جدید ٹیکنالوجی کا سماجی تحفظ میں بڑھتا کردار
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
جدید ٹیکنالوجی کا سماجی تحفظ میں بڑھتا کردار تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں غربت کے مکمل خاتمے کے اعلان کے بعد سب سے بڑا چیلنج ان خاندانوں کو دوبارہ غربت کی دلدل میں پھسلنے سے بچانا ہے جو حالیہ برسوں میں معاشی استحکام حاصل کر چکے ہیں۔ امراض، روزگار میں اچانک کمی، یا دیگر غیر متوقع حالات ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی وقت کمزور گھرانوں کی مالی حالت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین مختلف صوبوں میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی نظام متعارف کرا رہا ہے، جن کا مقصد خطرات کی بروقت نشاندہی اور فوری مدد کو یقینی بنانا ہے۔
جنوب مغربی چین کے صوبہ گوئیژو میں اس حکمت عملی کی ایک نمایاں مثال سامنے آئی، جہاں ایک صوبائی ڈیٹا پلیٹ فارم نے ایک دیہی خاندان کو درپیش مالی خطرے کی نشاندہی کی۔ نظام نے غیر معمولی طبی اخراجات کی بنیاد پر خودکار انتباہ جاری کیا، جس سے مقامی سطح پر بروقت مداخلت ممکن ہوئی۔ متعلقہ حکام کی جانب سے تصدیق کے بعد معلوم ہوا کہ مذکورہ خاندان کی آمدن کے مقابلے میں علاج کے اخراجات غیر متناسب حد تک بڑھ چکے تھے، جو غربت میں واپسی کے خطرے کا سبب بن سکتے تھے۔
چین نے 2021 میں آٹھ سالہ ملک گیر مہم کے بعد شدید غربت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 10 کروڑ دیہی باشندے غربت کی لکیر سے اوپر آئے۔ تاہم اس کامیابی کے بعد توجہ کا مرکز محض غربت سے نکلنا نہیں بلکہ اس استحکام کو برقرار رکھنا قرار پایا۔ اسی مقصد کے تحت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی نے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کی تیاری کے لیے جاری سفارشات میں غربت کے خاتمے کے ثمرات کو مستحکم اور وسعت دینے، اور غربت میں واپسی سے بچاؤ کے لیے طویل المدتی نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔
گوئیژو میں استعمال ہونے والا ڈیٹا پلیٹ فارم اسی پالیسی کا عملی مظہر ہے۔ یہ نظام مختلف سرکاری محکموں، جن میں عوامی سلامتی، صحت، تعلیم، شہری امور اور زرعی ادارے شامل ہیں، سے حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کرتا ہے۔ غیر معمولی طبی اخراجات، تعلیم کے تسلسل میں رکاوٹ، رہائش کو نقصان یا آمدن میں اچانک کمی جیسے اشاریے خطرے کی گھنٹی سمجھے جاتے ہیں۔ جیسے ہی مقررہ حد عبور ہوتی ہے، مقامی حکام کو فوری انتباہ موصول ہو جاتا ہے، جس کے بعد حقائق کی جانچ اور امدادی اقدامات شروع کیے جاتے ہیں۔
اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ خطرے کی نشاندہی اور عملی امداد کے درمیان وقت کو کم سے کم رکھا گیا ہے۔ صوبائی سطح پر واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ انتباہ جاری ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر مؤثر مدد فراہم کی جائے۔ یہ مدد ہر خاندان کی صورتحال کے مطابق ترتیب دی جاتی ہے، جس میں بچوں کے لیے تعلیمی اخراجات میں رعایت، روزگار کے مواقع، زرعی پیداوار کے لیے منڈیوں تک رسائی، یا صنعتی ترقی سے متعلق سبسڈیز شامل ہو سکتی ہیں۔
ڈیجیٹل نظام نے عوامی شرکت کو بھی آسان بنایا ہے۔ جن خاندانوں کو مشکلات درپیش ہوں، وہ خود بھی ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں، جس سے کاغذی کارروائی اور بار بار سرکاری دفاتر کے چکر کم ہو گئے ہیں۔ مختلف محکمے بیک وقت آن لائن معلومات کی تصدیق کرتے ہیں، جس سے بعض معاملات میں فیصلے نہایت کم وقت میں ممکن ہو جاتے ہیں۔
پہاڑی جغرافیے اور محدود زرعی وسائل کے حامل گوئیژو جیسے صوبے کے لیے یہ نگرانی ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں خاندانوں کو "مستحکم" قرار دینے کے معیار کو بھی سخت بنایا گیا ہے۔ حکام کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ آمدن، صحت اور دیگر خطرات پائیدار طور پر حل ہو چکے ہیں، تاکہ امداد کے خاتمے کے بعد دوبارہ مسائل پیدا نہ ہوں۔ جون 2025 تک صوبے میں تقریباً 8 لاکھ 53 ہزار افراد کو غربت میں واپسی کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا، جن میں سے لگ بھگ 72.8 فیصد افراد کی معاشی حالت اہدافی امداد کے ذریعے مستحکم کی جا چکی ہے۔
گوئیژو کا ڈیٹا پر مبنی نگرانی اور امدادی نظام اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کو سماجی تحفظ کے ڈھانچے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کا اصل مقصد مسائل کے سنگین ہونے سے پہلے ان کی نشاندہی اور حل ہے، تاکہ عارضی جھٹکے مستقل غربت میں تبدیل نہ ہوں۔ چین کے لیے یہ ماڈل غربت کے خاتمے کے بعد کے مرحلے میں پائیدار ترقی اور سماجی استحکام کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جہاں بروقت مدد ہی سب سے مؤثر تحفظ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ |
|