برین ڈرین۔ مالی فائدہ یا فکری خسارہ؟

برین ڈرین۔ مالی فائدہ یا فکری خسارہ؟
حسیب اعجاز عاشرؔ
یہ کوئی آج کی بات نہیں کہ اس دھرتی کے بیٹے، اپنی ماں کے آنچل سے لپٹ کر پلنے کے بعد، کسی اجنبی سرزمین کی کشش میں رختِ سفر باندھ لیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کبھی ہجرت مجبوری ہوا کرتی تھی، اب یہ ہجرت ایک منظم رجحان بن چکی ہے، جسے جدید معاشیات کی لغت میں برین ڈرین کہا جاتا ہے اور ہماری زبان میں اسے شاید یوں کہا جا سکتا ہے کہ:“ملک دماغ پیدا کرتا ہے، دنیا استعمال کر لیتی ہے۔”حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں سات لاکھ باسٹھ ہزار چار سو ننانوے پاکستانی روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جا بسے۔ یہ ہندسوں کا کھیل نہیں، یہ سات لاکھ سے زائد کہانیاں ہیں، کسی ماں کی خالی ہوتی گود، کسی استاد کی ضائع ہوتی محنت، کسی ریاست کی خاموش سرمایہ کاری۔
اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ نیا نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ انگلستان، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کی جانب رخ کرنے لگا تھا۔ ایوب خان کے دور میں مزدور خلیج گئے، ضیاء الحق کے زمانے میں ڈاکٹر اور انجینئر، اور اب کے دور میں تو صورتحال یہ ہے کہ طالب علم بھی پاسپورٹ کو سندِ آزادی سمجھنے لگے ہیں۔
یہ کہنا کہ ہجرت ہماری تاریخ کا حصہ ہے، اپنی جگہ درست سہی، مگر یہ آدھا سچ ہے۔ ماضی کی ہجرتیں مقصد سے جڑی تھیں، نظریے کے تحت تھیں یا وقتی معاشی مجبوری کا نتیجہ ہوا کرتی تھیں۔ آج کی ہجرت محرومی، بے یقینی اور عدمِ تحفظ کے احساس سے جنم لیتی ہے۔ آج کا نوجوان وطن چھوڑتے وقت یہ نہیں سوچتا کہ کب لوٹے گا یہ فیصلہ کر کے جاتا ہے کہ واپس نہیں آنا۔ لوٹنے کے سوال پر مسکرا کر کہتے ہیں:“وہاں سسٹم ہے۔”اِس سے بڑھ بحثیت قوم ہماری ناکامی اور کیا ہوگی؟۔
انکار ممکن نہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اس ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سال 2025 میں چالیس ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر نے نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا بلکہ معیشت کو سانس لینے کا موقع بھی فراہم کیا۔یہی وہ دلیل ہے جسے سرکاری بیانات میں فخر سے دہرایا جاتا ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی دراصل قومی معیشت کے سفیر ہیں۔ اور یہ بات جزوی طور پر درست بھی ہے۔ گھروں کے چولہے جلتے ہیں، بچوں کی فیس ادا ہوتی ہے، مکان بنتے ہیں، اور ریاست کو قرض کی کچھ سانسیں میسر آتی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے۔کیا چالیس ارب ڈالر اس قیمت کے برابر ہیں جو ہم اپنے ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، آئی ٹی ماہرین، نرسوں اور محققین کی صورت میں ادا کر رہے ہیں؟یہ وہ لوگ ہیں جن پر ریاست نے برسوں سرمایہ لگایا، سبسڈی دی، تعلیمی ادارے فراہم کیے، مگر جب وہ کارآمد ہونے لگے تو انہیں درآمد کنندہ ممالک نے کھینچ لیا، بغیر کسی لاگت کے۔یہی تو برین ڈرین کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ:“قوم بیج بوتی ہے، فصل کوئی اور کاٹ لیتا ہے۔”اور ملک بس لکڑی کے تابوتوں میں اپنوں کی لاشوں وصول کرتا رہ جاتا ہے۔
برین ڈرین کا نقصان فوری نظر نہیں آتا۔یہ کسی سیلاب کی طرح شور مچاتا نہیں آتا کہ پل بہا لے جائے، بلکہ یہ دیمک کی ماننددھیرے دھیرے سے بنیادیں کھا جاتا ہے۔ اس کا اندراج نہ بجٹ دستاویزات میں ہوتا ہے، نہ ترقیاتی منصوبوں میں۔ مگر اس کے اثرات ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ہسپتال ڈاکٹر سے خالی، جامعات محقق سے محروم، صنعت اختراع سے عاری، اور ریاست وژن سے خالی۔ جن کا عوامی زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں رہتا۔جب نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ قابلیت کا صلہ یہاں سفارش ہے، اور محنت کا انعام باہر کی زمین پر عزت، تو وہ وطنی جذبات کو دل میں رکھ کر پاسپورٹ ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں۔
یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ کیا فائدہ نقصان سے زیادہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سب سے خطرناک پہلو یہی نام نہاد فائدہ ہے، کیونکہ یہی ہمیں مطمئن رکھتا ہے۔ جب تک ڈالر آتے رہیں، ہم یہ ماننے سے انکار کرتے رہیں گے کہ اصل سرمایہ انسان ہوتا ہے، کرنسی نہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ طویل المدتی نقصانات ہمیشہ وقتی فوائد کو نگل جاتے ہیں۔زرِمبادلہ وقتی سہارا دے سکتا ہے، مگرقیادت پیدا نہیں کر سکتاتحقیق نہیں کر سکتاریاست کو خود کفیل نہیں بنا سکتا۔حل اس مسئلے کا یہ نہیں کہ نوجوانوں کو زبردستی روکا جائے یا مزید لیبر معاہدوں پر اکتفا کیا جائے۔ حل صرف یہ ہے کہ ملک کو رہنے کے قابل بنایا جائے۔ جب تک:میرٹ زندہ نہیں ہوگا،ادارے مضبوط نہیں ہوں گے،عزتِ نفس محفوظ نہیں ہوگی اور قانون امیر و غریب میں فرق نہیں کرے گا تب تک ہر پالیسی، ہر کنونشن، ہر اعلان سراسر کاغذی تسلی رہے گا۔برین ڈرین ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔ یہ چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ“اس ملک میں مسئلہ لوگوں کا نہیں، نظام کا ہے۔”جب تک ہماری ذہانت باہر جاتی رہے گی ہم ملک چلانے کے لئے باہر سے مدد مانگتے رہے گے خواہ وہ ڈالر کی صورت میں ہو یا وزارتوں کے لئے قابل لوگوں کی صورت میں یا بنے بنائے آئی ایم ایف کے پیکجز کی صورت میں۔
Haseeb Ejaz Aashir | 0334076757
Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 161 Articles with 165221 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More