چین میں شفاف جوہری توانائی کی پیش رفت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں شفاف جوہری توانائی کی پیش رفت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے دنیا بھر میں متبادل ذرائع پر توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، کاربن اخراج میں کمی اور توانائی کی مسلسل فراہمی جیسے چیلنجز نے جوہری توانائی کو ایک بار پھر عالمی مباحثے کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔ چین میں حالیہ برسوں کے دوران جوہری توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک محفوظ، صاف اور مستحکم توانائی کو اپنی طویل المدت ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی جزو بنا رہا ہے۔
جنوری 2026 میں چین کے دو جوہری بجلی منصوبوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی، جبکہ اسی مہینے ملک کا جوہری توانائی قانون بھی نافذ العمل ہو گیا، جس نے قومی سطح پر جوہری توانائی کی ترقی کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین توانائی کے شعبے میں معیار، تحفظ اور پائیداری کو یکجا کر کے آگے بڑھ رہا ہے۔
سال 2026 کے پہلے ہی دن صوبہ فوجیان میں چانگ جو جوہری بجلی گھر کے یونٹ نمبر دو نے باضابطہ طور پر تجارتی آپریشن شروع کر دیا۔ اس یونٹ میں چین میں تیار کردہ تیسری نسل کی جوہری ٹیکنالوجی ’’حوا لونگ ون‘‘ استعمال کی گئی ہے، جسے اعلیٰ حفاظتی معیار کے باعث ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر تیسری نسل کے جوہری ری ایکٹرز کے بلند ترین حفاظتی اصولوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس میں ڈیجیٹل اور ذہین نظام شامل کیے گئے ہیں، جو حفاظت اور معاشی افادیت دونوں کو بہتر بناتے ہیں۔
’’حوا لونگ ون‘‘ ٹیکنالوجی کی نمایاں خصوصیات میں دوہرا حفاظتی ڈھانچہ اور فعال و غیر فعال حفاظتی اصولوں کا امتزاج شامل ہے، جس کے باعث ایسے جوہری بجلی گھر شدید زلزلوں جیسے قدرتی خطرات کا بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ توانائی کے اعتبار سے یہ نظام نہ صرف محفوظ بلکہ صاف بھی ہے، کیونکہ جوہری بجلی موسم پر انحصار نہیں کرتی اور مسلسل پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ’’حوا لونگ ون‘‘ کا ایک یونٹ سالانہ تقریباً 10 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا کر سکتا ہے، جس سے ہر سال تقریباً 81 لاکھ 60 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور 30 لاکھ ٹن سے زائد معیاری کوئلے کی بچت ممکن ہوتی ہے۔ اس وقت اس ٹیکنالوجی پر مبنی 41 یونٹس زیرِ تعمیر یا آپریشن میں ہیں، جو اس کی وسیع پیمانے پر قبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
جوہری توانائی کے ماحولیاتی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ 2025 کی پہلی ششماہی میں چین میں جوہری بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں تقریباً 170 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ، 5 لاکھ 52 ہزار ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ اور 4 لاکھ 80 ہزار ٹن نائٹروجن آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ریکارڈ کی گئی، جو فضائی آلودگی کے خاتمے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
چین میں جوہری توانائی کو صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ اس کے متنوع استعمال کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ نئے جوہری توانائی قانون کے تحت بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حرارتی نظام، سمندری پانی کو میٹھا بنانے، ہائیڈروجن کی تیاری، آئسوٹوپس کی پیداوار اور سائنسی تحقیق کے لیے جوہری ری ایکٹرز کے استعمال کی حمایت کی گئی ہے۔
اسی تناظر میں صوبہ جیانگسو کے شووے علاقے میں جوہری اور پیٹروکیمیکل انضمام پر مبنی ایک بڑے منصوبے کی تعمیر کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پیٹروکیمیکل صنعت کو کم کاربن بھاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ روایتی ایندھن پر انحصار کم ہو سکے۔ اس منصوبے میں ’’حوا لونگ ون‘‘ دباؤ والے پانی کے ری ایکٹرز اور ایک ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر کو مشترکہ حرارتی نظام کے تحت استعمال کیا جائے گا۔
اس منصوبے کی تکمیل کے بعد سالانہ 3 کروڑ 25 لاکھ ٹن صنعتی بھاپ فراہم کی جا سکے گی، جبکہ بجلی کی پیداوار 11.5 ارب کلو واٹ آور سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ اس سے ہر سال تقریباً 72 لاکھ 60 ہزار ٹن معیاری کوئلے کے استعمال میں کمی اور 19.6 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی متوقع ہے، جو چین کی سبز صنعتی تبدیلی میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔
ملکی سطح پر جوہری توانائی کی ترقی کو بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔ 15 جنوری 2026 کو نافذ ہونے والا جوہری توانائی قانون اس حمایت کی واضح مثال ہے، جس کا مقصد اعلیٰ معیار کی معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس قانون کے تحت جوہری توانائی کی سائنسی تحقیق، ایندھن کے نظام اور ری ایکٹر ٹیکنالوجی میں جدید تحقیق و ترقی کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ صنعت کی حفاظت، معاشی افادیت اور پائیداری پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
دسمبر 2025 میں منعقدہ قومی توانائی کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ 2026 کے دوران جوہری توانائی کو فعال، محفوظ اور منظم انداز میں ترقی دی جائے گی، جبکہ مستقبل کی توانائی صنعتوں، جیسے ہائیڈروجن اور جوہری توانائی، کے لیے بھی پیشگی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ 2025 کے اختتام تک چین میں جوہری بجلی کے 112 یونٹس آپریشنل، زیرِ تعمیر یا تعمیر کے لیے منظور شدہ تھے، اور پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران تجارتی سطح پر فعال یونٹس کی تعداد 100 سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
چین میں جوہری توانائی کے شعبے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک محفوظ توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، متنوع استعمال اور مضبوط قانونی و پالیسی معاونت کے ذریعے جوہری توانائی چین کے توانائی نظام میں ایک اہم ستون بنتی جا رہی ہے۔ یہ حکمتِ عملی نہ صرف توانائی کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ سبز اور کم کاربن مستقبل کی جانب عملی پیش رفت کی بھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ |
|