زرعی جدید کاری اور انسداد غربت کے ثمرات کا تحفظ

زرعی جدید کاری اور انسداد غربت کے ثمرات کا تحفظ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں دیہی ترقی کا عمل ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں توجہ محض غربت کے خاتمے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے دیرپا نتائج کو محفوظ بناتے ہوئے زرعی جدیدکاری اور جامع دیہی احیا کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر خوراک کے تحفظ اور معاشی دباؤ کے تناظر میں چین کی یہ حکمتِ عملی اس امر کی عکاس ہے کہ دیہی علاقوں کو قومی ترقی کے مجموعی ڈھانچے کا لازمی جزو سمجھا جا رہا ہے، جہاں کسانوں کی آمدنی، روزگار اور معیارِ زندگی میں مستقل بہتری کو ہدف بنایا گیا ہے۔

چینی پالیسی ساز واضح کر چکے ہیں کہ دیہی گھرانوں کے لیے طویل المدتی معاونت کو اب دیہی احیا کی وسیع تر حکمتِ عملی میں شامل کیا جائے گا، جس کے ساتھ ساتھ زرعی جدیدکاری کے عمل کو بھی تیز کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق ملک غربت کے خاتمے کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں حاصل شدہ کامیابیوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔

یہ امر غورطلب ہے کہ 2025 میں چین کی اناج پیداوار 710 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف غذائی تحفظ کو مزید مضبوط کیا ہے بلکہ بڑی آبادی کے لیے خود کفالت کے ہدف کو بھی تقویت دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زرعی پیداوار میں یہ اضافہ دیہی استحکام اور قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔

چین کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ غربت سے نکلنے والے گھرانوں کی معاونت کا تسلسل برقرار رکھنا حکومتی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان گھرانوں کو آمدنی اور روزگار کے مستحکم ذرائع فراہم کرنے کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں گے، تاکہ غربت میں دوبارہ واپسی کے خطرات کو روکا جا سکے۔ عبوری مدت کے بعد معاون پالیسیوں کا مجموعی استحکام انتہائی اہم ہے، اور باقاعدہ امدادی نظام کو دیہی احیا کی مجموعی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ اسی باعث چین کی کوشش ہے کہ سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، تاکہ بڑے پیمانے پر غربت کی واپسی کا امکان پیدا نہ ہو۔

چین میں انتہائی غربت کے خاتمے کے بعد پانچ سالہ عبوری مدت مکمل ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق اس عرصے نے دیہی گھرانوں کے لیے طویل المدتی اور پائیدار معاونت کی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ اس دوران صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اقدامات جاری رہے، جن کا مقصد دیہی آبادی میں خود انحصاری اور ترقی کی صلاحیت کو فروغ دینا تھا۔

یہ امر لائق تحسین ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں غربت سے نکالے گئے 832 علاقوں میں سے ہر ایک میں دو سے تین نمایاں اور مضبوط صنعتی شعبے تشکیل دیے گئے، جو مقامی معیشت کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی عرصے میں روزگار کی سطح مستحکم رہی، اور غربت سے نکلنے والی آبادی میں سے تین کروڑ سے زائد افراد مسلسل پانچ سال تک برسرِ روزگار رہے، جو دیہی استحکام کا ایک اہم اشارہ ہے۔

آئندہ مرحلے میں زرعی اور دیہی جدیدکاری کو ترقی کی کلید قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ ایگریکلچر، اعلیٰ معیار کی زرعی زمین اور ٹیکنالوجی پر مبنی پیداوار کے ذریعے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ مستقبل کی حکمتِ عملی میں سائنسی و تکنیکی جدت اور صنعتی جدت کے گہرے امتزاج پر توجہ دی جائے گی، تاکہ زرعی شعبے میں نئی اور معیاری پیداواری قوتیں پیدا کی جا سکیں۔

چینی حکام کے نزدیک مقامی حالات کے مطابق جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جائے گا اور اہم شعبوں میں نمایاں پیش رفت کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی، جن میں بنیادی وسائل، اعلیٰ درجے کی ذہین زرعی مشینری اور پہاڑی و دشوار گزار علاقوں کے لیے موزوں آلات کی تیاری شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد زرعی پیداوار کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور منافع بخش بنانا ہے۔

مجموعی طور پر چین کی دیہی احیا کی حکمتِ عملی اس حقیقت کی غماز ہے کہ غربت کے خاتمے کے بعد اصل چیلنج اس کامیابی کو برقرار رکھنا اور اسے پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ زرعی جدیدکاری، سماجی تحفظ اور صنعت و روزگار کے تسلسل کے ذریعے چین دیہی علاقوں کو قومی ترقی کے ہم قدم لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ پالیسی سمت اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو دیہی استحکام، غذائی تحفظ اور کسانوں کی خوشحالی چین کی مجموعی ترقی میں ایک مضبوط ستون کے طور پر ابھرتی رہے گی۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093898 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More