دیہات کی آمدن میں 15 فیصد حصہ بیرون ملک سے آ رہا ہے۔ یعنی کھیت سے نہیں، ویزا سے۔ یہ ہماری نئی زرعی اصلاحات کا خلاصہ ہے۔ زمین کماو نہیں دے رہی، پاسپورٹ دے رہا ہے۔

ہم نے زراعت کو بوجھ سمجھ کر اتار پھینکا، مگر یہ نہیں سوچا کہ متبادل کیا ہے۔ دیہاڑی دار معیشت میں استحکام نہیں ہوتا۔ آج کام ہے، کل نہیں۔ آج ڈالر ہے، کل نہیں۔ زراعت سست ضرور ہوتی ہے، مگر مستقل ہوتی ہے۔ ہم نے مستقل کو چھوڑ کر وقتی کو گلے لگا لیا ہے۔طنز کی بات یہ ہے کہ آج بھی تقاریر میں زراعت کو “ریڑھ کی ہڈی” کہا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ریڑھ کی ہڈی نظر نہیں آتی، بس نام ہی کافی ہوتا ہے۔ عملی طور پر ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جس کے گاو¿ں کھیتوں سے خالی اور ہاتھوں میں مزدوری کے اوزار ہیں۔

تو ایک بار پھر مبارک ہو۔ مبارک ہو ان پالیسی سازوں کو جنہوں نے زراعت کو نظرانداز کیا۔ مبارک ہو ان تعلیمی اداروں کو جنہوں نے تحقیق کو فائلوں میں دفن کیا۔ مبارک ہو ان “صاحبِ علم” لوگوں کو جنہوں نے زمین کی بات کو غیر سنجیدہ سمجھا۔ ہم اب زرعی ملک نہیں رہے۔ ہم اب دیہاڑی دار قوم ہیں۔ اور شاید ہمیں یہی چاہیے تھا۔

#PakistanEconomy #AgricultureDecline #RuralIncome #DayLaborEconomy #PolicyFailure #AgricultureVsLabor #EconomicShift #SouthAsiaEconomy #DevelopmentDebate

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 913 Articles with 726814 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More