ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ثقافتی ورثے کا تحفظ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ثقافتی ورثے کا تحفظ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ایک اہم قومی اور عالمی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ تاریخی آثار نہ صرف ماضی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ قومی شناخت اور تہذیبی تسلسل کا بھی ذریعہ ہوتے ہیں۔ جدید دور میں، جہاں قدرتی عوامل اور انسانی سرگرمیاں قدیم آثار کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہیں، وہاں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر اور دیرپا حل کے طور پر ابھری ہے۔ چین نے اسی تناظر میں جدید سائنسی اور تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ثقافتی آثار کو محفوظ بنانے اور عوام تک نئے انداز میں متعارف کرانے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔
چین میں ثقافتی آثار کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قومی سطح پر فروغ دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف پالیسی دستاویزات جاری کی گئیں، جن کے تحت تھری ڈی لیزر اسکیننگ، ڈرون میپنگ، فوٹو گرامیٹری اور ڈیجیٹل ماڈلنگ جیسے جدید طریقوں کو اپنایا گیا۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے قدیم عمارتوں، دیوار نگاریوں، مجسموں اور دیگر نوادرات کو بغیر کسی فزیکل نقصان کے انتہائی باریکی سے ڈیجیٹل صورت میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔ شان شی صوبہ اس سلسلے میں ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے، جسے ’’زمین کے اوپر موجود ثقافتی آثار کا عجائب گھر‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اس صوبے میں 531 قومی سطح کے محفوظ ثقافتی مقامات موجود ہیں، جن میں تھانگ دور کی مکمل لکڑی کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ 2015 سے شان شی میں غیر منقولہ ثقافتی آثار کی منظم ڈیجیٹل اسکیننگ کا عمل شروع کیا گیا، جس کا مقصد ان تاریخی مقامات کا مستقل اور سائنسی ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔
ڈیجیٹل اسکیننگ ٹیکنالوجی نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔ لیزر اسکیننگ کے ذریعے قدیم عمارتوں کی مکمل سہ جہتی معلومات فاصلے سے اور بغیر کسی جسمانی لمس کے حاصل کی جاتی ہیں، جو روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ درست، جامع اور پائیدار سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل ڈیٹا نہ صرف مرمت اور بحالی کے منصوبوں کے لیے مستند بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے مستقل ڈیجیٹل آرکائیوز بھی تشکیل دیتا ہے۔
اب تک چین میں سینکڑوں غیر منقولہ ثقافتی مقامات کی ڈیجیٹل دستاویز سازی مکمل کی جا چکی ہے، جن میں ہزاروں قدیم عمارتیں، رنگین مجسمے اور وسیع رقبے پر پھیلی دیوار نگاریاں شامل ہیں۔ یہ ڈیٹا قومی سطح پر محفوظ کیا جا رہا ہے اور مختلف تحقیقی و حفاظتی مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر صوبوں اور خوداختیار علاقوں میں بھی ڈیجیٹل تحفظ کے منصوبے وسعت اختیار کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل تحفظ کے ان اقدامات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ثقافتی آثار کو عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی اور قابلِ فہم بنایا جا رہا ہے۔ مختلف نمائشوں میں ڈیجیٹل لائٹ پروجیکشن، تھری ڈی پرنٹنگ اور ورچوئل پریزنٹیشنز کے ذریعے قدیم فنِ تعمیر اور مجسمہ سازی کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے کہ دیکھنے والوں کو تاریخی مقامات کے قریب ہونے کا احساس ملتا ہے۔ اس طریقۂ کار نے ثقافتی ورثے کے بارے میں عوامی دلچسپی اور آگاہی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ڈیجیٹل ثقافتی تحفظ کے اثرات چین کی تخلیقی صنعتوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔ ڈیجیٹل اسکیننگ کے ذریعے محفوظ کیے گئے تاریخی ڈھانچوں اور فن پاروں کو فلم، گیم اور دیگر ڈیجیٹل مواد میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ثقافتی عناصر کی درست نمائندگی ممکن ہوئی ہے بلکہ نوجوان نسل میں تاریخی ورثے کے لیے دلچسپی بھی بڑھی ہے۔
قومی سطح پر یہ منصوبے مستقبل کے لیے واضح اہداف کے ساتھ آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ منصوبہ بندی کے مطابق آئندہ چند برسوں میں شان شی سمیت دیگر اہم علاقوں کے تمام قومی سطح کے محفوظ ثقافتی مقامات کی مکمل ڈیجیٹل اسکیننگ مکمل کی جائے گی، جبکہ صوبائی اور مقامی سطح کے آثار کو بھی مرحلہ وار اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔
چین میں ثقافتی آثار کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے اختیار کی گئی حکمتِ عملی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تاریخی ورثے کو محفوظ، مؤثر اور دیرپا انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف قدیم تہذیبی سرمائے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتے ہیں بلکہ اسے جدید معاشرے سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے چین نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ثقافتی ورثے کی حفاظت محض ماضی کو محفوظ کرنا نہیں، بلکہ اسے مستقبل کے لیے زندہ اور بامعنی بنانا بھی ہے۔ |
|