مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم ‘‘ ممتاز محقق و نقاد اور دانشور ڈاکٹر محمد عالم خان انتقال کر گئے ۔ ۔۔۔

مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم ‘‘
ممتاز محقق و نقاد اور دانشور ڈاکٹر محمد عالم خان انتقال کر گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کو فیصل آباد کے محلہ شریف پورہ کے ماں بیٹا قبرستان میں سیکڑوں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صاحب کمال کے اٹھ جانے سے پاکستان ایک نامور ادیب اور مفکر سے محروم ہو گیا۔۔

عالمی شہرت کے حامل نامور ادیب، دانش ور اور ممتاز افسانہ نگار ڈاکٹر محمّد عالم خان نے زندگی کی 78 بہاریں دیکھ کر 27 جنوری 2026 کو داعیِ اجل کو لبیک کہہ دیا ۔ اردو زبان و ادب کے اس آفتاب جہاں تاب کو فیصل آباد کے محلہ شریف پورہ کے ماں بیٹا کے نام سے مشہور شہر خموشاں میں سیکڑوں سوگواروں نے پھولوں کا کفن پہنا کر آنسوؤں ، آہوں اور سسکیوں کے جذبات حزیں کا نذرانہ پیش کر کے سپرد خاک کر دیا، جس کی ضیا پاشیوں سے مسلسل سات عشروں تک اذہان کی تطہیر و تنویر کا اہتمام ہوا اور سفاک ظلمتیں کافور ہوئیں۔ اس " ماں بیٹا " شہر خموشاں کی خاک نے اس عنبر فشاں پھول کو اپنے دامن میں سمو لیا جس کی عطر بیزی سے پوری علمی و ادبی دنیا مہک اٹھی تھی۔ رنگ ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے اس کے دم سے تھے۔ ان کا وجود طلوع صبح بہاراں کی نوید تھا اور ان کی تعلیمات، ادبی خدمات اور تخلیقی کامرانیاں تاریک شب میں ستارۂ سحر کے مانند تھیں۔ اتنے بڑے مدبر کی وفات کی خبر سے پوری علمی دنیا پر سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

