افغان سرزمین اور دہشت گردی

افغان سرزمین اور دہشت گردی

غلام مرتضیٰ باجوہ ایوان اقتدارسے

پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے ناسور کے خلاف صف اول میں کھڑا رہا ہے۔ ہزاروں جانوں کی قربانی، اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اور سماجی عدم استحکام یہ سب اس جنگ کی قیمت ہے جو پاکستان نے نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے اور دنیا کے امن کے لیے لڑی۔ حالیہ برسوں میں ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ یہ مسئلہ صرف داخلی نہیں بلکہ سرحد پار عوامل سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر اس مؤقف کو اکثر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکی اور بین الاقوامی تحقیقی ادارے، اقوامِ متحدہ اور عالمی جریدے کھل کر اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
پاکستانی حکام متعدد مواقع پر افغان عبوری حکومت کو اس بات سے آگاہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ بدقسمتی سے افغان طالبان کی جانب سے اس حوالے سے عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔یوریشیا ریویو کے مطابق اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغان طالبان کے امن و سلامتی سے متعلق دعوے قابل اعتماد نہیں رہے۔ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی خود ان دعوؤں کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ تنظیمیں نہ صرف افغانستان کے اندر سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پڑوسی ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے بھی شدید چیلنج بنی ہوئی ہیں اور جو عالمی سلامتی کے لیے تشویشناک ہیں۔
پاکستانی حکومت کی پالیسی واضح اور اصولی ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ مؤقف نہ تو نیا ہے اور نہ ہی کسی ایک حکومت یا ادارے تک محدود۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین بھی اسی اصول کی توثیق کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے افغانستان میں حکمرانی کے خلا، کمزور ریاستی ڈھانچے اور معاشی بحران نے دہشت گرد گروہوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رکھا ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق افغانستان کی معیشت اس وقت محض بقا کی سطح پر چل رہی ہے۔ روزگار کے مواقع محدود، مالی وسائل ناپید اور ریاستی ادارے کمزور ہیں۔ یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان میں ’’برینڈنگ اور حقیقت‘‘کے درمیان سب سے بڑا خلا حکمرانی کا ہے۔ یعنی عالمی سطح پر امن کے دعوے اور زمینی حقائق میں واضح تضاد موجود ہے۔ یہی تضاد دہشت گرد گروہوں کو پنپنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہی۔ سرحد پار دہشت گردی نے پورے خطے کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے۔
وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور حتیٰ کہ یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت اور اسلحے کی ترسیل جیسے مسائل اسی عدم استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔پاکستان نے بارہا عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے مسئلے کو وقتی سیاسی مفادات کے بجائے طویل المدتی امن کے تناظر میں دیکھے۔ محض بیانات اور کاغذی یقین دہانیاں کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی، سرحدی نگرانی کا مضبوط نظام اور علاقائی تعاون ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کے لیے نرم گوشہ رکھا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو دہائیوں تک پناہ دینا اس کی روشن مثال ہے۔ تاہم، مہمان نوازی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی پاکستان کی قومی سلامتی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔عالمی جریدوں اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اب اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں عالمی برادری کی خاموشی یا غیر سنجیدگی مزید خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان کے حکمرانوں کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند بنایا جائے اور دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر امن کمزوری نہیں۔ پاکستان کی پالیسی واضح، شفاف اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ اگر عالمی برادری واقعی خطے میں پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ مشترکہ ہے۔عالمی طاقتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افغان طالبان کے دعوؤں کو محض بیانات کی حد تک نہ پرکھیں بلکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ اگر افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے منفی اثرات صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔
Ghulam Murtaza Bajwa
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 55 Articles with 54016 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.