عزم و ہمت کا استعارہ ۔۔ محمّد عامر گلزار ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر :ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad/ Pakistan)
|
عزم و ہمت کا استعارہ ۔۔ محمّد عامر گلزار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر :ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا کوئی مخصوص فارمولا نہیں ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے بیرونی عناصر میں جہاں حالات و واقعات کا کردار اہم ہوسکتا ہے، وہیں انسان کے اندر کچھ ذاتی اقدار کا ہونا بھی ضروری ہے۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ دنیا کے امیر ترین افراد میں ایک قدرِ مشترک یہ پائی جاتی ہے کہ وہ مطالعہ بہت کرتے ہیں۔ تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ صرف کتابیں پڑھنے سے کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ کچھ لوگ پڑھ لکھ نہیں سکتے تو کیا ان پر کامیابی کے راستے بند ہوجاتے ہیں؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ دراصل، انسان کی مجموعی شخصیت، خصوصیات اور ذاتی اقدار کا مجموعہ مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ زندگی میں کون شخص کامیاب ٹھہرے گا اور کون نہیں۔ آئیے آپ کو اپنے پیشے میں ایک کامیاب انسان سے ملواتے ہیں۔ جس کی شخصیت سازی بچپن سے جوانی تک میرے سامنے ہوئی ۔اس کا ایک ایک عمل میرے ( راقم ) کے لیے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے ۔میں نے عام بچوں سے ہٹ کر اسے سنجیدہ طبیعت ، محنتی ، نیک دل ، خدا ترس ، مؤدب اور سراپا انکسار دیکھا۔ وہ کوئی منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوا ، اس نے اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصدق سے اپنی دنیا آپ بنائی ہے۔
بقول علامہ اقبال :
اپنی دُنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہے
سرِّ آدم ہے، ضمیر کُن فکاں ہے زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتا روشن شرَرِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!
ایک محنت کش کے بیٹے کی کامیابی دوسروں کے لیے مینارہ نور ہے ۔۔۔۔اور وہ شخصیت ہے ،جناب محمد عامر گلزار کی جو ہمارے لیے عزم و ہمت کا ایک روشن استعارہ ہیں۔ محمّد عامر گلزار پیشے کے حوالے سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کی بیشتر ٹیکسٹائل ملز میں بطور انٹرنل آڈٹ آفیسر خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔۔ اس کے بعد چند سال آپ نے دبئی کی بیشتر فرموں میں بطور اکاؤنٹس آفیسر اپنی خدمات سر انجام دیں ۔۔دبئی میں چند سال اپنی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینے کے بعد آپ سعودی عرب کے انڈسٹریل شہر دمام چلے گئے اور زندگی کا ایک بیشتر حصہ وہاں کی معروف کمپنیوں میں سینیر اکاؤنٹس آفیسر اور مینجر کے عہدہ پر کامیابی سے اپنی خدمات سر انجام دیں ۔۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے حوالے سے اپنی ذاتی فرم بنا لی ۔جس کو عامر گلزار اور ان کی ٹیم نے نہایت اعتماد ، محنت ، لگن ، جدوجہد اور خلوص کے ساتھ چلایا اور سعودی عریبیہ کے مختلف شہروں کی معروف انڈسٹریز اور دیگر فرموں کے آڈٹ اور دیگر معاملات کو حل کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ۔۔ عامر گلزار ایک محنتی اور باہمت نوجوان ہے جس کی گھٹی میں محنت ، لگن ، دیانت داری اور خلوص جیسے اوصاف کوٹ کوٹ کر بھرے ہوۓ ہیں ۔ ان کے والد گرامی رانا محمد گلزار خاں ایک محنتی ،جفاکش اور ایماندار محنت کش انسان تھے ۔ اور یہی اعلی اوصاف ان کو اپنے والد بزرگوار سے گھٹی میں ملے ہیں ۔ سعودی عریبیہ میں رہتے ہوئے آپ نے وہاں کے مختلف شہروں الریاض ، جدہ ، مدینہ المنورہ ، خوبر اور دیگر شہروں کے صنعتی اداروں کے اکاؤنٹس کے معاملات کا آڈٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔۔۔ ازاں بعد وہ سعودی عریبیہ کو چھوڑ کر انگلینڈ چلے گئے اور وہاں انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں اپنی وہی آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کی فرم بنا لی ۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نے وہاں پر اپنا ذاتی کاروبار شروع کر دیا ۔۔ان دونوں محاذوں پر عامر گلزار نہایت اعتماد ، خلوص ،لگن ،ایمانداری اور تندہی سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ محمد عامر گلزار 23 جولائی 1975 کو رانا محمد گلزار خاں کے ہاں ضلع فیصل آباد کے ایک نواحی گاؤں (چک نمبر 87 گ ب (گوگیرہ برانچ فیصل آباد میں پیدا ہوۓ ۔ یہ ابتدائی تعلیم اور میٹرک کا امتحان گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول فیصل آباد سے پاس کیا ۔اس کے بعد ایف ایس سی اور گریجویشن کے امتحانات گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے پاس کیے ۔ ازاں بعد انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان' کراچی(ICAP) سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا امتحان پاس کیا ۔یوسف عادل اینڈ کمپنی سے آرٹیکل شپ مکمل کرنے کے بعد فیصل آباد کی ایک معروف انڈسٹریز بسم اللہ ٹیکسٹائل سے اپنی پیشہ ورانہ ملازمت کی بسم اللہ کی، یعنی پیشہ ورانہ عملی زندگی کا آغاز بطور انٹرنل آڈٹ آفیسر کیا ۔
محمّد عامر گلزار پیسہ، طاقت اور شہرت حاصل کرنے کے طریقہ کار میں بالکل واضح ہیں۔ وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے اپنی سمت کا بالکل شروع میں ہی واضح تعین اور اعلان کرتے ہیں۔ وہ ذرائع اور وسائل کے حصول پر مطمئن نہیں ہوجاتے بلکہ اسے اپنی منزل کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسی میں خوش رہتے ہیں۔ عامر گلزار اپنی کامیابیوں کا دوسروں کی کامیابیوں سے موازنہ ضرور کرتے ہیں لیکن وہ اسے مثبت، تعمیری اور تعریفی انداز میں لیتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بہتر صلاحیتوں اور ہنر کی نشاندہی کرکے انھیں اپنی ’پرسنل ڈیویلپمنٹ‘ کے لیے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسا کرنے میں وہ رقابت یا حسد کا جذبہ نہیں رکھتے۔ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ حسد یا رقابت کا جذبہ پروان چڑھا کر وہ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ ۔وہ صرف خود سے مقابلہ کرتے ہیں، وہ دوسروں کو رول ماڈل بناتے ہیں حریف نہیں۔ عامر گلزار بنیادی طور پر مذہبی آدمی ہیں۔اللہ پاک کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنے کو وجہِ نجات سمجھتے ہیں ۔یہی وہ حقیقی جذبہ ہے جس سے سرشار ہوکر وہ خدمت خلق کو اولین ترجیح دیتے ہیں ۔
