قبضہ مافیا کے خلاف قانونی اقدام
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
|
قبضہ مافیا کے خلاف قانونی اقدام ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زمین، مٹی اور جائداد محض مادی اثاثے نہیں، بلکہ یہ انسان کی محنت، اس کی نسلوں کی امید اور زندگی کے خوابوں کا سنگ میل ہیں۔ جہاں یہ خزانہ محفوظ نہیں، وہاں معاشرتی دھارے کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں۔ پنجاب کی مٹی نے برسوں وہ چیخیں سنی ہیں جو عدالت کی فائلوں میں کبھی درج نہ ہو سکیں، مگر مظلوم شہری کے دل میں ہمیشہ گونجتی رہی ہیں۔ قبضہ مافیا کی برپا کردہ طاقت نے زمین کو ایک جنگ کے میدان میں بدل دیا، اور کمزور شہری اس میدان میں تنہا رہ گیا۔ ایک عام شہری جب اپنی ہی جائداد سے بے دخل ہوتا ہے تو اس کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں: یا تو وہ ظلم کے آگے ہتھیار ڈال دے، یا پھر برسوں عدالتوں، تھانوں اور دفاتر کے چکر لگا کر اپنی زندگی اجیرن بنا لے۔ ہر لمحہ اور ہر دن اس کی امیدوں کو دباتا اور اس کی زندگی کے خوابوں کو پسِ پشت دھکیلتا ہے۔ یہ وہ کرب ہے جو کسی سرکاری رپورٹ میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہو سکتا، مگر معاشرتی حقیقت کے ہر گوشے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایسے تاریک حالات میں پنجاب حکومت کی جانب سے نافذ کردہ “پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی ایکٹ، 2025” ایک علامتی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں، بلکہ ایک ریاستی اعلانِ بغاوت ہے قبضہ مافیا کے خلاف۔ یہ اعلان اس روایت کے خلاف ہے جس میں طاقتور ہمیشہ جیتتا رہا اور کمزور ہمیشہ شکست خوردہ۔ یہ اعلان ایک ایسے معاشرتی توازن کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے جو برسوں سے کمزور شہری کے حق میں بگڑی ہوئی تھی۔ یہ قانون اپنے لہجے میں خاموش ہے مگر اپنے اثر میں گہرا۔ یہ نہ نعرہ ہے، نہ تشہیر، بلکہ ایک سنجیدہ اور غیر متزلزل ریاستی ارادہ ہے کہ اب زمین کی ملکیت طاقت سے نہیں بلکہ قانون سے طے ہوگی۔ اس ارادے کی اصل اہمیت اس میں ہے کہ یہ تاخیر کے ہتھیار کو ناکارہ بنانے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ ماضی میں تاخیر ہی سب سے بڑی ڈھال رہی ہے۔ جہاں یہ قانون مظلوم کے لیے امید ہے، وہیں یہ قبضہ مافیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیونکہ اب جھوٹے معاہدے کارگر نہیں، جعلی رجسٹریاں محفوظ نہیں، سیاسی اثر و رسوخ ڈھال نہیں، اور تاخیری حربے مؤثر نہیں۔ یہ قانون طاقتور کو بتاتا ہے کہ اب زمین پر قبضہ نہیں، بلکہ قانون کی گرفت ہوگی۔ وہ گرفت جو خاموشی سے آتی ہے مگر دیر تک اپنے نشانات چھوڑ جاتی ہے۔ وہ گرفت جو یہ سکھاتی ہے کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے، مگر انصاف مستقل اور بلا خوف ہوتا ہے۔ یہ قانون ایک نفسیاتی تبدیلی بھی پیدا کرتا ہے۔ مظلوم شہری اب یہ محسوس کرے گا کہ ریاست اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، کہ اب وہ تنہا نہیں۔ یہ اعتماد معاشرتی دھارے میں گہرائی پیدا کرتا ہے، جس سے ایک نیا سماجی معاہدہ قائم ہوتا ہے: قانون کی بالادستی، طاقت کی محدودیت، اور انصاف کی روشنی۔ جب شہری خود بھی قانون کا محافظ بن جائے تو معاشرہ اندر سے مضبوط ہو جاتا ہے، اور یہی مضبوطی کسی بھی قوم کی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔ جائداد کے تحفظ کا معاشی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ جہاں ملکیت غیر محفوظ ہو، وہاں سرمایہ ڈر کے سائے میں رہتا ہے۔ یہ قانون اس خوف کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ پیغام دیتا ہے کہ ریاست صرف ٹیکس لینے والی قوت نہیں، بلکہ تحفظ دینے والی قوت بھی ہے، اور اس کا سایہ شہری کی چھت کے اوپر ہمیشہ موجود رہے گا۔ قبضہ مافیا کی تشکیل صرف چند افراد کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ذہنیت، ایک روایت، اور ایک جال ہے۔ اس جال کو توڑنے کے لیے قانون کے ساتھ ساتھ انتظامی دیانت، عدالتی ہم آہنگی اور عوامی شعور ضروری ہیں۔ اگر یہ عناصر یکجا ہوں تو وہ دن دور نہیں جب ناجائز قبضہ ایک خطرناک جرم تصور ہوگا، نہ کہ ایک منافع بخش پیشہ۔ یہ قانون ایک معاشرتی آئینہ بھی ہے جو یہ دکھاتا ہے کہ طاقت کا اصل معیار انصاف کے پیمانے سے پرکھا جائے گا، نہ کہ زور بازو یا اثر و رسوخ کے زور سے۔ اس آئینے میں ہر شہری اپنی عکاسی دیکھ سکتا ہے، اور یہی عکاسی قانون کی حقیقی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ریاستیں اسی مقام پر پہچانی جاتی ہیں جہاں وہ کمزور کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں۔ یہ قانون پنجاب کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ امتحان اس بات کا کہ کیا ریاست واقعی کمزور کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے، اور موقع اس بات کا کہ ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ تاریخی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو یہ قانون ایک علامت ہے کہ ماضی کی کمزوریاں دور کی جا سکتی ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں کئی بار زمین کے معاملات طاقت اور اثر و رسوخ کے زیر اثر آئے۔ کمزور شہری اپنے حق کے لیے عدالتوں کی دہلیز پر کئی سال انتظار کرتے رہے، مگر اکثر اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو گئے۔ اب یہ قانون اس تاریخ کا موازنہ کرتے ہوئے مستقبل کی ایک نئی راہ ہموار کرتا ہے۔ عدالتی مثالیں بھی واضح کرتی ہیں کہ کس طرح یہ قانون شہری کے حق میں امید کی کرن بن سکتا ہے۔ ایک کیس میں، لاہور کی ایک فیملی نے اپنی زمین کے لیے دس سال تک عدالت کا چکر لگایا، مگر ہر بار تاخیر اور دباؤ کی وجہ سے ہارنے کے قریب پہنچ گئی۔ آج یہ قانون ایسے کیسز میں مظلوم کو فوری تحفظ فراہم کرتا ہے، اور طاقتور عناصر کو واضح پیغام دیتا ہے کہ اب انصاف کے بغیر قبضہ ممکن نہیں۔ یہ قانون اخلاقی اور سماجی پہلو سے بھی اہم ہے۔ یہ ایک معاشرتی اصول کی قانونی شکل ہے: جو تمہارا نہیں، وہ تمہارا نہیں ہو سکتا۔ یہ اصول ہر شہری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ انصاف ہر حالت میں مقدم رہے گا۔ معاشرتی توازن کے لیے یہ قانون ناگزیر ہے۔ جب شہری جان لے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے، تو وہ خود بھی قانون کی حفاظت کرے گا۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو معاشرے کو اندر سے مضبوط کرتی ہے، اور ظلم کے خلاف امید پیدا کرتی ہے۔ اقتصادی استحکام بھی اسی قانون کا اہم جزو ہے۔ جب زمین کے حقوق محفوظ ہوں گے، تو سرمایہ کار خوف کے بغیر سرمایہ کاری کریں گے، اور ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ یہ قانون صرف جائداد محفوظ نہیں کرتا بلکہ معاشی ماحول کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ قبضہ مافیا کے لیے یہ قانون ایک واضح انتباہ ہے۔ وہ طاقت، دھونس یا سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے قبضہ حاصل نہیں کر سکتے۔ اب زمین کی ملکیت قانون کے دائرے میں ہوگی، اور ریاست ہر غیر قانونی قبضے کے خلاف کارروائی کرے گی۔ یہ قانون ایک علامت ہے کہ ریاست مظلوم شہری کے ساتھ کھڑی ہے اور طاقتور بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہوگا۔ یہ قانون ماضی کی کمزوریوں کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں معاشرتی اور اقتصادی استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ بلاشبہ، اگر اس قانون پر مخلصانہ اور بلا امتیاز عمل درآمد کیا گیا تو یہ پنجاب میں قبضہ مافیا کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے اور عام شہری کو پہلی بار اپنی ملکیت پر حقیقی تحفظ کا احساس دلائے گا۔ |
|