عالمی یومِ ویٹ لینڈز کا تقاضا
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
عالمی یومِ ویٹ لینڈز کا تقاضا تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ابھی حال ہی میں دو فروری کو دنیا بھر میں ویٹ لینڈز کا 30واں عالمی دن منایا گیا۔ سال 2026 کا موضوع "ویٹ لینڈز اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کا جشن" طے کیا گیا تھا، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ویٹ لینڈز نہ صرف قدرتی ماحولیاتی نظام ہیں بلکہ صدیوں سے انسانی تہذیب، ثقافتی روایات، معاشی سرگرمیوں اور مقامی علم کے مراکز بھی رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ویٹ لینڈز ایسے ثقافتی مناظر ہیں جہاں نسل در نسل پانی کے استعمال، زراعت، ماہی گیری اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام سے متعلق روایتی ماحولیاتی علم فروغ پاتا رہا ہے۔ انسانیت اور فطرت کے طویل باہمی تعامل سے تشکیل پانے والا یہ علم آج بھی ویٹ لینڈز کے تحفظ اور پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سال 2022 میں ویٹ لینڈز سے متعلق ریمسر کنونشن کی فریقین کی 14ویں کانفرنس چین کے صوبہ ہوبے کے دارالحکومت ووہان میں منعقد ہوئی، جسے ایک "بین الاقوامی ویٹ لینڈ شہر" کا درجہ حاصل ہے۔ اس موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ چین انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی جدید ترقی کو فروغ دے گا، ویٹ لینڈز کے تحفظ میں اعلیٰ معیار کی پیش رفت کرے گا اور بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دے گا۔
حقائق کے تناظر میں ،ویٹ لینڈز دنیا کے تین بڑے ماحولیاتی نظاموں میں شامل ہیں اور انسانی زندگی و قدرتی توازن کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ زمین کی سطح کے صرف تقریباً 6 فیصد حصے پر محیط ہیں، تاہم دنیا کے لگ بھگ 40 فیصد پودوں اور جانوروں کی اقسام انہی علاقوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پانی کے نظم و نسق، سیلابی کنٹرول اور پانی کی قدرتی صفائی جیسے اہم ماحولیاتی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
اس کے باوجود، انسانی سرگرمیوں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ویٹ لینڈز دنیا بھر میں تیزی سے زوال اور تباہی کا شکار ہیں۔ اس پس منظر میں چین نے حالیہ برسوں کے دوران ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ ملک میں ویٹ لینڈز کے تحفظ کا قانون نافذ کیا جا چکا ہے، قانون پر مبنی نظم و نسق کو بہتر بنایا گیا ہے اور وزارتِ خزانہ کے اشتراک سے بحالی سے متعلق معاون پالیسیوں کا اجرا کیا گیا ہے۔
اب تک 21 صوبوں، خود اختیار علاقوں اور بلدیاتی اکائیوں میں صوبائی سطح کے ویٹ لینڈز کے ضوابط مرتب یا نظرثانی کیے جا چکے ہیں۔ ایک درجہ بند انتظامی نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک میں 82 بین الاقوامی اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز ، 80 قومی اہمیت کے ویٹ لینڈز اور 1,208 صوبائی اہمیت کے ویٹ لینڈز شناخت کیے گئے ہیں۔ چین کو 22 بین الاقوامی ویٹ لینڈز شہروں کی منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ، ملک بھر میں 903 قومی ویٹ لینڈز پارکس قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد عوام کے لیے مفت کھلے ہیں اور سالانہ تقریباً 32 کروڑ افراد ان کا رخ کرتے ہیں۔ ویٹ لینڈز کے تحفظ اور بحالی کے لیے 3,800 سے زائد منصوبے نافذ کیے جا چکے ہیں، جن کے نتیجے میں ایک ملین ہیکٹر سے زائد رقبہ بحال یا شامل کیا گیا ہے۔
14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار ہیکٹر ویٹ لینڈز کی سائنسی بنیادوں پر بحالی کی گئی۔ اس وقت چین میں ویٹ لینڈز کا مجموعی رقبہ 5 کروڑ 56 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ چکا ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق، 2025 میں گوانگشی چوانگ خود اختیار علاقے کے بیہائی میں واقع مینگروو ویٹ لینڈز میں 58 نئی انواع ریکارڈ کی گئیں، جو اس سے قبل دستاویزی شکل میں موجود نہیں تھیں۔ اسی طرح، صوبہ لیاؤننگ میں لیاوہے دریا کے دہانے پر پرندہ دوست زرعی ماڈل کے تحت کاشت کیے گئے دھان کے کھیت نہ صرف پرندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنے بلکہ کسانوں کی اوسط آمدنی میں 79.21 فیصد اضافہ بھی ہوا۔
چین نے ریمسر کنونشن کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو بھی فعال طور پر نبھایا ہے۔ بین الاقوامی مینگروو مرکز باضابطہ طور پر قائم کیا جا چکا ہے، جس کے متوقع رکن ممالک کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے، اور یہ عالمی سطح پر ویٹ لینڈز کے نظم و نسق میں چینی تجربات کے اشتراک کا اہم پلیٹ فارم بن رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، روایتی ماحولیاتی علم کو جدید سائنسی تحقیق، قانونی فریم ورک اور کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ ہم آہنگ کر کے چین نے ویٹ لینڈز کے تحفظ کا ایک جامع ماڈل پیش کیا ہے۔ یہ طریقۂ کار نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کو تقویت دیتا ہے بلکہ ثقافتی ورثے اور پائیدار ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے، جو عالمی یومِ ویٹ لینڈز 2026 کے مرکزی پیغام کی عملی عکاسی ہے۔ |
|