ڈیجیٹل فحاشی کا پردہ چاک
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
ڈیجیٹل فحاشی کا پردہ چاک حسیب اعجاز عاشر کہا جاتا ہے کہ قومیں تلوار سے نہیں مرتیں، قومیں کردار کے زوال سے مرا کرتی ہیں۔ جب کسی ریاست کی سرحدیں محفوظ ہوں مگر اخلاقی دیواریں منہدم ہو جائیں، جب قانون کی کتابیں سلامت ہوں مگر ضمیری صفحے سیاہ ہو چکے ہوں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ زوال دستک نہیں دیتا، وہ اندر آ بیٹھتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر اخلاقی، فحش اور بیہودہ مواد کے دس لاکھ سے زائد لنکس کا بلاک ہونا، کو روٹین کی خبر سمجھ کر ہوا میں اُڑا دینا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔اسلام آباد کی عدالت میں جمع ہونے والی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی رپورٹ اگرچہ سرکاری کاغذ پر لکھی گئی ہے، مگر درحقیقت یہ قوم کے اجتماعی ضمیر پر لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جو آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ ایک ملین سے زائد غیر قانونی ڈیجیٹل روابط، جن کا تعلق بے حیائی، فحاشی، اخلاق سوز مناظر، مذہب دشمن مواد اور ریاست مخالف افکار سے ہے، اس امر کی شہادت ہیں کہ ہم نے ترقی کے نام پر جس راہ کا انتخاب کیا، وہ روشنی سے کوسوں دور اندھیروں کی طرف نکلتا ہے ۔ یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ اسلام نے جن گناہوں پر سب سے پہلے اور سب سے سخت تنبیہ فرمائی، ان میں بے حیائی سرِفہرست ہے۔ اسلام نے فحاشی کو صرف ایک اخلاقی خرابی نہیں بلکہ اجتماعی تباہی کی جڑ قرار دیا ہے۔ظلم پر تو مہلت دی جاتی ہے، مگر بے حیائی پر مہلت کم اور پکڑ سخت ہوتی ہے۔ یہ بات لمحۂ فکریہ ہے کہ جس ملک نے “اسلامی” کا نام اپنے آئین، پرچم اور شناخت کے ساتھ جوڑا ہو، وہاں سب سے زیادہ بلاک ہونے والا مواد فحاشی اور غیر اخلاقی افعال سے متعلق ہو۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر لاکھوں لنکس کی جانچ اور ان میں سے اکثریت کا بند کیا جانا اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بے حیائی اب کسی خفیہ گوشے میں نہیں، بلکہ ہمارے ہاتھوں میں پکڑے موبائل فون میں بسی ہوئی ہے۔ ٹک ٹاک پر چھیڑا گیا سخت ترین کریک ڈاؤن اور چورانوے فیصد مواد کا بلاک ہونا اس امر کا واضح اعلان ہے کہ ہماری نئی نسل کن مناظر میں آنکھ کھول رہی ہے۔ وہ نسل جس کے ہاتھ میں تسبیح کے بجائے اسکرول ہے، جس کے کانوں میں قرآن کی تلاوت کے بجائے فحش موسیقی ہے، اور جس کے سامنے کردار کے نمونے کے بجائے اخلاق سے عاری چہرے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پی ٹی اے نے کیا بلاک کیا، سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا دیکھنا پسند کیا۔ یہ کہنا سہل ہے کہ ریاست ذمہ دار ہے، مگر یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ ریاست اکیلی قصوروار نہیں۔ فحش مواد کوئی آسمان سے نازل نہیں ہوتا، یہ وہی معاشرہ پیدا کرتا ہے جو حیا کو بوجھ اور غیرت کو دقیانوسیت سمجھنے لگے۔ جب گھروں میں نگاہوں کی حفاظت نہ ہو، جب والدین اولاد کے موبائل تو چیک کریں مگر کردار کی تربیت سے غافل ہوں، جب اساتذہ علم دیں مگر اخلاق نہ سکھائیں، تو پھر یہی نتائج سامنے آتے ہیں۔ اسلام نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا تھا۔ آج اسی حیا کو تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہلاتا ہے، شرافت کمزوری سمجھی جاتی ہے، اور بے باکی کو روشن خیالی کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ فکری الٹ پھیر ہے جس نے معاشرے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ جب حیا رخصت ہوتی ہے تو ایمان کمزور پڑتا ہے، اور جب ایمان کمزور ہو جائے تو قومیں اللہ کی نصرت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کا عذاب صرف زلزلوں اور سیلابوں کی صورت میں نہیں آتا۔ کبھی عذاب بے سکونی بن کر گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، کبھی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی اولاد کی نافرمانی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اور کبھی دلوں سے سکون چھین لیا جاتا ہے۔ یہ سب اس اجتماعی بے حیائی کا نتیجہ ہوتا ہے جسے ہم معمول سمجھ بیٹھتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کم تشویشناک نہیں کہ مذہب مخالف، ریاست دشمن اور نفرت انگیز مواد کی ایک بڑی تعداد بھی بلاک کی گئی۔ یہ امر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اخلاقی بگاڑ صرف فحاشی تک محدود نہیں، بلکہ فکری انحراف بھی اسی زوال کا شاخسانہ ہے۔ جب کردار ٹوٹتا ہے تو نظریہ بھی کمزور پڑتا ہے، اور جب نظریہ کمزور ہو تو قومیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کسی قوم کو بیرونی دشمن نے اس وقت نقصان نہیں پہنچایا جب تک وہ اندر سے زندہ تھی۔ مگر جب اخلاق مر جائے، جب ضمیر سو جائے، جب بے حیائی عام ہو جائے، تو پھر دشمن کو حملہ کرنے کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑتی۔ اگر ہم نے اسے اداروں کی ذمہ داری کہہ کر اپنے ضمیر کو بری الذمہ قرار دے دیا،تو پھر آنے والی نسلوں کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|