عامر گلزار دوسروں کے لیے انتہائی ہم احساسی (Empathy)کے جذبہ سے لبریز رہتے ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جس میں دوسروں کی مدد کی جاسکے، وہ ان کی صلاحیتوں کے معترف ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کو سُنتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ ایک خدا ترس ، نیک طینت اور مرنجاں مرنج شخصیت کا حامل ایک زندہ دل نوجوان ہے۔ کامیاب لوگوں کی مثال کے لیے یہاں حضرت پیر مہر علی شاہ کا قول منقول کر رہا ہوں حضرت پیر مہر علی شاہ کے ایک بیٹے کا نام "باؤ جی" تھا ۔ان کے بچپن کے زمانے میں جب انگریز نے گولڑہ شریف میں ٹرین چلائی تو باؤ جی روزانہ ٹرین دیکھنے چلے جاتے تھے ۔ایک دن مریدین نے باؤ جی سے روزانہ وہاں جانے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ٹرین سے محبت ہو گئی ہے ۔مریدین مزید متجسس ہو گئے۔ محبت کی وجہ پوچھی تو باؤ جی نے انتہائی دانش مندانہ جواب دیا جو نو برس کے عام بچے کی فہم و فراست سے بہت بڑا تھا ۔ باؤ جی نے کہا پہلی وجہ یہ کہ ٹرین کا انجن ٹرین کو اس کی منزل تک لے کر جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ آخری ڈبے کو بھی ساتھ لے کر جاتا ہے، تیسری وجہ یہ کہ آگ خود کھاتا ہے۔ ڈبوں کو نہیں کھانی پڑتی ۔چوتھی وجہ یہ کہ صراط مستقیم پر چلتا ہے جبکہ پانچویں وجہ یہ کہ انجن ڈبوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ڈبے اس کے محتاج ہوتے ہیں۔ باؤ جی نے اپنے اس جواب میں لیڈر کی بنیادی خوبیاں بیان کر دیں جن کی مزید تشریح کے لیے میں کیمسٹری کا سہارا لینا چاہتا ہوں۔
کیمسٹری یا علم کیمیاء ہماری زندگی میں ایک بنیاد کی حثییت رکھتا ہے کیونکہ ہماری بنیادی ضروریات کا اس سے گہرا تعلق ہے عمارت کے مٹیریل سے لے کر اشیائے خورد و نوش تک اور کھانا کھانے سے لے کر اس کے انہضام تک سب کیمسٹری کا مستحق ہے ۔کیمسٹری کی تاریخ بتاتی ہے کہ یونانیوں کے مطابق دنیا میں چار عناصر پائے جاتے ہیں جن میں مٹی، پانی ، ہوا اور آگ شامل ہیں ۔ایک مدت تک یہ تھیوری درست قرار دی گئی مگر بعد ازاں مزید تحقیق کے بعد یونانیوں کی یہ تھیوری غلط ثابت ہوئی ،کئی راز دریافت ہوئے بعض مصنوعی عنصر بنائے گئے جس کے بعد آج دنیا میں 109 انسانی علم میں آ چکے ہیں ۔یونانیوں کی اس تھیوری کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو میرے نزدیک یہ تھیوری لائف سائنسز کے حوالے سے بالکل درست ہے ۔دنیا کی کسی بھی کامیاب شخصیت کا مطالعہ کریں یا اپنے ارد گرد موجود کامیاب افراد پر نظر دوڑائیں تو ان کے اندر آپ کو یونانیوں کے بتائے ہوئے یہ چار عناصر ملیں گے ۔آج ہر نوجوان کامیاب ہونا چاہتا ہے ، لیڈر بننا چاہتا ہے ، بزنس کرنا چاہتا ہے ، سماجی کارکن بننا چاہتا ہے کہ وہ جس بھی فیلڈ میں جائے، کامیابی اس کے قدم چومے ۔ بقول اقبال خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
کامیابی کے بھی کچھ ضابطے ہیں جن پر پورا اترنا لازمی ہے لہذا اگر کوئی شخص کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اس کے اندر یونانیوں کے بتائے ہوئے چار عناصر کا موجود ہونا ضروری ہے ۔ محمد عامر گلزار نے ان چاروں اصولوں کو اپنی زندگی کا مطمع نظر بنا رکھا ہے ۔اور وہ ان چاروں اصولوں پر پورا اترنے کی حتی المقدور کوشش کرتا ہے ۔
