رنگوں کے پیچھے بہتا خون
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
رنگوں کے پیچھے بہتا خون حسیب اعجاز عاشرؔ یہ ڈرون فوٹیج کا زمانہ ہے۔ اوپر سے شہر دکھایا جاتا ہے، نیچے دعوے رکھ دیے جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ ڈرون سے لی گئی فوٹیج شیئر کرتی ہیں، چرخیاں استعمال کرنے والوں کے خلاف ایکشن کا اعلان بھی ہوتا ہے، مگر ایک بنیادی سوال بدستور ہوا میں معلق ہے: چھتوں سے گرنے والوں، کرنٹ لگنے والوں، سڑکوں پر لوٹنے والوں کو یہ کیمرے، موٹرسائیکل پر لگے راڈ اور پتنگوں پر لگے بارکوڈ کیسے بچائیں گے؟ تصویر خوبصورت ہو سکتی ہے، مگر حقیقت کا خون تصویر پر چھینٹے مار دیتا ہے۔ ”آج سحری سے قبل ہمارے علاقے میں ایک بچہ پتنگ لوٹتے ہوئے کھمبے پر چڑھ گیا۔ دوسرے بچے نے منع بھی کیا، مگر لمحوں کی نادانی نے مہلت نہ دی۔ ہاتھ ٹرانسفارمر سے لگا، زوردار دھماکہ ہوا، اور بچہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ یہ ایک ماں کی گود ہے جو اجڑ گئی، ایک باپ کا کاندھا ہے جو جھک گیا، ایک محلے کی خاموشی ہے جو چیخ بن گئی۔ بسنت ہو یا پتنگ بازی اس کھیل میں نہ کوئی فائدہ ہے، نہ برکت۔ ایک طرف خوشی کا شور، دوسری طرف کسی کا جنازہ“۔راقم الحروف نے یہ واقعہ حکومتی جماعت کے ایک اہم رہنما کو گروپ میسج میں لکھا۔ جواب آیا: ”موت برحق ہے، ہر زندہ نے موت کا مزہ چکھنا ہے؛ کوئی نہ کوئی سبب تو بنتا ہی ہے؛ روز روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں، ہزاروں لوگ انتقال کر جاتے ہیں؛ اگر اس منطق پر عمل کریں تو پھر کوئی سفر ہی نہ کرے؛ پتہ نہیں ہم فیسٹیول کے خلاف کیوں ہیں؛ لوگوں کو خوشی منانے دیں؛ احتیاط بھی کریں“۔ یہ جواب ریاستی ذہن سازی کا اعتراف ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو ذمہ داری سے فرار کو فلسفہ بنا دیتی ہے۔ یہ وہ منطق ہے جو انسانی جان کو ایک اتفاق میں بدل دیتی ہے۔یہ سب سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا ریاست بے احتیاطی کو پالیسی بنا سکتی ہے؟ کیا حکومت کا کام یہ رہ گیا ہے کہ خوشی کا دلاسہ دے اور لاشیں گنتی رہے؟ بسنت اٹھارہ برس سے غیر متعلق ہو چکی تھی۔ ایک معاشرے نے اجتماعی تجربے کے بعد یہ مان لیا تھا کہ اس خوشی کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ مگر پھر اسے دوبارہ متعلق بنا دیا گیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ چند دن کے لیے شہر رنگین دکھائی دے؟ اس لیے کہ بازار گرم ہوں اور سرخیوں میں‘فیسٹیول’کا لفظ چمکے؟ اگر یہی معیار ہے تو پھر ہر سال حادثات، اموات اور جنازے اس فیسٹیول کا باقاعدہ حصہ ہوں گے۔ اور ہم ہر سال یہی بحث دہراتے رہیں گے کہ موت تو آنی ہی تھی۔ اعدادوشمار چیخ رہے ہیں۔ سیف کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق بسنت کی تیاریوں کے سلسلے میں شہر میں ایک ارب سے زائد کی ڈور اور پتنگیں فروخت ہو چکی ہیں،یہ ایک خطرناک کھیل کی معیشت ہے، جس کی لاگت انسانی جانوں سے وصول کی جاتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ اجازت دے اور ہدایات جاری کر دے۔ ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خطرے کو پہچانے، اس کی شدت کا درست اندازہ لگائے، اور پھر فیصلہ کرے کہ اجتماعی مفاد کس میں ہے۔ خوشی ایک انسانی حق ہے، مگر حفاظت بھی ایک بنیادی حق ہے۔ جب دونوں میں ٹکراؤ ہو تو ریاست کو ترازو اٹھانا پڑتا ہے۔ اور یہاں ترازو مسلسل انسانی جان کے خلاف جھک رہا ہے۔ یہ کہنا کہ سڑکوں پر حادثات ہوتے ہیں، اس لیے بسنت کے حادثات قابلِ قبول ہیں،یہ منطقی مغالطہ ہے۔ سڑکیں بند نہیں کی جاتیں، مگر قوانین سخت کیے جاتے ہیں، گاڑیاں محفوظ بنائی جاتی ہیں، ڈرائیونگ کے اصول نافذ کیے جاتے ہیں۔ کیا پتنگ بازی کے خطرات کو اسی سطح پر کم کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہر چھت، ہر گلی، ہر تار، ہر ٹرانسفارمر کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اصرار کس بات کا ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خوشی کو شور سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ ہم نے فیسٹیول کو تہذیب سمجھ لیا ہے، اور احتیاط کو بوریت۔ ہم نے جان کے نقصان کو‘کولٹرل’کہہ کر ضمیر کو سلایا ہے اور حکومت عوام کو یہی سکھا رہی ہے کہ خوش رہو۔ ریاست اگر ماں نہیں بن سکتی تو کم از کم محافظ تو بنے۔ اگر وہ یہ بھی نہیں کر سکتی تو پھر اسے خوشی بانٹنے کا حق کس نے دیا؟قبریں بھی کھودیں اور پھر حکم ہو کہ خاموش رہو،انصاف مانگیں تو کہا جائے کہ احتیاط کریں۔ احتیاط اس وقت معنی رکھتی ہے جب خطرہ قابلِ کنٹرول ہو۔ جب خطرہ ساختی ہو، اجتماعی ہو، اور بار بار جان لے رہا ہوتو احتیاط کافی نہیں ہوتی، فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ بسنت کو دوبارہ متعلق بنانے کا فیصلہ سیاسی تھا، مگر اس کے نتائج خالصتاً انسانی ہیں اور یہی سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ فیصلہ کسی ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں لیا گیا، مگر اس کی قیمت تپتی چھتوں پر، ننگی تاروں کے نیچے، اور اندھی گلیوں میں چکائی جا رہی ہے۔ ریاست اگر یہ سمجھتی ہے کہ چند دن کی خوشی، چند ڈرون شاٹس اور چند بیانات سے اجتماعی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے تو یہ خود فریبی ہے، اور بدترین قسم کی خود فریبی۔ کل جب ایک اور ماں اپنے بیٹے کی تصویر سینے سے لگا کر پوچھے گی کہ اس کا قصور کیا تھا، تو اس سوال کا جواب نہ کسی ضابطے میں ملے گا، نہ کسی کیمرے میں قید ہوگا۔ اس لمحے صرف یہ سوال باقی رہے گا کہ اگررنگوں کے پیچھے بہتے خون کا خطرہ و خدشہ معلوم تھا تو روکا کیوں نہیں گیا؟جس کا جواب ہر صورت حکومت وقت کے ذمہ ہے۔ Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
|