چین میں دلدلی علاقوں کا تحفظ

چین میں دلدلی علاقوں کا تحفظ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دلدلی علاقے زمین کے اہم ترین ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، جو پانی کے ذخیرے، حیاتیاتی تنوع، موسمیاتی توازن اور معاشرتی و معاشی سرگرمیوں کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی شہری توسیع اور ماحولیاتی دباؤ کے تناظر میں ان قدرتی نظاموں کا تحفظ عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں چین کی جانب سے دلدلی علاقوں کے تحفظ اور بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات نہ صرف قابلِ ذکر ہیں بلکہ ماحولیاتی نظم و نسق کے ایک منظم اور طویل المدت وژن کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

چین میں حالیہ برسوں کے دوران دلدلی علاقوں کے تحفظ اور بحالی کو مسلسل مضبوط کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا مجموعی دلدلی رقبہ اب ایشیا میں پہلے اور دنیا میں چوتھے نمبر پر آ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے دلدلی علاقوں کے تحفظ کے لیے قانونی ضمانتوں کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت متعلقہ قوانین اور ضوابط نافذ کیے گئے اور نظم و نسق کے نظام کو بہتر بنایا گیا۔ اب تک صوبائی سطح کے 21 خطوں نے اپنے دلدلی تحفظ سے متعلق مقامی قوانین مرتب کیے یا ان میں نظرثانی کی ہے، جس سے قانون سازی کو عملی سطح پر نافذ کرنے میں مدد ملی ہے۔

چین نے دلدلی علاقوں کے لیے ایک درجہ بند انتظامی نظام بھی قائم کیا ہے، جسے مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 82 مقامات کو بین الاقوامی اہمیت کے حامل دلدلی علاقے قرار دیا گیا ہے، جبکہ 80 مقامات کو قومی سطح پر اہم دلدلی علاقے کے طور پر شناخت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 1208 دلدلی مقامات کو صوبائی سطح پر اہم حیثیت حاصل ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تحفظ کا دائرہ صرف چند علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔

دلدلی علاقوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ چین نے ان مقامات کو عوامی آگاہی اور ماحولیاتی تعلیم سے جوڑنے پر بھی توجہ دی ہے۔ ملک میں اس وقت 22 بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دلدلی شہر موجود ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ مزید برآں، 903 قومی دلدلی پارک قائم کیے جا چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد عوام کے لیے مفت کھلے ہیں۔ یہ پارک سالانہ تقریباً 320 ملین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، جس سے ماحولیاتی شعور کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے دوران چین دلدلی علاقوں سے متعلق اپنے قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کو مزید بہتر بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دلدلی تحفظ کے لیے نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام کو مضبوط کیا جائے گا، تاکہ ماحولیاتی خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔ مزید یہ کہ دلدلی ماحولیاتی مصنوعات کی قدر کو عملی شکل دینے کے لیے مؤثر میکانزم قائم کرنے کے عمل کو بھی تیز کیا جائے گا، جس کا مقصد تحفظ اور معاشی فوائد کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔

چین کا اس حوالے سے موقف واضح ہے کہ ، دلدلی وسائل کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ایک طویل اور مشکل فریضہ ہے، جو عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ چین نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ انسانیت اور فطرت کی ہم آہنگ بقائے باہمی پر مبنی جدیدیت کی راہ پر ثابت قدمی سے گامزن رہے گا، عالمی ماحولیاتی حکمرانی کی بھرپور حمایت اور اس میں فعال شرکت جاری رکھے گا، اور تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کرۂ ارض پر زندگی کی مشترکہ برادری کے قیام کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہے گا۔

چین میں دلدلی علاقوں کے تحفظ اور بحالی کے لیے اختیار کی گئی حکمتِ عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کو قومی ترقی کے ایجنڈے کا ایک لازمی جزو بنایا جا سکتا ہے۔ مضبوط قانون سازی، منظم انتظام، عوامی رسائی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے ذریعے چین نے دلدلی نظاموں کو محفوظ بنانے کی سمت ٹھوس پیش رفت کی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں بلکہ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی توازن کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بھی پیش کرتے ہیں۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1094356 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More