پہلا عنصر مٹی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مٹی کی یہ خوبی ہے کہ دنیا کی تمام تر خوبیوں کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے غرض کہ وہ مردہ جسم جسے لوگ اپنے پاس نہیں رکھتے، زمین اسے بھی اپنی آغوش میں چھپا لیتی ہے ۔انسانی فضلا ، کچرا اور دیگر قسم کا گند زمین کے نیچے موجود ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا مگر ہم اس گندگی کے اوپر بڑی بڑی عالی شان عمارتیں بنا کر ان میں ٹھاٹ باٹھ سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ہم مٹی کو اپنے قدموں تلے روندتے ہیں اور اس پر اکڑ کر چلتے ہیں مگر جب ہمارے مردہ جسم کو لوگ اپنے پاس رکھنا گوارا نہیں کرتے تو یہ مٹی ہمیں اپنی آغوش میں پناہ دیتی ہے ۔ ہم اس مٹی پر بے پناہ ظلم ڈھاتے ہیں، اس پر تھوکتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ ہمارا خیال کرتی ہے ۔اور ہماری تمام تر ضروریات پورا کرتی ہے جن میں اناج، کپڑا ،معدنیات و دیگر چیزیں شامل ہیں ۔میرے نزدیک ایک کام یا شخص کے اندر مٹی خوبی جیسی خوبی کا ہونا لازمی ہے۔کہ وہ لوگوں کی دی گئی تکالیف ان کی تنقید اور برائیوں کو اپنے اندر دفن کر دے، اپنا مشن جاری رکھے اور پروڈکٹیو کام کرے۔ عامر گلزار دوسروں کی کمیوں، کوتاہیوں اور برے سلوک کو نظر انداز کرتا ہوا آگے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ اسے اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ کون کیا کہتا ہے اور کیا کرتا ہے ۔ جیسے کسی نے کہا ہے۔
دنیا کب چپ رہتی ہے کہنے دو جو کہتی ہے وہ سر جھکائے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے اور کامیابیاں اس کے لیے چشم براہ ہوتی ہیں ۔
دوسرا عنصر پانی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص ٹھیک نہیں ہے۔ ان کی اپنے آفیسر سے نہیں بنتی وہ کلاس یا دفتر میں ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔میرے نزدیک یہ اس شخص کی اپنی کمزوری ہے کہ اس میں ماحول کے مطابق ایڈجسٹ ہونے کی صلاحیت نہیں ہے ۔پانی کو جس بھی برتن میں ڈھالیں وہ اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ لہذا انسان کی شخصیت میں پانی کی اس خصوصیت کا ہونا لازمی ہے کہ وہ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لے اور مسائل و مسائل کی وجہ سے ٹوٹے نہیں بلکہ اپنا کام جاری رکھے ۔
یہ پانی کی طرح کی یہ خوبی بھی عامر گلزار میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ، وہ جس ماحول میں بھی جاتا ہے اسی ماحول میں ایڈجسٹ ہو جاتا ہے ۔اور اپنے فن اور کام کے ذریعے لوگوں کے دل جیتتا ہے اور لوگ اس کے گرویدہ ہوتے چلے جاتے ہیں ۔وہ اچھی اور مخلص دوستی نبھانے کے فن سے بخوبی آگاہ ہے ۔
