کچرے سے توانائی

کچرے سے توانائی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں توانائی کی منتقلی کا ذکر آئے تو عموماً شمسی پینلز اور ہوا سے بجلی بنانے والے ٹربائنز سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں، مگر اس تبدیلی کا ایک اہم اور نسبتاً کم نمایاں پہلو شہروں کے اندر تیزی سے فروغ پانے والے ویسٹ ٹو انرجی منصوبے ہیں۔ گھریلو کچرے کو جلا کر بجلی پیدا کرنے والے یہ پلانٹس نہ صرف شہری فضلے کے مسئلے کا حل پیش کر رہے ہیں بلکہ صاف توانائی کے حصول میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں، جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

چین کی بایوماس انرجی انڈسٹری پروموشن ایسوسی ایشن کے مطابق 2024 کے اختتام تک چین میں ویسٹ ٹو انرجی بجلی کی نصب شدہ صلاحیت 27.38 گیگا واٹ تک پہنچ چکی تھی، جبکہ اسی سال تقریباً 145.3 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا کی گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہری کچرے کو توانائی کے قابلِ استعمال ذریعے میں تبدیل کرنے کا عمل اب چین کے توانائی ڈھانچے کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت شہری ٹھوس فضلے کو جلا کر پیدا ہونے والی تیز درجہ حرارت کی گیس سے بھاپ تیار کی جاتی ہے، جو ٹربائن جنریٹرز کو چلاتی ہے۔ اس عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک جانب بجلی پیدا ہوتی ہے اور دوسری جانب لینڈفل سائٹس میں جانے والے کچرے کی مقدار نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ چین کے 2024 کے شہری و دیہی تعمیراتی شماریاتی سالنامے کے مطابق ملک میں یومیہ کچرا جلانے کی صلاحیت 11 لاکھ 58 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جو 2025 کے لیے مقرر کردہ 8 لاکھ ٹن یومیہ کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔

اس پیش رفت کے نتیجے میں گھریلو کچرے کے ’’بے ضرر‘‘ طریقوں سے خاکستر سازی کی شرح 2024 تک 99 فیصد تک جا پہنچی۔ 2005 میں جہاں 85 فیصد سے زائد شہری کچرا لینڈفل کیا جاتا تھا، وہیں 2024 تک یہ شرح کم ہو کر محض 5 فیصد رہ گئی، جبکہ جلانے کے ذریعے خاکستر سازی کا تناسب 9.8 فیصد سے بڑھ کر 84.6 فیصد تک پہنچ گیا۔

2024 کے اختتام تک ملک بھر میں 1129 کچرا جلانے والے پلانٹس فعال تھے، جن کی بڑی تعداد مشرقی چین میں واقع ہے، جہاں آبادی کی کثافت اور شہری فضلے کی مقدار زیادہ ہے۔ بیجنگ میں اس شعبے کی ترقی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق دارالحکومت میں 13 ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس قائم کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی یومیہ صلاحیت 23,975 ٹن اور نصب شدہ بجلی کی صلاحیت 526 میگا واٹ ہے۔ طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت مزید دو پلانٹس شامل کیے جائیں گے، جس سے یومیہ مجموعی صلاحیت 28,550 ٹن تک بڑھ جائے گی۔

بیجنگ کے داشنگ ضلع میں واقع ایک بڑا پلانٹ اس نظام کی افادیت کی واضح مثال ہے۔ یہ پلانٹ یومیہ 5,100 ٹن کچرا جلانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مکمل استعداد پر کام کرتے ہوئے سالانہ تقریباً 659 ملین کلو واٹ آور بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے، جو تقریباً تین لاکھ گھروں کی سالانہ بجلی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے، جبکہ پلانٹ اپنی اندرونی ضرورت کی بجلی بھی اسی عمل سے حاصل کرتا ہے۔

ویسٹ ٹو انرجی کے فوائد صرف بجلی تک محدود نہیں۔ اس عمل کے دوران جلائے گئے کچرے کا تقریباً 20 فیصد راکھ کی صورت میں باقی رہ جاتا ہے، جسے موقع پر قائم سہولیات میں بھیجا جاتا ہے۔ یہاں تانبا، لوہا اور ایلومینیم جیسی قیمتی دھاتیں الگ کر کے دوبارہ استعمال کے لیے تیار کی جاتی ہیں، یوں وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی فروغ ملتا ہے۔

چینی حکومت نے دسمبر 2025 میں ٹھوس فضلے کی بہتر ٹریٹمنٹ کے لیے ایک جامع ایکشن پلان جاری کیا، جس کے تحت 2030 تک سالانہ 4.5 ارب ٹن بڑے ٹھوس فضلے کے استعمال اور 510 ملین ٹن قابلِ ری سائیکل وسائل کے حصول کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اہداف چین کی ماحولیاتی حکمتِ عملی میں ویسٹ ٹو انرجی کے کلیدی کردار کو واضح کرتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ چین اس ٹیکنالوجی کو بیرونِ ملک بھی منتقل کر رہا ہے۔ مئی 2025 تک چینی کمپنیوں نے ایشیا، افریقہ، یورپ، اوشیانا، جنوبی اور شمالی امریکا میں 79 ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں میں قیادت یا شراکت کی۔ ویتنام کے چوتھے بڑے شہر میں قائم ایک پلانٹ، جو ایک چینی ماحولیاتی کمپنی نے سرمایہ کاری، تعمیر اور آپریشن کے ذریعے مکمل کیا، ملک کا پہلا فعال کچرا جلانے والا بجلی گھر ہے۔ اس منصوبے میں 90 فیصد افرادی قوت مقامی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی اردگرد کے علاقے کی گھریلو ضروریات کا تقریباً 60 فیصد پورا کرتی ہے۔

مجموعی طور پر ویسٹ ٹو انرجی منصوبے چین کے شہروں میں توانائی، ماحولیات اور شہری نظم و نسق کے مسائل کا ایک جامع حل پیش کر رہے ہیں۔ کچرے کو بوجھ کے بجائے وسائل میں تبدیل کرنے کا یہ ماڈل نہ صرف صاف توانائی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے بلکہ زمین، ماحول اور وسائل کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر یہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو ویسٹ ٹو انرجی چین کی سبز معیشت میں ایک خاموش مگر مضبوط ستون کے طور پر اپنی جگہ مزید مستحکم کر لے گا۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1094015 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More