پروفیسر ڈاکٹر محمّد عالم خان دنیائے سخن کا ایک معتبر نام ہے۔ نقد و تحقیق ہو ، افسانہ نگاری ہو یا نظم اور غزل ، ہر صنف سخن میں انہوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم خان کی علالت مزاج یا مرض الموت کی اطلاع اس سے پہلے کہیں سے نہیں ملی ۔خاموش زندگی! خاموش موت ۔۔۔26 جنوری کی رات کے کسی پہر ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی ۔۔
صبح ان کے ملازم مختار احمد نے جب ان کے دروازے پر جا کر دستک دی تو ان کو بستر پر مردہ حالت میں پایا ۔۔وہ اپنے کوارٹر پر اکیلے رہتے تھے اور ان کی خدمت کے لیے ان کا ایک ملازم مختار احمد مامور تھا ۔۔۔دو بیٹے تھے اور دونوں ہی بیرونی ممالک میں سلسلہ ملازمت مقیم تھے ۔ایک بیٹے نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ڈاکٹر محمد عالم خان کی خانگی زندگی کئی مسائل سے دوچار رہی ۔لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے دکھ کسی کے آگے عیاں نہ کیے ۔۔
ان کے سیکڑوں دوستوں اور قدردانوں کو اس سانحہ ارتحال کی خبر بروقت نہ ہوئی ۔افسوس! اتنا بڑا صاحب کمال ہم سے اٹھ جائے اور اس کی سناؤنی ہم تک نہ پہنچے۔کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ ! زندہ قوموں کا یہ اشعار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اہل کمال سے غافل ہو جائیں ۔ایسی غفلت مجرمانہ ہوتی ہے شاید یہ ہماری غفلت ہی کی سزا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم خان کو یوں ایکا ایکی ہم سے چھین لیا گیا ۔۔
عالم کی موت عالم کی موت ہوتی ہے ۔
مشہور مقولہ ہے "مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم ‘‘
کہ ایک عالِم ربانی کی موت کو عَالَم کی موت قراردیاجاسکتا ہے ،عالِم ربانی کی موت سے ایسا خلا پیداہوتا ہے، جو آسانی سے پُر نہیں ہوتا، یعنی جب عالِم کا انتقال ہوتا ہے تو اسلام میں ایک رخنہ پڑ جاتا ہے جو آسانی سے پُر نہیں ہوتا، جیسے کہ شاعر نے کہا ہے :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
مختصر یہ کہ ’’مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم ‘‘
ترجمہ:’’حضرت ابو الدرداءؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عالِم کی موت ایسی مصیبت ہے ،جس کا ازالہ ممکن نہیں اور اسلام میں ایسا رخنہ ہے ، جسے بند نہیں کیاجاسکتا اور ایسا ستارہ ہے جو مٹ گیا اور ایک قبیلے کی موت ایک عالِم کی موت کی نسبت زیادہ آسان ہے ۔
ابھی ہم کو اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا کہ ڈاکٹر محمد عالم خان کے رخصت ہو جانے سے ہمارا کتنا بڑا نقصان ہو گیا ہے ۔اب ان کی عدم موجودگی رہ رہ کر ہمیں ان کی یاد دلائے گی اور وقت کے ساتھ ان کی جدائی کا گھاؤ بڑھتا چلا جائے گا۔ڈاکٹر محمد عالم خان بہت ہی خاموش اور تنہائی پسند تھے اور خاموشی سے کام کرنے والوں میں شمار ہوتے تھے ۔یعنی اتنے خاموش کہ خود ان کے زمانے کے اکثر لوگ بھی ان کے علمی ادبی کارناموں سے واقف نہیں ہوئے ۔۔
فیصل آباد کے محلہ شریف پورہ میں " ماں بیٹا " کے نام سے منسوب شہر خاموشاں میں ان کی تدفین کے موقع پر ان کی منہ بولی بیٹی اور ہماری کلاس فیلو ڈاکٹر ذکیہ خورشید نے مجھے ایک طرف افسردہ کھڑے دیکھ کر مخاطب کیا کہ اظہار بھائی ! جس طرح ڈاکٹر محمد عالم خان ایک تنہائی پسند تھے اور گوشہ نشینی کو پسند کرتے تھے اسی طرح وقت آخر بھی انہوں نے اس ماں بیٹا قبرستان میں بھی اس شہر خاموشاں کے ایک کونے کو پسند کیا ۔ان کی مرقد کے سرہانے اور پاؤں کی جانب دو بیری کے قدیم درخت ان کے اوپر چھاؤں کیے ہوۓ سایا فگن ہیں ۔میں بھیگی آنکھوں اور ٹوٹے دل کے ساتھ ڈاکٹر زکیہ خورشید صاحبہ کے کسی سوال کا جواب نہ دے پایا ۔۔۔
ڈاکٹر محمد عالم خان اپنے شاگردان کے سچے خیر خواہ اور مخلص دوست تھے ۔۔۔نہ صرف کھرے دوست بلکہ ایک مشفق باپ کی طرح ہمیشہ اپنے شاگردان پر سایہ فگن رہتے تھے ۔۔۔۔
ہمارے ایک اور کلاس فیلو محمد عرفان رشید قادری نے ان کی تدفین کے موقع پر ان کی مرقد کے سرہانے مسلسل قرآنی سورہ مبارکہ کا ورد جاری رکھا ۔۔خود ڈاکٹر ذکیہ خورشید بھی مسلسل درود و سلام پڑھتی رہیں ۔۔۔
اردو زبان و ادب کی ثروت کی علامت ، نامور محقق ، مؤرخ ، مترجم ، ماہر لسانیات ، نقاد و دانشور اور عظیم استاد پروفیسر ڈاکٹر محمّد عالم خان اپنے ہزاروں محبین کو سوگوار کر گئے۔۔۔۔
معدودے چند لوگ ہوتے ہیں جو کمٹمنٹ جہد مسلسل اور عزم و ہمت کا استعارہ بن جاتے ہیں ایسے ہی ایک انتھک شخص کا نام ڈاکٹر محمّد عالم خان ہے جو اپنے شاگردان اور دوستوں پر "سائبان" بنے رہتے تھے ۔ بیرون شہر یا ملک سے کوئی شاعر ادیب لاہور میں وارد ہو اور وہ ان کے قابو نہ آ پائے ایسا ممکن نہیں۔ دوستوں سے اسے ملوانے ، اسے عزت دینے اور اس کے کام کی تحسین و ستائش میں یہ ون مین آرمی پیش پیش رہتی تھی۔ پھر ان کے خلوص بھرے حکم نامے کو پس و پیش کی نذر کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا ۔ وہ اپنے شاگردوں کے سچے خیر خواہ اور ہم درد اور دوستوں کے جانثار ساتھی بن کر دکھاتے تھے ۔۔ان کا وجود کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تھا۔
اللہ تعالی ان کی بخشش فرمائے اور درجات کی بلندی سے نوازے ۔آمین

تحریر: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

 

Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 52 Articles with 44550 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.