| (محاسبۂ نفس کے لیے ایک فکری و اصلاحی مضمون) |
|
نگاہ محض دیکھنے کا نام نہیں، یہ دل کے دروازوں کی پہرے دار بھی ہے۔ جہاں نگاہ ٹھہرتی ہے، وہیں خیال جنم لیتا ہے، اور جہاں خیال پلتا ہے، وہیں کردار کی بنیاد پڑتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں: "صرف دیکھا ہی تو ہے، کون سا گناہ کر لیا!" مگر کیا واقعی دیکھنا اتنا بے اثر ہوتا ہے؟ سوچیے… اگر اچانک سامنے شیر یا سانپ آ جائے تو محض دیکھ لینے سے ہی دل کی کیا کیفیت ہو جاتی ہے؟ اور اگر سبزہ، پھول یا کسی پیارے بچے کو دیکھیں تو دل کیوں خوش اور مطمئن ہو جاتا ہے؟ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نگاہ کا اثر صرف آنکھ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ دل، دماغ، اعصاب اور جذبات تک سرایت کر جاتا ہے۔ بدنگاہی اور باطن کی خرابی شہوت کی نیت سے ڈالی گئی نظر دل میں اضطراب پیدا کرتی ہے، خیالات کو بکھیر دیتی ہے، اور انسان کو ایک ایسی کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں سکون ناپید ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدنگاہی کا انجام اکثر: بے چینی اضطراب مایوسی احساسِ جرم اور ذہنی تھکن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ انسان باہر سے ہنستا مسکراتا نظر آتا ہے مگر اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات: مسئلے کا اصل حل اسلام نے انسان کی فطرت کو سمجھتے ہوئے برائی کے انجام سے پہلے اس کے دروازے بند کرنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں (مفہوم): "مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔" غور کیجیے! سب سے پہلے نگاہ کا ذکر ہے، کیونکہ جب تک نگاہ محفوظ نہیں، خیال بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، اور آنکھوں کا زنا (حرام کو) دیکھنا ہے۔" یہ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ گناہ صرف عمل کا نام نہیں، بلکہ نیت، نظر اور سوچ بھی اس کا حصہ ہیں۔ بدنگاہی اور زلزلے کی مثال گناہ کو اگر ہم زلزلے سے تشبیہ دیں تو بدنگاہی اس زلزلے کی پہلی لرزش ہے۔ اچانک نظر پڑ جانا: ایک ہلکا جھٹکا فوراً نظر ہٹا لینا: نجات کا راستہ بار بار دیکھنا: شدت اختیار کرتا زلزلہ لذت لے کر دیکھنا: عمارتِ کردار کا منہدم ہونا جو لوگ خود کو گناہ سے بچاتے ہیں ان کے دل کو جھٹکا ضرور لگتا ہے، مگر وہ جھٹکا نجات کا سبب بن جاتا ہے۔ اور جو لوگ اس جھٹکے کو نظر انداز کر دیتے ہیں، ان کے حصے میں بے سکونی، اضطراب اور روحانی تاریکی آتی ہے۔ ڈیجیٹل دور کا فتنہ آج موبائل، انٹرنیٹ، فلمیں، ڈرامے اور سوشل میڈیا بدنگاہی کو "معمول" بنا چکے ہیں۔ ساری رات اسکرین پر آنکھیں جمائے رکھنا نہ گناہ محسوس ہوتا ہے نہ خطرہ۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے ذہین، قابل اور حساس نوجوان اندر سے کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سوال ہم سب کے لیے ہے: کیا یہ فتنہ آہستہ آہستہ ہمارے گھروں کا ناسور تو نہیں بنتا جا رہا؟ |