نر تلع کا بازار ،سعودی صحرا کی سنہری دولت
(Fazal khaliq khan, Mingora Swat)
|
فروری کا مہینہ آتے ہی سعودی عرب کے دیہی علاقوں خصوصاً الاحساء، قصیم اور مدینہ منورہ کے نواحی قصبات میں ایک منفرد مگر دلکش منظر جنم لیتا ہے۔ سڑکوں کے کنارے، عارضی بازاروں میں یا پھر گاڑیوں کے پچھلے حصوں پر لمبی لمبی خشک شاخیں لٹکی دکھائی دیتی ہیں۔ بظاہر یہ عام لکڑی معلوم ہوتی ہیں، مگر درحقیقت یہ نر کھجور کا وہ اہم حصہ ہوتا ہے جسے نر تلع کہا جاتا ہے یعنی وہ قیمتی پولن جو مادہ کھجور کے درخت کو پھل دار بنانے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ اکثر منظر یوں ہوتا ہے کہ ایک معمر سعودی کسان، سفید ثوب اور سرخ و سفید غترہ پہنے، اپنی وین کے عقب میں بیٹھا ہوتا ہے۔ سامنے لکڑی کا تختہ رکھا ہے، جس پر خشک شاخیں ترتیب سے سجی ہیں۔ کہیں لکھا ہے: “صاحب التلع” اور کہیں “حب التلع بقى يونا” یعنی نر تلع دستیاب ہے، آج ہی لے جائیں۔ یہ محض کاروبار نہیں بلکہ ایک صدیوں پرانی زرعی روایت کی زندہ تصویر ہے۔ کھجور کا درخت (Phoenix dactylifera) فطرت کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ یہ دو جنسی (dioecious) پودا ہے، یعنی نر اور مادہ درخت الگ الگ ہوتے ہیں۔ نر درخت صرف پولن پیدا کرتا ہے، جبکہ مادہ درخت پھل دیتا ہے۔ اگر نر پولن مادہ پھول تک نہ پہنچے تو درخت سرسبز تو رہتا ہے، مگر کھجور سے محروم۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے عرب کسان ہزاروں سال پہلے سمجھ چکے تھے۔ قدیم دور سے عرب کاشت کار نر درختوں سے تلع کاٹ کر لاتے، اس کی شاخوں کو مادہ پھولوں میں رکھتے اور ہاتھ یا ہوا کے ذریعے پولن منتقل کرتے۔ آج اگرچہ بڑے فارموں میں مشینی اور اسپرے ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے، مگر دیہی علاقوں میں ہاتھ سے پولینیشن کی روایت اب بھی پوری آب و تاب سے زندہ ہے۔ فروری اور مارچ کا زمانہ تلع کے کاروبار کا عروج ہوتا ہے۔ جیسے ہی مادہ درختوں کے پھول کھلتے ہیں، نر تلع کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ ایک صحت مند نر درخت سینکڑوں مادہ درختوں کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔ کسان علی الصبح باغات سے تلع کاٹتے ہیں، انہیں احتیاط سے باندھتے ہیں اور پھر بازاروں یا شاہراہوں پر فروخت کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ قیمت معمولی ہوتی ہے، چند ریال میں ایک شاخ مگر اس کی قدر انمول ہے، کیونکہ یہی شاخیں آنے والے مہینوں میں سونے جیسی کھجوروں میں ڈھلتی ہیں۔ سعودی عرب میں اس وقت تین کروڑ سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں، جن سے سالانہ ڈیڑھ سے دو ملین ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔ الاحساء کا مشہور “کھجوروں کا جنگل”، قصیم کے وسیع باغات اور بریدہ کے جدید فارم اس زرعی عظمت کی روشن مثال ہیں۔ کھجور نہ صرف سعودی معیشت کا مضبوط ستون ہے بلکہ ثقافتی اور مذہبی شناخت کا حصہ بھی۔ رمضان میں افطار کی ابتدا ہو یا حجاج کے لیے تحفہ،کھجور ہر جگہ سعودی مہمان نوازی کی علامت ہے۔ نر تلع کا یہ بازار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جدید ترقی کے باوجود روایات ختم نہیں ہوتیں۔ جدید مشینری آ چکی ہے، مگر کسان کے ہاتھوں سے پھولوں میں لگایا گیا پولن آج بھی فضا میں ایک خاص خوشبو بکھیرتا ہے۔ یہ وہ خوشبو ہے جو تاریخ، محنت اور تہذیب کو آپس میں جوڑتی ہے۔ آپ جب بھی کھجور کھائیں اور خاص طور پر جب سعودی کھجور کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوں، تو ذرا لمحہ بھر ٹھہر کر سوچیے گا اس ذائقے کے پیچھے ایک نر تلع کا وہ سفر ہے جو کسی گاؤں کی سڑک سے شروع ہو کر آپ کی ہاتھوں تک پہنچتا ہے۔ |
|