دنیا کی سب سے بڑی انسانی نقل مکانی
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
دنیا کی سب سے بڑی انسانی نقل مکانی تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں لوگ اسپرنگ فیسٹیول اور قمری نئے سال کے تفریحی لمحات سے محظوظ ہونے اور اس سب سے بڑے روایتی تہوار کی خوشیاں اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ منانے کے لیے آبائی علاقوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ چینی زبان میں چھون یون کے نام سے مشہور اس سفری رش میں چین کا نقل و حمل کا نظام نئے راستوں، نئی گاڑیوں اور بہتر خدمات کے ساتھ تعطیلات کے ریکارڈ توڑ سفری سیزن کے لئے بھرپور خدمات فراہم کر رہا ہے۔
چین کی اس سب سے بڑی سفری سرگرمی کو دنیا کی سب سے بڑی عارضی نقل مکانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔رواں سال سترہ فروری سے چین میں قمری نیا سال شروع ہو رہا ہے جو گھوڑے کے سال کے طور پر منایا جائے گا۔ ملک میں 2026 کے اسپرنگ فیسٹیول کے موقع پر سالانہ ٹریول رش دو فروری سے جاری ہے ۔
چینی حکام کے مطابق 40 روزہ اس عرصے کے دوران بین الاضلاعی سفر کی مجموعی تعداد 9.5 ارب تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہو سکتا ہے۔اسی طرح ریل اور ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے مسافروں کے سفر ریکارڈ بلندیوں کو چھونے کے لئے تیار ہیں۔
اس وقت، ٹریول رش کے دوران روزانہ لاکھوں افراد تہوار کی خوشیاں اپنے گھر والوں کے ساتھ منانے کے لیے آبائی علاقوں کی جانب رواں دواں ہیں ۔ مسافروں کے لیے یہ سفر صرف آمد و رفت نہیں بلکہ روایات سے جڑا ایک جذباتی تجربہ ہے۔روایتی ٹرینوں سے لے کر تیز رفتار ریل تک، چین کا ریلوے نیٹ ورک بدستور اس بڑے پیمانے پر نقل و حرکت میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، جس کے لیے گنجائش اور خدمات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ٹریول رش کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے مصروف دنوں میں یومیہ 14 ہزار سے زائد مسافر ٹرینیں چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاکہ کروڑوں شہری محفوظ اور بروقت اپنے گھروں تک پہنچ سکیں اور اسپرنگ فیسٹیول کی خوشیاں اہلِ خانہ کے ساتھ منا سکیں۔
بڑھتی ہوئی سفری طلب کو پورا کرنے کی خاطر ، چین کے ریلوے آپریٹر نے مسافروں کی نقل و حمل کی صلاحیت میں اضافے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں ۔ اس حوالے سے نئے تیز رفتار روٹ بھی مکمل آپریشنل ہو چکے ہیں ، جس سے وسطیٰ اور مشرقی علاقوں میں نقل و حمل کی صلاحیت کو تقویت ملی ہے۔ریلوے منصوبوں کی بدولت سیاحوں کو مقبول سیاحتی مقامات تک رسائی میں آسانی ہوئی ہے۔
سفری رش کے دوران ملک کے شمالی، جنوبی، مشرقی اور مغربی حصوں میں پھیلے متعدد روٹس اس عرصے کے دوران لوگوں کی نقل و حرکت میں وسعت اور متحرک نوعیت کو اجاگر کرتے ہیں، جو چین کے وسیع نقل و حمل کے نیٹ ورک اور ٹرانسپورٹ نظام کی صلاحیتوں کی کارکردگی کی جانچ کا بھی پیمانہ ہے.
