پیوٹن کا یوکرین نامی اور ٹرمپ کا غزہ نامی پلاٹ پر قبضہ

(دنیا نیوز کی ویب سائٹ سے لی گئی تصویر)
"جنگل کا بادشاہ شیر" اور "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" جیسی باتیں بہت پرانی ہو گئیں دنیا کمپیوٹرائزڈ دور میں داخل ہوکر ڈیجیٹل ورلڈ کے دروازے سے ہوتی ہوئی آرٹیفشل تھیٹر میں داخل ہو چکی ہے اس لئے جنگِ عظیم اول، دوم اور سوم وغیرہ جیسی دقیانوسی دھمکیاں اب کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ بچپن میں کسی بات پر ہماری آپس میں بحث و تکرار ہوتی تو آخر میں ایک جملہ ہوتا تھا "جاؤ اپنا کام کرو ، اللہ کی زمین ہے، میری مرضی جو بھی کروں" جب اللہ کی زمین ہے تو کسی اتھارٹی سے 99 سال کی لیز لینے کی کیا ضرورت ہے ایک " گُل پلازہ" نامی شاپنگ مال بنانے کی یا وینزویلا نامی پلاٹ سے تیل نکالنے کے لئے 99 سال کی لیز لینے یا کرائے پر لینے کی ضرورت کیا ہے۔ چنگیز خان بھی تو اپنی تلوار اور تیر کمان لے کر گھوڑے پر سوار ہو کر نکل پڑتا اور اللہ کی زمین پر جہاں جی چاہتا پڑاؤ ڈال لیتا ، جب تک مرضی اپنے شاہی خیمے میں آرام کرتا، مالشیں کرواتا ، ہر قسم کا گوشت کھاتا اور تازہ دم ہو کر بغیر جی پی ایس یا کسی گوگل میپ کے نکل پڑتا اور یوں ہنگری سے لے کر شنگھائی تک اپنی اقوامِ متحدہ، اپنی ناٹو اور اپنی عدالتِ انصاف قائم کر لی۔سکندرِ اعظم ہو یا اکبرِ اعظم، ہر ایک مشہور تاریخی شخصیت نے بھالے کی نوک پر اللہ کی زمین پر جتنا چاہا قبضہ کیا اور امر ہوگیا تو آج پیوٹن یا ٹرمپ پر اعتراض کیوں؟۔البتّیٰ نتن یاہو زبردستی ٹرمپ کا چھوٹا بھائی بن کر اللہ کی بہت ساری زمین کا حصہ دار بننے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کے چال چلن کے بارے میں اعتراضات بھی ہیں لیکن اس کے پاس تیر و تلوار سب ٹرمپ کے دئیے ہوئے تحائف ہیں اس لئے تو لوگ اس سے ڈرتے ہیں اور اگر نہ ڈریں تو مرتے ہیں۔ ایسے موقع پر فطرت سے ہم آہنگ ہوجانے میں ہی عافیت ہے۔
Syed Musarrat Ali
About the Author: Syed Musarrat Ali Read More Articles by Syed Musarrat Ali: 379 Articles with 280422 views Basically Aeronautical Engineer and retired after 41 years as Senior Instructor Management Training PIA. Presently Consulting Editor Pakistan Times Ma.. View More