میں ایسا کیوں ہوں؟
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
میں ایسا کیوں ہوں؟ حسیب اعجاز عاشرؔ شاید قارئین کو یہ چھوٹا سا واقعہ لگے مگر اس کے اندر ایک پورا سماج سسک رہا ہے۔ ایک عام سا سکول، ایک معمولی سی جماعت، لکڑی کے وہی گھسے پٹے بینچ، دیوار پر لٹکتی ہوئی نصابی اخلاقیات کی تختی، اور سامنے قطار در قطار بیٹھی وہ بچیاں جن کے بستوں میں کتابوں کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے گھروں کی معاشی رودادیں بھی بند تھیں۔ ٹیچر نے یونہی، شاید گفتگو کا تسلسل قائم رکھنے کو، شاید ایک سادہ سوال سمجھ کر، بچیوں سے دریافت کیا کہ کون کتنی پاکٹ منی لاتی ہے۔ کسی نے معصومانہ فخر سے کہا: سو روپے۔ کسی نے قدرے بلند آواز میں دو سو کا اعلان کیا۔ کسی نے بتایا کہ گھر سے سو ملتے ہیں مگر بھائیوں سے بھی کچھ نہ کچھ ہاتھ آ جاتا ہے۔ ایک بچی نے کہا کہ بھائی پانچ سو دے دیتے ہیں تو اُس کے لہجے میں ایک انجانی سی برتری جھلک گئی۔ ایک اور بچی نے ہزار روپے کا ذکر کیا۔پھر کچھ آوازیں تھیں جو ہلکی تھیں، جیسے خود اپنے وجود پر معذرت خواہ ہوں۔ وہ بولیں کہ ہمیں تیس روپے ملتے ہیں۔ میری بچی نے بھی کہا کہ کبھی تیس، کبھی چالیس اور کبھی پچاس بھی مل جاتے ہیں۔ اور پھر ایک بچی تھی جو خاموش تھی لیکن خاموشی کو بھی زبان ہوتی ہے اور وہ ہم سمجھتے بوجھتے بھی سننا نہیں چاہتے۔ ٹیچر نے اصرار کیا، شاید نیک نیتی سے، شاید اس شعور کے بغیر کہ بعض سوالات بچوں کے نہیں، بڑوں کے ضمیر سے پوچھے جانے چاہئیں۔ سب بتا رہی ہیں، تم بھی بتاؤ۔ اس بچی نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد آہستہ سے کہا:“جب پاپا کو کام مل جاتا ہے تو تیس روپے مل جاتے ہیں، ورنہ کچھ نہیں۔”یہ کہہ کر وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر لفظ اُس کے گلے میں جیسے اٹک کر رہ گئے۔ شاید اُس نے کہنا چاہا ہو کہ کبھی گھر میں آٹا کم پڑ جاتا ہے، کبھی بجلی کا بل آنکھوں میں چبھنے لگتا ہے، کبھی پاپا کی خاموشی ماں کی آنکھوں سے زیادہ بولتی ہے۔ مگر وہ رک گئی۔ میری بیٹی بتاتی ہے کہ اُس لمحے ہمیں اُس پر بہت ترس آیا۔ ”ترس“ یہ لفظ بھی یہاں اپنی تمام تر وسعت کے باوجود کم پڑ جاتا ہے کیونکہ یہ وقت اپنے محاسبے کا ہے،اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا ہوتا ہے۔ ایک ننھی سی زبان سے ادا ہونے والا جملہ ہمارے تعلیمی نظام، ہمارے سماجی ڈھانچے اور ہماری اجتماعی بے حسی کے منہ پر ایک طمانچہ تھا۔ وہ تیس روپے ایک بچی کے نہیں، طبقاتی تقسیم کی دلخراش داستان تھے۔ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ سکول میں سب برابر ہیں۔ یونیفارم ایک جیسا، نصاب ایک جیسا، امتحان ایک جیسا۔ یہی تو تعلیم کا حسن ہے، یہی تو مساوات کا اعلان ہے۔ مگر یہ ساری مساوات اُس وقت کاغذ کے محل ثابت ہوتی ہے جب وقفے میں ایک بچہ سادہ نلکے کا پانی پی رہا ہوتا ہے اور دوسرا کینٹین سے ٹھنڈا جوس لا کر گھونٹ گھونٹ پیتا ہے۔ جب ایک بچہ اپنے ٹفن سے سینڈوچ، نگٹس اور چاکلیٹ نکال کر دوستوں میں بانٹتا ہے اور دوسرا روٹی پر رکھے ہوئے چند چمچ سالن سے نوالے بنا بنا کر نظریں چرا کر کھاتا ہے۔ ہم اگر اِسے خوراک کا فرق سمجھ کر نظرانداز کر رہے ہیں تو خود فریبی ہے کیونکہ یہ فرق ذہنوں پر پڑنے والی ایک ایسی گہری لکیر ہے جو بچے کے دل تک پہنچتی ہے اور پھر ساری عمر مٹنے کا نام نہیں لیتی۔ بچے سکول میں اُس بھٹی کی مانند ہوتے ہیں جہاں لوہے کو تپایا جاتا ہے، نرم کیا جاتا ہے، اور پھر کسی نہ کسی سانچے میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں احساسِ کمتری اور احساسِ برتری کے سانچے رکھ دیے جاتے ہیں۔ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ بچپن میں ملنے والا احساسِ محرومی انسان کے لاشعور میں گھر کر لیتا ہے۔ جو بچہ روز دیکھتا ہے کہ اُس کے پاس کم ہے، وہ آہستہ آہستہ خود کو بھی کم سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سوال نہیں پوچھتا، وہ ہاتھ نہیں اٹھاتا، وہ خواب دیکھنے سے پہلے ہی ڈر جاتا ہے۔بس اندر ہی اندر خود سے سوال کرنے لگتا ہے کہ ”میں ایسا کیوں ہوں؟“۔دوسری طرف وہ بچہ جو ہر وقت اپنی آسودگی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ اُس کے پاس سب کچھ ہے،تو وہ نادانستہ طور پر دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی احساس آگے چل کر یا تو بے حسی میں بدلتا ہے یا غرور میں۔ یہ نفسیاتی زخم براہِ راست بچوں کے تعلیمی رجحان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ جس بچے کا ذہن اپنی محرومی میں الجھا ہو، اُس کے لیے الجبرا کا سوال یا تاریخ کا سبق بے معنی ہو جاتا ہے۔ وہ کلاس میں موجود تو ہوتا ہے، مگر ذہنی طور پر کہیں اور۔ یوں تعلیم کا اصل مقصد، یعنی ذہن سازی اور کردار سازی، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ سکول دراصل معاشرے کی نرسری ہوتے ہیں۔ یہاں جو پودے جیسے پروان چڑھائے جاتے ہیں، کل وہی درخت سایہ دیتے یا کانٹے بچھاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل کا معاشرہ متوازن، ہمدرد اور مہذب ہو تو ہمیں آج کے سکولوں کو مساوات کی عملی تصویر بنانا ہو گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سکولوں میں نہ تو کینٹین کا نظام ہو اور نہ ہی بچوں کو پاکٹ منی لانے کی اجازت دی جائے۔ ٹفن کے لیے ایک باقاعدہ، مناسب اور مشترکہ نظام ہونا چاہیے جہاں سب بچے ایک جیسا کھانا کھائیں۔یہ بات درست ہے کہ گھروں کی معاشی حالت ایک جیسی نہیں ہو سکتی، مگر سکول کا کام اس فرق کو نمایاں کرنا نہیں، کم سے کم کرنا ہے۔ سکول اگر طبقاتی تقسیم کی نمائش گاہ بن جائیں گے تو ہم تعلیم نہیں، احساسِ محرومی تقسیم کریں گے۔یہاں والدین پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کی نفسیات کے مطابق تربیت پر اپنا دل دماغ خرچ کریں۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ اُس بچی کو تیس روپے بھی ملتے ہیں یا نہیں یا یہ صرف اُس نے اپنے غریب باپ کا بھرم رکھنے کے لئے کہہ دیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ برابری یا برتری؟ ہمدردی یا مقابلہ بازی؟انفرادی اور اجتماعی طور پر ہمیں نصاب کے ساتھ ساتھ اپنے رویوں کا بھی ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ سکولوں میں علم کے ساتھ ساتھ انسانیت کے چراغ بھی جلیں اور پھر نہ کوئی بچی آئندہ خاموشی کے ساتھ یہ نہ کہے کہ جب پاپا کو کام ملتا ہے تو کچھ مل جاتا ہے، ورنہ کچھ نہیں اور نہ کوئی بچہ اساتذہ کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے دوران ہی اپنے سوال کے کشمکش میں اُلجھا رہے کہ ”میں ایسا کیوں ہوں؟“ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|