چین کی سبز ترقی اور عالمی خوشحالی

چین کی سبز ترقی اور عالمی خوشحالی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

موسمیاتی تبدیلی، توانائی کے بحران اور حیاتیاتی تنوع کو درپیش خطرات نے دنیا کو ایک ایسے مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ پائیدار ترقی اب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عالمی بقا کی شرط بن چکی ہے۔ اس پس منظر میں چین کی سبز ترقی کی حکمتِ عملی نہ صرف ملکی سطح پر ماحول اور معیشت کے درمیان توازن قائم کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پائیدار ترقی کے لیے ایک قابلِ توجہ ماڈل کے طور پر ابھر رہی ہے۔

چین نے حالیہ برسوں میں سبز ترقی کو اپنی قومی پالیسی کا مرکزی ستون بنا لیا ہے۔ صنعتی ڈھانچے میں کم کاربن منتقلی، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحولیاتی نظم و نسق، اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے ذریعے چین نے ماحولیاتی تحفظ کو معاشی ترقی کے ساتھ جوڑنے کی عملی مثال پیش کی ہے۔ اس عمل کے دوران چین نہ صرف اپنے دوہرے کاربن اہداف کی جانب پیش رفت کر رہا ہے بلکہ دنیا کو پائیدار ترقی کے لیے ایک چینی حل بھی فراہم کر رہا ہے۔

2025 میں چین کی بجلی کی مجموعی کھپت پہلی بار 10 ٹریلین کلو واٹ گھنٹے سے تجاوز کر گئی، جس کے ساتھ وہ دنیا کا سب سے بڑا بجلی استعمال کرنے والا ملک بن گیا۔ یہ پیمانہ امریکہ کی سالانہ بجلی کھپت سے تقریباً دوگنا ہے۔ یہ اعداد و شمار چین کی صنعتی ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کو زیادہ پائیدار ذرائع کی جانب منتقل کر رہا ہے۔

چین کا بجلی کا نظام تیزی سے ایک صاف اور کم کاربن ڈھانچے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ نومبر 2025 تک ہوا اور شمسی توانائی جیسے قابلِ تجدید ذرائع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں ہوا اور فوٹو وولٹیک بجلی کی نصب شدہ صلاحیت 1.76 ارب کلو واٹ تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ ایک سال میں غیر فوسل ایندھن پر مبنی ذرائع ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ بن چکے ہیں، جبکہ کل بجلی کے استعمال کا تقریباً ایک تہائی حصہ سبز توانائی سے حاصل ہو رہا ہے۔

توانائی کی ترسیل کے شعبے میں بھی چین نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انتہائی بلند وولٹیج (یو ایچ وی) ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر کو تیز کیا گیا ہے تاکہ مغربی علاقوں میں پیدا ہونے والی صاف توانائی مشرقی اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والے صنعتی علاقوں تک پہنچ سکے۔ 2025 میں بین العلاقائی بجلی ترسیل کی صلاحیت 370 ملین کلو واٹ تک پہنچ گئی۔ ملک بھر میں 46 یو ایچ وی ٹرانسمیشن لائنیں قائم کی جا چکی ہیں، جنہوں نے "مغرب سے مشرق" اور "شمال سے جنوب" بجلی کی ترسیل کے قومی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

توانائی کے ساتھ ساتھ چین ماحولیاتی نظم و نسق اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔ شمالی چین کے اندرونی منگولیا کے علاقے الکسہ لیگ میں، جہاں صحرائی پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ ہے، مصنوعی ذہانت پر مبنی حل متعارف کرائے گئے ہیں۔ اے آئی سے چلنے والے نظام مٹی میں نمی اور پودوں کی نشوونما کی نگرانی کرتے ہیں، جس سے آبپاشی کے طریقوں میں درست اور بروقت تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈرونز اور روبوٹس شجرکاری کے منصوبوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جس سے بنجر زمین کی بحالی کے عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس استعمال نے مقامی معیشت میں بھی نئی جان ڈالی ہے۔ سبز توانائی اور ماحولیاتی سیاحت جیسے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نوجوان مقامی علاقوں کی جانب واپس آ کر معیشت اور ماحول دونوں کی بہتری میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ کے شہر ہاربن میں، دنیا کے سب سے بڑے سائبیرین ٹائیگر افزائشی مرکز میں ایک جدید اے آئی شناختی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ نظام شیروں کی حرکات، صحت اور مقام کی نگرانی میں مدد دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے جنگلی حیات کی تحقیق اور نگرانی کا عمل برسوں کے بجائے چند ہفتوں میں ممکن ہو گیا ہے، جس سے تحفظ کے اقدامات زیادہ مؤثر ہو گئے ہیں۔

اسی طرح مشرقی چین کے صوبہ جیانگسو میں نانجنگ کے لاؤشان نیشنل فاریسٹ پارک میں اے آئی، انفرا ریڈ کیمروں اور ڈرونز کی مدد سے دو ہزار سے زائد انواع، جن میں ممالیہ جانور، پرندے اور پودے شامل ہیں، کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس اسمارٹ نظام کے ذریعے انواع کی تقسیم اور ماحولیاتی رجحانات سے متعلق حقیقی وقت کا ڈیٹا حاصل ہوتا ہے، جو جامع اور سائنسی بنیادوں پر تحفظ کو ممکن بناتا ہے۔

ملکی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ چین عالمی سطح پر بھی سبز ترقی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ "گرین بیلٹ اینڈ روڈ" جیسے اقدامات کے ذریعے چین مختلف ممالک کے ساتھ سبز ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے تجربات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ افریقہ میں چین نے "گرین گریٹ وال" منصوبے کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد صحرائی پھیلاؤ کا مقابلہ اور ماحول دوست ترقی کو فروغ دینا ہے۔

وسطی ایشیا میں چین کا تجربہ خشک سالی سے نمٹنے والی زراعت، پانی کی بچت پر مبنی آبپاشی، نمکیاتی زمین کی بہتری اور کیڑوں کے کنٹرول کے شعبوں میں مقامی ممالک کو زرعی پیداوار بڑھانے اور توانائی کے زرعی استعمال میں تبدیلی میں مدد دے رہا ہے۔

سمندری ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں بھی چین سرگرم ہے۔ سمندری آلودگی اور مرجانی چٹانوں کے نقصان جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے چین نے چین۔آسیان بلیو اکانومی پارٹنرشپ اور اقوام متحدہ کی سمندری کانفرنس جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا ہے، تاکہ سمندری ماحولیاتی نظام کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

مجموعی طور پر چین کی سبز ترقی کی حکمتِ عملی اس امر کی عکاس ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں تبدیلی، ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحولیاتی نظم و نسق، اور عالمی سطح پر تعاون کے فروغ نے چین کو پائیدار ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں، جہاں زمین کی قدرتی حدود دباؤ کا شکار ہیں، چین کا تجربہ اس بات کی مثال بن رہا ہے کہ سبز راستہ اختیار کر کے نہ صرف ملکی خوشحالی بلکہ عالمی مستقبل کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093558 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More