دنیا کی سب سے بڑی ونڈ پاور معیشت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
دنیا کی سب سے بڑی ونڈ پاور معیشت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا اس وقت توانائی کے ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی ایندھن اور ماحولیاتی آلودگی کے مقابل، قابلِ تجدید توانائی کو مستقبل کی ناگزیر ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔ دستیاب سرکاری اور بین الاقوامی اعداد و شمار واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چین نہ صرف ہوا سے بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے بلکہ اس شعبے میں تکنیکی اور صنعتی اعتبار سے بھی عالمی قیادت کا حامل ہے۔چین گزشتہ پندرہ برسوں سے دنیا میں نصب شدہ ونڈ پاور صلاحیت کے اعتبار سے پہلے نمبر پر چلا آ رہا ہے۔
چین کی قومی توانائی انتظامیہ کے مطابق نومبر 2025 کے اختتام تک ملک میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 600 ملین کلوواٹ تک پہنچ چکی تھی۔ یہ اعداد و شمار چین کو بلا شرکت غیرے دنیا کی سب سے بڑی ونڈ پاور معیشت ثابت کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر ونڈ انرجی کے فروغ میں چین کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ورلڈ ونڈ انرجی ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں چین نے 79.8 ملین کلوواٹ نئی ونڈ پاور صلاحیت کا اضافہ کیا، جو 2023 کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق دنیا میں نصب ہونے والی نئی ونڈ ٹربائنز میں چین کا حصہ 72 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مسلسل اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے بجلی استعمال کرنے والے ملک کے طور پر چین میں اب ہر تین میں سے ایک یونٹ بجلی گرین انرجی ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ بجلی نہ صرف گھریلو اور صنعتی ضروریات پوری کر رہی ہے بلکہ قومی اور عالمی توانائی و صنعتی ڈھانچے کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کے ونڈ پاور شعبے نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے۔ 2015 میں جہاں نصب شدہ صلاحیت تقریباً 130 ملین کلوواٹ تھی، وہیں نومبر 2025 تک یہ بڑھ کر 600 ملین کلوواٹ ہو چکی ہے۔ چین مسلسل سالانہ نئی تنصیبات میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ چودہویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین کی مجموعی بجلی کھپت میں ہوا اور شمسی توانائی کا حصہ 2020 کے 9.7 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 18.6 فیصد اور 2025 کے پہلے نصف میں تقریباً 25 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ شرح اب نہ صرف شہری و دیہی گھریلو استعمال بلکہ خدمات کے شعبے کی بجلی کھپت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ نئی شامل ہونے والی ونڈ اور شمسی بجلی مجموعی توانائی کھپت میں اضافے کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے، جس سے نان فوسل ایندھن پر انحصار میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
یہ تیز رفتار ترقی بڑے زمینی ونڈ بیسز، ساحلی علاقوں میں آف شور منصوبوں، مسلسل تکنیکی جدت اور حکومتی پالیسی معاونت کا نتیجہ ہے۔ یوں ونڈ پاور ایک ضمنی ذریعہ ہونے کے بجائے چین کے بجلی کے نظام کا مرکزی ستون بنتی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر بھی چین کی خدمات نمایاں ہیں۔ چین کی گرین پیداواری صلاحیت نہ صرف اس کی اپنی توانائی ضروریات پوری کر رہی ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک کو کم کاربن ترقی کے مواقع بھی فراہم کر رہی ہے۔ 2024 میں چین نے 23 ممالک کو 904 ونڈ ٹربائنز برآمد کیں، جن کی مجموعی صلاحیت 5.194 ملین کلوواٹ تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 41.7 فیصد اضافہ ہے۔ 2024 کے اختتام تک چین چھ براعظموں کے 57 ممالک کو مجموعی طور پر 5,799 ونڈ ٹربائنز برآمد کر چکا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران چین کی برآمد کردہ ونڈ اور شمسی توانائی مصنوعات نے دیگر ممالک میں تقریباً 4.1 ارب ٹن کاربن اخراج میں کمی میں مدد دی۔ اس کے علاوہ چینی کمپنیوں نے 2022 کے بعد بیرونِ ملک صاف توانائی کے منصوبوں میں تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، جو عالمی ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر دستیاب شواہد اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ چین نہ صرف ونڈ ٹربائنز بنانے والا ایک بڑا صنعتی ملک ہے بلکہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے میں بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن چکا ہے۔ تیز رفتار ترقی، وسیع تنصیبات، عالمی منڈی میں نمایاں حصہ اور ماحولیاتی بہتری میں عملی کردار ،چین کے ونڈ انرجی شعبے کی مختلف جہتوں کا عملی مظہر ہیں۔ بدلتے عالمی توانائی منظرنامے میں چین کی یہ پیش رفت نہ صرف اس کی اپنی ترقی بلکہ عالمی سطح پر صاف، پائیدار اور کم کاربن مستقبل کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔ |
|