یہ رجحان بھی قابل زکر ہے کہ لوگ ریلوے سے سفر کے علاوہ ، سیلف ڈرائیونگ کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔ لہذا ٹرانسپورٹ حکام نے شاہراہوں کے ساتھ سروس ایریاز کی سہولیات اور حالات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ان کوششوں میں نئی توانائی گاڑیوں (این ای وی) کے لئے اضافی چارجنگ سہولیات،مسافروں کے لیے بیت الخلاء اور موبائل چارجنگ کی سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔
سیلف ڈرائیونگ کے سفر ٹریول رش کا غالب ذریعہ بنے رہیں گے۔اس دوران ایکسپریس ویز پر یومیہ ٹریفک کا عروج 71 ملین گاڑیوں کے سفر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ملک بھر میں نئی توانائی والی گاڑیوں کے سفری ٹرپس کی کل تعداد 380 ملین تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔اسی باعث چارجنگ کے دباؤ کو کم کرنے اور سفر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے، ملک بھر کے ایکسپریس ویز سروس ایریاز چارجنگ سہولیات کی تعمیر اور اپ گریڈ میں تیزی لائے ہیں۔ اب تک، قومی سطح پر ایکسپریس ویز سروس ایریاز میں کل 71,500 چارجنگ پوائنٹس نصب کیے جا چکے ہیں، جو سروس ایریاز کے 98 فیصد سے زیادہ کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان میں سے 20,000 چارجنگ پوائنٹس سال 2025 میں شامل کیے گئے ہیں۔
اسپرنگ فیسٹیول کے دوران چین کے جدید ٹرانسپورٹ مراکز میں ٹیکنالوجی سفر کو محفوظ اور آسان بنا رہی ہے۔ انسپیکشن روبوٹس فوری طور پر مشتبہ اشیا یا درجہ حرارت کی تبدیلی شناخت کر لیتے ہیں، جبکہ اپ گریڈ شدہ فیس ریکگنیشن سسٹم ماسک پہنے ہوئے بھی 0.3 سیکنڈ میں داخلہ ممکن بناتا ہے۔ ملی میٹر ویو سیکیورٹی گیٹس صرف دو سیکنڈ میں مکمل جسم اسکین کرتے ہیں، جس سے تیز رفتار اور رازداری کو تحفظ ملتا ہے۔
مسافروں کی سہولت کے لیے "لگج روبوٹس" بھاری سامان اٹھاتے ہیں،اے آئی کیمرے کمزور مسافروں کی خودکار شناخت کر کے فوری مدد بھیجتے ہیں، اور اسمارٹ گائیڈ ڈاگز بصارت سے محروم مسافروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔فی الوقت ، 78 فیصد بڑے مراکز میں انٹیلی جنٹ سیکیورٹی سسٹمز اور 65 فیصد ہوائی اڈوں میں مکمل سامان ٹریکنگ موجود ہے، جس سے سفری ہجوم اور پریشانی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اسپرنگ فیسٹیول کی تعطیلات کے دوران چین بھر میں روایتی لوک ثقافتی سرگرمیوں اور بہار میلوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے جسے سیاحوں میں ہمیشہ سے مقبولیت حاصل رہی ہے۔ایسی تقریبات میں مقامی ثقافت کے متنوع رنگ ،زائقے دار کھانے ،لوک گیت ،رقص وغیرہ جیسی سرگرمیاں وسیع پیمانے پر دیکھنے کو ملتی ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں ایسی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں ۔انہی میلوں کے دوران خصوصی مقامی مصنوعات اور دستکاریوں کی نمائش بھی کی جاتی جس سے مقامی صنعتوں کے فروغ میں نمایاں مدد ملتی ہے۔
یونیسکو کی جانب سے چین کے اسپرنگ فیسٹیول کو غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد سے چینی شہریوں میں اس تہوار کی خوشیوں کو منانے کا جوش و خروش مزید بڑھا ہے۔ رواں سال ، اسپرنگ فیسٹیول کی تعطیلات سولہ فروری سے تیئیس فروری تک جاری رہیں گی، جس سے شہریوں کو مزید تفریحی لمحات سے محظوظ ہونے کا موقع بھی میسر آیا ہے۔ |
|