چین کا عالمی قدرتی ورثے کا تحفظ

چین کا عالمی قدرتی ورثے کا تحفظ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

قدرتی ورثہ کسی بھی ملک کے ماحولیاتی توازن، حیاتیاتی تنوع اور تہذیبی شناخت کا ایک اہم ستون ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں تیز رفتار ترقی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث قدرتی مقامات کو درپیش خطرات کے پیش نظر ان کا مؤثر تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے تناظر میں چین کی جانب سے عالمی قدرتی ورثے کے تحفظ سے متعلق حالیہ جائزہ رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک نے قدرتی ورثے کے تحفظ، انتظام اور پائیدار ترقی کے میدان میں نمایاں اور منظم پیش رفت کی ہے۔

ایک تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق چین کے عالمی قدرتی ورثے کے مقامات اور ثقافتی و قدرتی مخلوط ورثے کے مقامات مجموعی طور پر اچھی اور مستحکم حفاظتی حالت میں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مقامات پر انسانی سرگرمیوں کے باعث شدید نقصان یا ان کی عالمی غیر معمولی قدر کو لاحق کسی سنگین خطرے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ یہ رپورٹ چین کی قومی جنگلات و چراگاہوں کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں 1985 سے 2025 تک چین کے عالمی قدرتی ورثے کے تحفظ اور ترقی کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ چین کی پہلی ایسی رپورٹ ہے جو عالمی قدرتی ورثے کے اثاثوں کا جامع، منظم اور طویل المدت تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس جائزے کے ذریعے نہ صرف موجودہ حفاظتی صورتحال کو واضح کیا گیا ہے بلکہ مستقبل کے لیے پالیسی سازی اور انتظامی بہتری کی بنیاد بھی فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت چین میں 15 عالمی قدرتی ورثے کے مقامات اور چار ثقافتی و قدرتی مخلوط ورثے کے مقامات موجود ہیں، جس کے اعتبار سے چین دنیا میں سرفہرست ہے۔ یہ مقامات جغرافیائی لحاظ سے ملک کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں جنوب مشرقی ساحلی علاقے، چنگھائی-تبت سطح مرتفع اور شمال مغربی صحرائی خطے شامل ہیں۔

ان عالمی ورثے کے مقامات میں پہاڑ، جنگلات، چراگاہیں، جھیلیں، دلدلی علاقے، صحرا اور ساحلی خطے جیسے متنوع ماحولیاتی نظام شامل ہیں۔ یہ تنوع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کا قدرتی ورثہ نہ صرف وسعت میں بڑا ہے بلکہ اقسام کے لحاظ سے بھی مکمل اور ہمہ گیر ہے۔

ماہرین کے مطابق چین کے قدرتی ورثے کی نمایاں خصوصیت اس کی اعلیٰ قدر اور اقسام کا جامع ہونا ہے۔ مثال کے طور پر یون نان کے تین متوازی دریاؤں کے محفوظ علاقے عالمی قدرتی ورثے کے چاروں معیار پر پورا اترتے ہیں، جبکہ کوہِ تائی شان قدرتی مناظر کے معیار کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے کے تمام چھ معیار بھی پورے کرتا ہے۔ عالمی سطح پر ایسے مقامات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں، جو چین کے ورثے کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

چین کے یہ 19 قدرتی اور مخلوط ورثے کے مقامات تقریباً 80 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور ملک کے 20 صوبائی سطح کے علاقوں میں واقع ہیں۔ اس وسیع جغرافیائی پھیلاؤ نے مختلف علاقوں کے درمیان مشترکہ اور ہم آہنگ تحفظ کے تجربات فراہم کیے ہیں، جو ماحولیاتی نظم و نسق کے لیے نہایت قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔

گزشتہ برس چین کے عالمی ثقافتی و قدرتی ورثے کے تحفظ سے متعلق کنونشن میں شمولیت کے 40 سال مکمل ہوئے۔ اس عرصے کے دوران چین نے قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے منظم اور ہمہ جہت حکمتِ عملی اپنائی، جس میں قانون سازی، سائنسی تحقیق، مقامی شمولیت اور پائیدار استعمال جیسے پہلو شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے چین نے نہ صرف اپنے ورثے کو محفوظ بنایا بلکہ عالمی سطح پر قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے قابلِ قدر تجربات بھی فراہم کیے ہیں۔

وسیع تناظر میں چین کے عالمی قدرتی اور مشترکہ ورثے سے متعلق حالیہ رپورٹ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ منظم منصوبہ بندی، مضبوط انتظام اور طویل المدت وژن کے ذریعے قدرتی ورثے کو مؤثر طور پر محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ وسیع جغرافیائی تنوع، اعلیٰ عالمی قدر اور مستحکم حفاظتی حالت چین کے قدرتی ورثے کو عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام فراہم کرتی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف چین کے لیے ماحولیاتی توازن اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے بلکہ عالمی قدرتی ورثے کے تحفظ کی مشترکہ کوششوں میں بھی ایک مثبت اور تعمیری کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093555 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More