چین کا پارک سٹی کا تصور
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کا پارک سٹی کا تصور تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں شہری ترقی کا تصور محض عمارتوں اور سڑکوں کی توسیع تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب اس کا مرکز انسان اور اس کا معیارِ زندگی بن چکا ہے۔ چودھویں پانچ سالہ منصوبہ بندی (2021-2025) کے دوران شہری ماحولیاتی بحالی، سبز ترقی اور شہری افادیت میں بہتری کو ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں مقامی حالات کے مطابق پارک سٹی کی تعمیر کو فروغ ملا۔ اس عمل نے شہروں میں سبزہ بڑھانے، روزمرہ زندگی کو خوشگوار بنانے اور رہائشی ماحول کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
چودھویں پانچ سالہ منصوبہ بندی کے عرصے میں چین نے شہری منصوبہ بندی اور تعمیر میں عوامی ضروریات کو ترجیح دی، جبکہ ماحولیاتی وسائل کی زیادہ معقول تقسیم کو یقینی بنایا گیا۔ اس حکمتِ عملی کے تحت شہروں میں سبزہ زاروں، پارکوں اور گرین ویز کا جال بچھایا گیا، جس سے شہری مناظر میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کے شہری تعمیر شدہ علاقوں میں سبزہ کی مجموعی شرح 43 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ فی کس پارک سبزہ 15.9 مربع میٹر تک پہنچ گیا ہے، جو 2020 کے مقابلے میں 1.1 مربع میٹر زیادہ ہے۔
صرف گزشتہ ایک سال کے دوران 4700 سے زائد پاکٹ پارکس قائم کیے گئے اور 5800 کلومیٹر سے زیادہ گرین ویز تعمیر کی گئیں۔ یہ چھوٹے مگر مؤثر پارکس شہری رہائشی علاقوں کے قریب قائم کیے گئے تاکہ لوگ آسانی سے فطرت سے جڑ سکیں۔ ماہرین کے مطابق پاکٹ پارکس نہ صرف شہری خلا کو بہتر بناتے ہیں بلکہ بچوں، بزرگوں اور خاندانوں کے لیے تفریح اور آرام کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
پارک سٹی کی تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ شہری منصوبہ بندی، ترقی اور حکمرانی کے عمل میں ماحولیاتی فوائد کو مساوی اور ہمہ گیر انداز میں فراہم کیا جائے۔ اس سے عوام کو فطرت سے قریب آنے اور بہتر معیارِ زندگی سے لطف اندوز ہونے کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔
چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے بعد متعدد پالیسی دستاویزات متعارف کرائی گئیں، جن میں شہری ترقی کے اعلیٰ معیار کے فروغ، شہری و دیہی تعمیر میں سبز ترقی، اور شہری تجدیدِ نو سے متعلق رہنما اصول شامل ہیں۔ ان پالیسیوں نے مختلف زاویوں سے شہری پارکس اور سبز مقامات کی ترقی کے لیے واضح اہداف مقرر کیے، جس سے مقامی حکومتوں کو عملی رہنمائی فراہم ہوئی۔
شہری تجدیدِ نو کے منصوبوں میں پارک سبزہ کو باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا، جبکہ شہری ہیلتھ چیک نظام میں پارکس کی سروس رینج کو جانچ کا ایک اہم پیمانہ بنایا گیا۔ اس طریقۂ کار سے پارکس کی ترتیب اور تقسیم کو بہتر بنانے میں مدد ملی اور زیادہ سے زیادہ پارکس رہائشی علاقوں کے قریب لائے جا سکے۔
چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران ملک بھر میں 19 ہزار پاکٹ پارکس اور 27 ہزار کلومیٹر سے زائد شہری گرین ویز کا اضافہ ہوا۔ پارکس کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال کی نوعیت بھی متنوع ہوتی جا رہی ہے۔ اب یہ پارکس رات کے وقت دوڑ لگانے، جسمانی ورزش، خیمہ لگانے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جس سے شہری زندگی میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ ملا ہے۔
اسی عرصے کے دوران ملک بھر میں 19 ہزار ہیکٹر پارک لان عوام کے لیے کھولے گئے، تاکہ شہری کھلے ماحول میں وقت گزار سکیں۔ پارکوں میں ٹیبل ٹینس جیسے اقدامات کے ذریعے مقامی حکومتوں نے پارکس میں 2 لاکھ 15 ہزار نئے کھیلوں کے آلات اور سہولیات شامل کیں، جس سے کھیل اور تفریح کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ،پندرھویں پانچ سالہ منصوبہ بندی (2026-2030) سے متعلق سفارشات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شہری تجدیدِ نو کو بھرپور انداز میں آگے بڑھانا ناگزیر ہے، تاکہ جدید عوامی شہر تعمیر کیے جا سکیں جو جدت، رہائش پذیری، خوبصورتی، مضبوطی، تہذیب اور ذہانت کی خصوصیات کے حامل ہوں۔ اس تناظر میں سبز ترقی اور پارک سٹی کا تصور آئندہ مرحلے میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
فی الوقت مقامی حکومتیں شہری تجدیدِ نو کی بنیاد پر لینڈ اسکیپنگ اور سبزہ کاری کے لیے “جائزہ، منصوبہ بندی اور عمل درآمد” کے نظام کو مزید بہتر بنا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سبزہ کے نئے اضافے کے ڈھانچے میں توازن اور موجودہ سبز نظام کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ شہری سبز مقامات عوامی ضروریات کے مطابق ڈھل سکیں۔
چینی حکام کے مطابق مستقبل میں پاکٹ پارکس اور شہری گرین ویز کی تعمیر، پارک سبزہ کے کھلے اور مشترکہ استعمال، اور پرانے شہری پارکس کی تزئین و آرائش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو محفوظ، سہل اور پرکشش سبز تفریحی مقامات فراہم کرنا اور عوامی تفریحی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
وسیع تناظر چین میں “پارک سٹی” کا تصور شہری ترقی کے ایک نئے مرحلے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ماحول، انسان اور شہر ایک ہم آہنگ نظام کی صورت میں آگے بڑھتے ہیں۔ چودھویں پانچ سالہ منصوبہ بندی کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کی غماز ہیں کہ سبز ترقی اور شہری تجدیدِ نو کے ذریعے شہروں کو نہ صرف زیادہ خوبصورت بلکہ زیادہ رہنے کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے۔ آئندہ برسوں میں یہ حکمتِ عملی شہری زندگی کے معیار کو مزید بلند کرنے اور ماحولیاتی تہذیب کے ثمرات کو وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ |
|