نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر کہتے ہیں کے نام ایسا کرو کے کام ہوجائے اور یا پھر نام ایسا ہو کے سنتے ہی کام ہوجائے مگر اگر کسی انسان میں یہ دونوں صلاحیتیں ہوں تو وہ انسان حاجی نیاز بلوچ کہلاتا ہے۔ تعلق ایسی جگہ سے جہاں سے بہت ہی کم لوگ نشونما پاتے ہیں، ملیر کی ہری بھری سرزمین کا مرد مجاہد مرد قلندر نام حاجی نیاز بلوچ۔ جیسا کے شروع میں ہی بتا چکا ہوں کے اپنے عظیم ذہانت اور کشادہ ذہن کی وجہ سے ہر دل کو جیت لیتے ہر انسان کے دل میں گھر کرلیتے۔ بغیر کسی تفریق یعنی رنگ اور نسل ،ذات اور فرقہ واریت سے بالا ہو کر انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہے۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی جگہ اندھیرا ہو تو وہاں روشنی جلا کر ایک نئی زندگی دی جاتی ہے اور اب ایسا ہی کچھ ہورہا تھا ملیر کی سرزمین پر شروع سے ہی اپنی عمدہ شخصیت کی بدولت لوگوں کی زندگیوں پر اپنے مثبت اثرات چھوڑے ۔ خاندانی طور پر رئیس تھے لوگوں کی مدد کرتے اور ان کے دکھوں کا مدوا بھی کردیتے۔ ایسا نہیں تھا کے یہ سب ایک رات میں جادوئی طور پر ہوگیا ہو بلکہ یہ سب والدین کی بہترین تربیت اور ساتھ رہنے والے دوستوں کی وجہ سے تھا۔ محبت کے دو بول بول کر آپ دل جیت لیتے اور علاقے کے لوگوں کی زباں پر صرف حاجی نیاز کا نام ہی تھا۔ حاجی صاحب کی زندگی انسانیت کی خدمت کا ایک عظیم نمونہ ہے۔ کئی کام وہ کردیا کرتے تھے جیسے کے لوگوں کی مدد ان کے جائز اور نہ ہونے والے کام اور سب سے بہترین اور عمدہ کے اپنی باکمال صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین مشورے بھی دیا کرتے تھے۔ کسی کی بھی زندگی بدلنے میں مشاورت اہم سنگ میل ثابت ہوتی ہے۔ حاجی صاحب کا شمار ملیر کی چند معزز ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ موجودہ ملیر ٹاون کے چئیرمین جناب جان محمد بلوچ آپکے بھائی ہیں اور ایک بھائی ہی اپنے بھائی سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ عوامی خدمات ہوں یا پھر کوئی موضوع حاجی صاحب جو بھی بولتے بہترین بولتے۔ آپکی زندگی تمام تر انسانیت کی خدمت پر وقف ہوگئی اور یوں آپ ان چند مشہور شخصیات میں شامل ہوگئے جہاں آج ہر کوئی صرف خواہشمند ہے۔ بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو۔ سینوں میں اجالا کر ،دل صورت مینا دے۔ یہاں یہ بات بھی اپنے پڑھنے والوں کو بتادوں کے حاجی صاحب نے کئی ایسے کام کئے جو آج بھی صدقہ کے طور پر جاری ہیں ۔ ملیر کی سیاست میں ریڑ کی ہڈی رکھنے والے شخص نے وہ وہ کام کئے کہ اگر بتانا شروع کروں تو شاید ایک کتاب لکھنی پڑھ جائے مگر چونکہ یہ ایک مختصر تعارف ہے اور الفاظ کا استعمال انتہائی مناسب ہے تو لہذا اب میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ کو کوئی واقعی عملی اقدامات اور انسانیت کو زندہ رکھنے والا ملے تو اسے صرف حاجی نیاز بلوچ کہتے ہیں ایسے لوگ ہماری سوسائٹی کے لئے عملی نمونہ ہیں جن کی تعلیمات اور احکامات کی بدولت آج بھی ملیر ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اسکے علاوہ تعلیمات کی بدولت لوگوں میں اب شعور بھی آرہا ہے اور ایک بہترین سوسائٹی بھی جنم لے رہی ہے۔ عشق کی ایک جست نے طے کردیا قصہ تمام اس زمیں و آسماں کو بے گراں سمجھا تھا میں ملیر کی یہ عظیم ہستی 5 فروری 2007 بروز پیر کی اس دنیا فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔ حاجی صاحب آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور کسی بھی شخص کو اس بات کا یقین نہیں آتا کہ انہیں ہم سے بچھڑے 19 برس بیت گئے مگر ان کے چاہنے والے آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں اور اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ دھوپ دیکھی ہی نہیں تھی ، بارشوں کا ڈر نہ تھا آج سب دیکھا ہے جب ایک سائباں سر پر نہ تھا۔
|