کم عمری کی شادی اور یورپ کا تضاد

یورپ اور امریکہ جو ہمیں پابند کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شادی کم از کم ١٨ برس کی عمر میں ہونی چاہیے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکہ سمیت کئی یورہی ممالک میں نہ صرف ١٦ سال بلکہ ١٣ اور ١٤ سال کی عمر میں بھی لڑکی کی شادی کی جاسکتی ہے۔ مضمون پڑھیں اور اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے۔
پاکستان میں ایک عرصے سے دبائو ہے کہ لڑکی کی شادی 18 برس سے قبل نہیں ہونی چاہیے۔ حال ہی میں پارلیمنٹ سے اس حوالے سے بل بھی پیش کیا گیا۔ اس دوران ایپسٹین فائلز اسکینڈل سامنے آگیا جس میں کم عمری کی شادی کا معاملہ بھی اب سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔دیکھا جائے تو کم عمری کا نکاح، کم عمری کی شادی اور نابالغ سے شادی الگ الگ معاملات ہیں۔عام طور سے ان کو گڈ مڈ کردیا جاتا ہے۔
پہلی چیز یہ کہ اسلام نے بلوغت سے قبل نکاح کی تو اجازت دی ہے لیکن شادی کی اجازت نہیں دی یا یوں کہہ لیں کہ بلوغت سے قبل منکوحہ سے بھی جسمانی تعلق کی اجازت نہیں دی۔
اب آتے ہیں بلوغت کے معاملے پر۔
شرع کے مطابق انسان کی بلوغت لڑکیوں کے لیے 12 سے 14 سال اور لڑکوں کے لیے 14 سے 16 سال۔اس میں بلوغت کے آغاز میں ایک سال کا فرق ہوسکتا ہے یعنی 11 اور 13.تاہم 14 سال کے بعد لڑکی بالغ مانی جائے گی اور سولہ کے بعد لڑکا بالغ مانا جائے گا خواہ ان کی بلوغت کی نشانی ظاہر ہو یا نہ ہو۔شرع نے جو عمر متعین کی ہے وہ طبی طور پر بھی تسلیم شدہ ہے۔ (یہاں میں قصدا اس کہ تفصیل میں نہیں جارہا۔)
اصل مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بلوغت کی عمر شناختی کارڈ کے مطابق 18 سال ہونی چاہیے۔ تو یاد رکھیے 18 سال کی عمر ہم انسانوں نے اپنے حساب سے بنائی ہے اس میں کمی بیشہ بھی ہوسکتی ہے اور فرق بھی ہوسکتا ہے مثلا مشرف دور سے قبل ووٹنگ کی عمر 25 سال تھی۔ اب 18 سال ہے۔
دوسری بات یہ کہ اگرچہ ہمارے معاشرے میں بچے بچیوں سے زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی اس کو کبھی پسند نہیں کیا جاتا، اس کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، ایسے فرد کی معاشرے میں عزت نہیں کی جاتی اور نہ ہی اسلام کی تعلیمات ہیں۔ اس لیے مغرب کے باقاعدہ منصوبہ بند (Planned) حکومتی اور ریاستی سرپرستی میں منظم طور پر بچے بچیوں کے استحصال کو اسلام سے جوڑنا یا ہمارے معاشرے کے انفرادی جرم سے اس کا موازنہ کرنا انتہا درجے کی بیوقوفی نہیں بلکہ شاطرانہ چال ہے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسلام بلوغت کے بعد نکاح کا حکم دے اور مسلمان نکاح کرے تو مجرم لیکن یورپ کے جنسی درندے کم عمر بچیوں کی عصمت دری کریں تو اس کا موازنہ اسلام سے کرکے ان کے سنگین ترین جرم کو ہلکا کرنے کا جرم کیا جاتا ہے اور کیا جارہا ہے۔
دراصل اس طرح دبائو بڑھا کر معاشرے میں قصدا نکاح کو مشکل کرکے عملی طور پر زنا اور بدکاری کی راہیں آسان کی جارہی ہیں۔ اس جانب سوچنے کی ضرورت ہے۔
اب معاملے کا ایک اور رخ سے جائزہ لیتے ہیں تو یورپ اور امریکہ کا دہرا معیار اور تضاد سامنے آتا ہے۔ وہ تضاد جس پر ہمارا لبرل طبقہ آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے اور قصداً ا س اس پر بات نہیں کرتا۔آئیے ذرا ان اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں جو ذیل میں دیے جارہے ہیں۔
وہ یورپ اور ہمارے یہاں موجود اس کے اندھے مقلد جو ہمیں کہتے ہیں کہ شادی اٹھارہ سال سے پہلے نہیں کرنی چاہیے۔ وہاں کیا صورت حال ہے ۔
یورپ میں شادی کے لیے 18 سال کا عمومی قانون ہے تاہم جرمنی، اسپین، فن لینڈ، ہنگری، پولینڈ، سویڈن، سویٹزر لینڈ اور فرانس میں والدین کی رضامندی کے ساتھ کے تحت 16 سال کی عمر میں لڑکی کی شادی کی اجازت دی جاسکتی ۔
اسکاٹ لینڈ میں شادی کی قانونی عمر 16 سال ہے۔ انگلینڈ اور ویلز میں تو ابھی 2023 تک شادی کی قانونی عمر 16 سال تھی جس کو 2023 میں 18 سال کیا گیا ہے۔
اور لیجیے۔دنیا کے نام نہاد چوہدری امریکہ بہادر کا بھی سن لیجیے۔ امریکہ میں عمومی قانون 18 سال کا ہے لیکن یہاں 21 ریاستوں میں والدین اور عدالت کی اجازت کے ساتھ 16 اور 17 سال کی عمر میں لڑکی کی شادی کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ میساچوسٹس میں تو 14 اور 15 برس کی عمر میں لڑکی شادی کی اجازت دی جاسکتی ہے۔نیو ہیمپشائر میں تو عدالت کی اجازت سے لڑکوں کی 14 اور لڑکی کی 13 سال کی عمر میں شادی کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
ان اعداد و شمار کو سامنے رکھیں اور پھر بتائیے کہ خود تو وہ لوگ 14, 15 اور 16 سال کی عمر میں لڑکی کی شادی کا آپشن رکھیں لیکن ہمیں بزور ڈنڈا مجبور کریں کہ بس شادی 18 سال سے پہلے نہیں کرنی۔اور ہمارے احمق لبرل بغیر سوچے سمجھے اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اوپر پیش کردہ اعداد و شمار کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس سے یہ بات صریح طور پر عیاں ہوتی ہے کہ کم عمری کی شادی کا دبائو صرف اور صرف معاشرے کو انتشار میں مبتلا کرنے، خاندانی نظام کو بررباد کرنے اور نکاح کو مشکل بنا کر زنا کو آسان کرنے کا ایجنڈا ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔ اقبال ؔ کے قطعے پر اپنے مضمون کا اختتام کروں گا۔
اس کھیل میں تعیین مراتب ہے ضروری
شاطر کی عنایت سے تو فرزیں، میں پیادہ
بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!
Saleem Ullah Shaikh
About the Author: Saleem Ullah Shaikh Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 538 Articles with 1661869 views سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More