چین میں بزرگ دوست معاشرے کی جانب اہم قدم
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین میں بزرگ دوست معاشرے کی جانب اہم قدم تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے تناظر میں بزرگوں کی دیکھ بھال ایک بڑا سماجی اور معاشی چیلنج بن چکی ہے۔ چین، جہاں آبادی کے ڈھانچے میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی اور جامع اقدامات کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں چینی حکومت نے معذور اور خود کفالت سے محروم بزرگ افراد کے لیے نگہداشت کی خدمات پر قومی سطح کا سبسڈی پروگرام متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد خاندانی بوجھ میں کمی اور ایک بزرگ دوست معاشرے کی تشکیل ہے۔
یہ پروگرام یکم جنوری سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس کے تحت ایسے بزرگ افراد جو اپنی دیکھ بھال خود کرنے سے قاصر ہیں، انہیں بارہ ماہ کے لیے ماہانہ الیکٹرانک واؤچرز فراہم کیے جائیں گے، تاکہ گھریلو، کمیونٹی اور ادارہ جاتی نگہداشت کی خدمات کے اخراجات میں جزوی کمی کی جا سکے۔
اس پروگرام کے تحت فی فرد ماہانہ واؤچر کی مالیت زیادہ سے زیادہ 800 یوان مقرر کی گئی ہے۔ یہ واؤچرز مختلف اقسام کی خدمات کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے، جن میں کھانے کی فراہمی، غسل میں مدد، گھریلو صفائی، نقل و حرکت میں معاونت، ہنگامی امداد، طبی معاونت، بحالی کی نرسنگ اور دن کے وقت نگہداشت شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ بزرگ افراد کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا بھی ہے۔
گزشتہ برس پائلٹ مرحلے کے دوران چین کے چار شہروں اور تین صوبائی سطح کے علاقوں میں اس منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تھا، جن میں آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبے شان ڈونگ کو بھی شامل کیا گیا۔ اس مرحلے میں 3 لاکھ 65 ہزار سے زائد بزرگ نگہداشت واؤچرز جاری کیے گئے، جو تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار مرتبہ استعمال ہوئے۔ استعمال شدہ واؤچرز کی مجموعی مالیت 180 ملین یوان سے تجاوز کر گئی، جس سے دسیوں ہزار خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کو بزرگوں کی نگہداشت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے اختتام تک چین میں خود نگہداشت سے محروم بزرگ افراد کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ چکی تھی، جو مجموعی بزرگ آبادی کا 11 فیصد بنتی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2035 تک یہ تعداد بڑھ کر 4 کروڑ 60 لاکھ ہو جائے گی۔
ماہرین کے نزدیک یہ سبسڈی پروگرام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ معاونت نہ صرف معذور بزرگوں کی دیکھ بھال کرنے والے خاندانوں کا مالی بوجھ کم کرے گی بلکہ بزرگ افراد کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری لائے گی۔ماہرین کے نزدیک براہِ راست بزرگوں کو سبسڈی فراہم کرنے سے گھریلو اور ادارہ جاتی نگہداشت کی حقیقی طلب کو فروغ ملے گا، جبکہ خدمات فراہم کرنے والے ادارے بھی اپنے معیار کو بہتر بنانے پر مجبور ہوں گے، جس سے بزرگوں کی نگہداشت کی صنعت میں معیاری ترقی کو رفتار ملے گی۔
یہ پروگرام چین کی مجموعی آبادیاتی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق 2024 میں چین میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 31 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2035 تک اس کے 40 کروڑ سے بڑھنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2030-2026) کی تیاری سے متعلق سفارشات میں بھی آبادی کے بڑھاپے سے فعال طور پر نمٹنے، طویل المدتی نگہداشت کے انشورنس نظام کے فروغ، معذور بزرگوں کے لیے نگہداشت کے نظام کو بہتر بنانے، اور بحالی و آخری ایام کی نگہداشت کی خدمات کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے۔
وسیع تناظر میں ،معذور بزرگوں کے لیے نگہداشت کی خدمات پر قومی سبسڈی پروگرام چین کی سماجی پالیسی میں ایک اہم اور بروقت پیش رفت ہے۔ یہ اقدام نہ صرف خاندانوں کے مالی دباؤ کو کم کرتا ہے بلکہ ایک منظم، ہمدرد اور بزرگ دوست معاشرے کی تشکیل کی جانب عملی قدم بھی ہے۔ آبادی کے تیزی سے معمر ہونے کے پس منظر میں اگر اس طرح کی پالیسیاں تسلسل اور مؤثر عمل درآمد کے ساتھ جاری رہیں تو چین بزرگوں کی فلاح اور سماجی استحکام کے میدان میں ایک مضبوط مثال قائم کر سکتا ہے۔ |
|