تیسرا عنصر ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا تمام جانداروں اور بعض بے جان چیزوں کی ضرورت بھی پوری کرتی ہے جس میں گاڑی کے ٹائر، پریشر بریک و دیگر چیزیں شامل ہیں ۔ہوا کی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ نظر نہیں آتی مگر سب کی ضرورت پوری کرتی ہے اور اس کا موجود ہونا سب کے لیے باعث سکون ہوتا ہے لیکن اگر ہوا نہ ہو تو سانس بند ہونے لگتا ہے۔ ایک کامیاب انسان کے اندر ہوا کی خوبی ہونا بے حد ضروری ہے ۔کیونکہ وہ جس جگہ بھی موجود ہو وہاں کے لوگوں کی ضرورت بن جائے اور اس کے ساتھ ساتھ خاموشی سے دوسروں کی مدد بھی کرتا رہے جس طرح بہت سارے سماجی کارکن ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے لوگ کرتے ہیں ۔ ہوا کی طرح اگر یہ ہمدرد لوگ معاشرے میں موجود نہ ہوں تو گھٹن کا احساس ہوتا ہے اور معاشرہ تباہی کی طرف چل نکلتا ہے ۔
کامیابی کا تیسرا عنصر "ہوا"جس طرح نظر نہیں آتی لیکن معاشرے میں اپنا بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کرنے والے لوگ آپ کو محسوس نہیں ہوں گے، نظر نہیں آئیں گے لیکن ان کا کیا ہوا کام ان کے ذریعے سے پایا تکمیل تک پایا جانا والا کام اپنا احساس ضرور دلائے گا ۔۔ایسے ہی خاموش انسانی خدمت گاروں میں ایک نام محمد عامر گلزار کا بھی ہے ۔جس کا وجود معاشرے کے لیے رحمت کا باعث ہے ۔
چوتھا عنصر آگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگ کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنے مقصد میں بالکل واضح ہے ۔آگ کا کام ہے کہ جو بھی چیز اس کے راستے میں آئے اسے جلا کر راکھ کر دے ۔کامیابی کے خواہاں شخص میں آگ کی یہ خوبی ہونا لازم ہے کہ آپ اپنے مقصد میں بالکل واضح ہوں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ آگ کے حوالے سے مزید تشریح کی گنجائش موجود ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہم سب کے علم میں ہے آپ علیہ السلام کو جلانے کے لیے نمرود نے آگ جلائی اور وہ آگ اتنی شدید تھی کہ اس میں کوئی بھی چیز پھینکی جاتی تو وہ جل کر راکھ ہو جاتی۔ ایک آگ وہ تھی جو نمرود نے لگائی اور ایک آگ وہ تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اندر تھی یعنی عشق باری تعالی کی آگ ۔۔آپ علیہ السلام اپنے مقصد میں بالکل واضح تھے لہذا ذرا بھر بھی ڈگمگائے نہیں اور نمرود کی لگائی ہوئی آگ میں چھلانگ لگا دی ۔
بقول اقبال بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشہ لب بام ابھی
کامیاب لوگوں کی کامیابی کا چوتھا عنصر آگ ہے۔ کامیابی کے خواہاں شخص میں آگ کی یہ خوبی ہونا لازم ہے کہ آپ اپنے مقصد میں بالکل واضح ہوں کہ آپ کو کیاکرنا ہے ۔اس کے اندر اپنے کام کی تڑپ اور امنگ ہو ۔اور معاشرے کے کامیاب لوگوں میں یہ خوبی اتم درجہ پائی جاتی ہے ۔ اور مجھے یہ خوبی محمد عامر گلزار میں واضح نظر آتی ہے
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ کے اندر کچھ بھی دکھانے کی آگ موجود ہے ،آپ اپنی لگن میں مگن ہیں ، تو پھر دنیا کی کوئی بھی رکاوٹ آپ کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی ۔ آپ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے ۔ محمد عامر گلزار وطن عزیز پاکستان کا ہونہار فرزند ، جس نے محنت، لگن ،حوصلہ اور جذبے سے اپنی منزل کو حاصل کیا ہے ۔اس کی شخصیت آج کے نوجوانوں کے لیے مینارہ نور ہے ۔ جس نے اپنی ہمت اور والدین کی دعاؤں سے ستاروں پر کمندیں ڈالی ہیں ۔۔ عامر گلزار۔۔۔ تم جیو ہزار سال
ایسے ہی باہمت لوگوں کے بارے میں جگر مراد آبادی نے کیا خوب کہا ہے ۔۔
ےاپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
>>>>>>>>>>>>>>>>>> |
|