زبان، کردار اور بکھرتا ہوا معاشرہ

زبان، کردار اور بکھرتا ہوا معاشرہ
حسیب اعجاز عاشرؔ
ہمارے ہاں اب لفظ ارزاں ہوچکے اور معنی مہنگے۔ زبان درازی پر بے باکی کا لیبل لگا دیا، اور بدکلامی کو حق گوئی قرار دے دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ رشتے، جو نبھائے جاتے تھے، آج الفاظ کی تیزی میں کاٹے جا رہے ہیں۔ باپ بیٹے سے، بھائی بھائی سے، شوہر بیوی سے، دوست دوست سے اور ہمسایہ ہمسائے سے یوں جدا ہو رہا ہے جیسے ریشم کی ڈور کو خنجر سے کاٹ دیا گیا ہو۔کہا جاتا تھا کہ“زبان، دل کا آئینہ ہے”۔ آج ہم اپنے دلوں کی کدورت زبان پر لے آئے ہیں، اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ معاشرہ بکھر کیوں رہا ہے۔
یہ بات کہنے کو کڑوی سہی مگر لکھنے کو سچ ہے کہ آج مسلمان کو دیکھ کر کافر مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اس لیے نہیں کہ اسلام میں کشش کم ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے کہ اسلام کے ماننے والوں کے کردار میں وہ روشنی باقی نہیں رہی جو کبھی اندھیروں کو چیر دیا کرتی تھی۔ دین آج بھی وہی ہے، قرآن آج بھی وہی ہے، نبی ﷺ آج بھی وہی ہیں،فرق اگر ہے تو ہم میں ہے۔کبھی مسلمان کی پہچان اس کا اخلاق ہوا کرتا تھا۔ بازار میں مسلمان تاجر کھڑا ہو تو گاہک مطمئن ہو جاتا کہ ناپ تول میں کمی نہ ہو گی، وعدہ خلافی نہ ہو گی، زبان میں شائستگی ہو گی۔مگر صد افسوس جس جگہ سے اخلاق کی خوشبو آنی چاہیے تھی، وہاں سے بد مزاجی کی بو اٹھ رہی ہے۔
زبان، جو ذکر کے لیے بنی تھی، ہم نے اسے زخم دینے کا ہتھیار بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس زخم کو اور گہرا کر دیا ہے۔ جو بات روبرو کہنے میں شرم آتی تھی، وہ اسکرین کے پردے کے پیچھے بیٹھ کر بلا جھجک کہہ دی جاتی ہے۔ ہم نے یہ بھلا دیا کہ لفظ بھی امانت ہوتے ہیں، انہیں بے سوچے سمجھے خرچ کرنا دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ ایک سخت جملہ، ایک طنزیہ فقرہ، ایک تحقیر آمیز لہجہ، برسوں کی محبت کو لمحوں میں راکھ کر دیتا ہے۔ بزرگوں نے کہا تھا:“چپ رہو تو سونا، بولو تو تول کر”۔ آج ہم بولتے ہیں تو تولتے نہیں، اور پھر سمیٹنے بیٹھتے ہیں تو ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔
یہی عدم برداشت آج ہماری سیاست کی پہچان بنتی جا رہی ہے؛ جہاں دلیل کی جگہ گالی، اختلاف کی جگہ طعنہ، اور مکالمے کی جگہ لفظی جنگ نے لے لی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ زہریلا مزاج اب صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نسلِ نو کے رویّوں میں سرایت کر رہا ہے۔ قیادت کا منصب تو یہ تھا کہ وہ قوم کی شخصیت کو نکھارتی، نوجوانوں کے لہجوں میں شائستگی اور سوچ میں وسعت پیدا کرتی، اختلاف کو برداشت اور اختلافِ رائے کو قوت بناتی مگر یہاں تو کردار سازی کے بجائے کردار شکنی ہو رہی ہے۔ نوجوان کو سیکھایا جا رہا ہے کہ جیتنے کے لیے چیخنا، نیچا دکھانے کے لیے گرانا اور غالب آنے کے لیے گالی دینا جائز ہے۔
اسلام نے زبان کی حفاظت کو ایمان کا حصہ بنایا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ یا تو خیر کہے یا خاموش رہے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ کردار کی قوت ہے۔ صحابہ کرامؓ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے ان کی خاموشی میں وقار تھا اور ان کے عمل میں دعوت جو اِنہوں نے حضور پاکﷺ کی قربت سے سیکھی تھی۔ حضورﷺ ہر صحابی سے ایسی محبت کرتے کہ ہر صحابی یہ سمجھتا کہ حضورﷺ صحابہ ؓ میں اُن سے ہی زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ ایسی ہی پرخلوص محبت بھرے اخلاق کا ثمر ہے کہ دور دراز سرزمینیں اسلام سے آشنا ہوئیں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، افریقہ،نہ تلوار تھی، نہ منبر؛ صرف مسلمان تاجر کا کردار تھا۔ لوگ کہتے تھے: اگر یہ دین انسان کو ایسا بنا دیتا ہے تو ہم بھی یہی دین چاہتے ہیں۔ آج الٹا ہمارے کردار کو دیکھ کر سوال نہیں اُٹھتا بلکہ انگلیاں اُٹھتی ہیں کہ اگر دین کا نتیجہ یہ ہے تو پھر۔۔۔۔۔؟ ایسا تو ہونا ہی تھا کیونکہ ہم نے عبادت کو رسم بنا لیا اور اخلاق کو ثانوی سمجھ لیا۔ حالانکہ عبادت کا اصل حاصل اخلاق ہے۔ اگر نماز ہمیں نرم دل نہ بنائے، روزہ ہمیں بردبار نہ کرے، اور حج ہمیں امانت دار نہ بنائے تو پھر خرابی کہاں ہے،عبادت میں یا عبادت گزار میں؟
زبان درازی صرف لفظوں کا فساد نہیں، نیتوں کا بھی ہے۔ جب دل میں عاجزی ختم ہو جائے تو زبان میں سختی آ جاتی ہے۔ ہم ہر اختلاف کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ سننے کا حوصلہ نہیں، سمجھنے کی فرصت نہیں، بس بولنا ہے اور وہ بھی ایسا کہ سامنے والا خاموش ہو جائے، چاہے دل ٹوٹ جائے اور یوں لوگ ہمارے عقیدے سے نہیں، ہمارے رویّے سے دور ہوجاتے ہیں۔
ہمیں پھر سے وہی پرانی، مگر زندہ قدریں اپنانی ہوں گی:نرم گفتاری، وعدے کی پاسداری، امانت، تحمل، اور خاموش وقار۔ مسجد سے آغاز ہوجہاں چیزیں بھی محفوظ ہوں اور دل بھی۔ گھر سے آغاز ہوجہاں زبان زخم نہ دے بلکہ مرہم رکھے۔ بازار سے آغاز ہوجہاں نفع سے زیادہ اعتماد بکے۔اور لفظ کم ہوں، وزن دار ہوں۔دعویٰ کم ہو، کردار بلند ہو۔تب شاید کوئی دیکھ کر کہہ اٹھے:اگر یہ مسلمان ہے تو اس کا دین بھی سچا ہو گا۔

Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 176923 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More